07:37 am
عہد ابتلا میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کے راستے

عہد ابتلا میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کے راستے

07:37 am

2012 ء میں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت میسر آئی تھی کہ حرمین شریفین کی زیارت اور عمرے کی سعادت میسر آئی تھی چونکہ سفر اور عمرے کی سعادت شاہ عبد اللہ حکومت کی طرف سے تھی لہٰذا بیت اللہ میں امام حرم مکی حافظ و قاری ڈاکٹر ماہر المعیقلی سے ملاقات اور بات چیت کا نادر موقعہ ملا تھا۔ ڈاکٹر ماہر المعیقلی جامہ ام القریٰ میں پروفیسر ہیں اور فقہہ شافعی میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے تھے۔ میرے ساتھ کافی علماء، د انشور، ماہرین علوم موجود تھے جب انہوں نے ہمیں متوجہ کیا کہ اسلام اور مسلمانوں پر وہی عہد ابتلاء ، عہد امتحان، عہد آزمائش واپس آگیا ہے جو مکی عہد میں اسلام اور مسلمانوں کو درپیش تھا، جو کچھ مسلمانوں نے (صحابہ کرامؓ اور ہمارے نبی محترم محمدﷺ) نے عدم تشدد، مفاہمت، مخالفانہ حالات کے سامنے صبرواستقامت اور ایمان و ایقان کی مضبوطی سے حاصل کیا تھا وہی کچھ اب مسلمانوں کو کرنا ہوگا تاکہ مخالفانہ عہد سے نجات ملے۔2012 ء سے اب تک ہم مسلمان کتنا سفر طے کر آئے ہیں؟ ہر مسلمان ملک امتحان اور ابتلاء میں ہے جبکہ ذاتی طور پر ہر مسلمان ابتلاء اور امتحان میں ہے۔ یہی تقدیر الٰہی ہے۔ 
تقدیر ایک مبرم ہوتی ہے اور کچھ تغیر و تبدل بھی رکھتی ہے۔ وہ تقدیر جو مبرم ہوتی ہے جیسے زندگی اور موت، ملکوں کی تاسیس و تشکیل و انہدام۔ بادشاہتوں کا قیام اور زوال۔ فتح و شکست جو قوموں کی زندگی میں وقوع پذیر ہوتی ہے مگر قرآن پاک کے مطالعے اور فہم سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آنکھ بند ہوکر کھلنے کے لمحات میں بھی ایسا حکم صادر فرما دیتے ہیں جو بالکل نیا، انوکھا، منفرد ہوتا ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ عہد ابتلاء ہیں۔ دکھ، تکلیف، صدمے میں نماز اور صبر کے ذریعے مسلمان اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے لئے جو عہد ابتلاء شروع ہے اس میں یہی واحد راستہ ہے۔ خالق اور اللہ تعالیٰ کی مدد، حمایت، نصرت کے حصول کا۔ اس تمہید کے بعد ذرا توجہ وجود پاکستان اور وجود ہندوستان کی طرف دیں  تو پتہ چلتا ہے کہ 14,15 اگست 1947 ء کو جب پاکستان تشکیل پارہا تھا تو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی فوج یعنی عسکری قوت کے موثر کردار کی بھی تخلیق ہوئی تھی مگر ہندوستان کی تخلیق15 اگست کو نہ ہوئی تھی بلکہ اسے انگریزوں سے صرف آزادی ملی تھی۔ دونوں کی تقدیر، تدبیر میں یہی بنیادی فرق ہے اسی سبب ہندوستان میں اقتدار میں فوج نہ آئی مگر اس کا ریاست کے حوالے سے واضح کردار موجود تھا اور  ہے۔
آزادی کے وقت برصغیر میں آزاد و خود مختار ریاستیں565 تھیں جنہیں ڈپٹی وزیراعظم، وزیر داخلہ سردار پٹیل نے بھارتی فوج کشی کے ذریعے ہندوستان میں ضم کیا تھا۔ گویا ہندوستان کی جغرافیائی، سیاسی، وحدت دینے کے لئے بھارتی فوج کا واضح کردار بلکہ ظالمانہ رویہ ادا ہوا تھا۔ اسی طرف ارون دھتی رائے نے متعدد بار اشارہ کیا تھا کہ بھارت وہ ملک ہے جس میں معصوم عوام کو کچلنے کے لئے اکثر فوج استعمال ہوئی۔ حیدر آباد، دکن، بھوپال ،جونا گڑھ ، کشمیر تو مسلمان ریاستیں تھیں مگر اکثر ہندو آزاد ریاستیں تھیں۔ ذرا غور کریں، سلطان ٹیپو کی بھی ایک میسور ریاست تھی۔ اس کی بہادری، جرات، دلیری، جہادی روح کے باوجود کیوں اس کا انہدام ہوگیا تھا؟ پاکستان کو مستقبل میں ایسے ہی حالات کا سامنا ہوسکتا ہے، یا ایسے حالات کا جب حیدر آباد  دکن اور جونا گڑھ پر ہندو ازم کی عسکری یلغار ہوئی تھی۔ مایوسی نہیں پھیلا رہا  بلکہ توجہ دلا رہا ہوں کہ بقوم امام ماہر المعیقلی مسلمانوں پر مکی عہد کی طرح کا مخالفانہ عہد واپس لوٹ آیا ہے۔ 
اقوام متحدہ میں ہمارے وزیراعظم عمران خان نے بہت عمدہ تقریر کی ہے۔ گزشتہ کالم میرا آپ پڑھ چکے ہیں عمران کی ذات کے حوالے سے سمجھتا ہوں کہ وہ انتہائی خوش قسمت ہیں کہ بشریٰ بی بی ان کی شریک حیات ہے۔ نماز، روزے اور امور دین سے خود کو وابستہ کیے ہوئے۔ ایک مسلمان عورت کا سراپا۔ وہ جب بھی باپردہ ہوکر باہر نکلتی ہے، حرمین جاتی ہے تو میں اطمینان محسوس کرتا ہوں کہ غیر منظم عمران کی زندگی کو منظم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بشریٰ بی بی کو عمران کی بیوی بناکر اس کی بہت زیادہ مدد کی ہے۔ عمران  کو گھریلو اور شخصی تنظیم دی ہے۔ اگر بشریٰ موجود نہ ہوتی تو عمران کی سیاست میں کامیابی اور وزارت عظمیٰ ہرگز نہ ہوتی۔ عمران خان کو اپنی بیوی کی نصائح پر اکثر توجہ دینی چاہیے۔ سفر کرتے ہوئے عمران واپس لوٹ رہے ہیں۔ 
اب پاکستان بھارت تعلقات 27 ستمبر کی تقریر کے بعد کافی خراب ہوسکتے ہیں ممکن ہے اندرون ملک سیاسی عدم استحکام بھی پیدا ہو جائے۔ ممکن ہے حکمران پارٹی میں بھی اندرونی انتشار اور کشمکش نمودار ہو جائے۔ اس سے اپوزیشن کو کچھ نہیں ملے گا۔ ریاست اور عوام کے لئے  مزید حالات معاشی طور پر ابتر ہوسکتے ہیں۔ اکتوبر کے آخری دنوں میں بطور خاص25,26,27 اکتوبر کو عمران پر بہت دبائو ہوگا۔ پاک بھارت کشمکش میں شدت آسکتی ہے۔ اندرونی مسائل زیادہ پیدا ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ریاستی ادارے کھل کر عمران کی مد کریں بلکہ عمران کی زندگی کی حفاظت میں ممکنہ اقدامات اٹھائیں کہ عمرن اس وقت پاکستان کا چہرہ ، کردار ہے۔ نومبر میں فوج کو کھل کر ریاست کی حفاظت کرنا ہوگی کیونکہ تشکیل پاکستان چودہ پندرہ اگست  کے دن فوج کا واضح کردار بھی تو تخلیق ہوا تھا۔ مسلمان اور مومن اللہ پر ایمان، صبرو استقامت کا راستہ اپناتا ہے اور نماز اور صبر کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرتا ہے۔ انشاء اللہ اللہ ہماری مدد فرمائے گا۔
قرآنی راہنمائی:  حکم الٰہی ہے کہ مایوس ہرگز نہ ہوں کیونکہ مایوس صرف کافر ہوتے ہیں۔ مسلمان ہر لمحے امید، توکل رجاء سے مسلح رہتا ہے۔

تازہ ترین خبریں