07:39 am
تقریر کا جشن اور طعنوں کی بھرمار

تقریر کا جشن اور طعنوں کی بھرمار

07:39 am

تقریر کا جشن منانے والوں کا اگر نشہ اتر گیا ہو تو وہ ذرا ایک نظر  مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی تازہ ترین حالت زار پر بھی ڈال لیں … اگر تو بھارتی نریندر مودی کی درندہ صفت فوج نے جنرل اسمبلی میں ترک صدر طیب اردگان، مہاتیر محمد اور عمران خان کی معرکتہ الآراء تقریروں کے بعد کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانا بند کر دیا ہے تو پھر تو یہ تقریریں ’’مبارک‘‘ … وگرنہ ’’تقریریں‘‘ تو فقط تقریریں ہی ہوتی ہیں۔
کیا کوئی آقا و مولیٰ حضرت محمد کریمﷺ سے بھی بڑا مبلغ یا مقرر ہوسکتا ہے؟ نہیں، نہیں، خدا کی قسم نہیں، اگر صرف تبلیغ اور تقریر سے ہی ضدی، اڑیل، ظالم اور جارح کافروں سے مظلوم مسلمانوں کی جان چھڑائی جاسکتی تو آپﷺ کو کبھی بدر، احد، خندق، خیبر،حنین اور تبوک کے میدانوں میں نہ نکلنا پڑتا؟
احد کے معرکے میں رحمت عالمﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے ۔ آپؐ کے مبارک رخسار زخمی ہوئے، آپؐ کی شہادت کی جھوٹی خبر پھیلا کر صحابہ کرامؓ کے حوصلوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن آپﷺ نے 27 غزوات اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے 55 سریات میں شرکت کرکے  قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ مسئلہ سمجھانے کی کوشش کی جب تبلیغ کا وقت آئے تبلیغ کرو، تقریر کا وقت آئے تقریر کرو لیکن جب وقت جہاد آن پہنچے تو پھر ’’چونکہ، چنانچہ، اگرچہ، مگرچہ، آئیں، بائیں، شائیں‘‘ کرنے کی بجائے خم ٹھونک کر جہادی میدانوں میں نکل پڑو۔
عمران خان کے الفاظ بھی اچھے تھے، انداز بھی اچھا تھا ، تقریر بھی اچھی تھی، دن بھی اچھا تھا، اگر تو مقصد واہ ، واہ کروانا اور تقریر کا جشن منانا تھا تو وہ بھی خوب ہوگیا ، بلکہ بعض مولوی صاحبان بھی شریک جشن رہے۔اب جنرل اسمبلی کے تاریخ ساز ’’مقرر‘‘ بعض ’’نابغوں‘‘ کے تاریخی لیڈر  وزیراعظم عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ ایک کروڑ سے زائد کشمیر کے ’’پاکستانیوں‘‘ کو بھارتی تسلط سے آزادی دلوانے کے لئے اعلان جہاد کریں، کشمیر میں ظلم و ستم کا شکار جو مسلمان وزیراعظم عمران خان کی تقریر سے خوش ہیں اگر عمران خان ان کو آزادی دلوانے اور نریندر مودی جیسے بدمعاش کو سبق سکھانے کے لئے اعلان جہاد کر دیں تو مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی خوشی فزوں تر ہو جائے گی، رہ گیا مسئلہ ناموس رسالتؐ اور اسلام فوبیا کے حوالے گفتگو کا، یقینا اس بارے عمران خان کو مسلمانوں کی ہی ترجمانی کرنی چاہیے تھی، کیونکہ جنرل اسمبلی میں وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے گئے تھے۔ ایک نظریاتی مملکت کے وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں ایسا ہی خطاب کرنا چاہیے تھا انہوں نے اچھا خطاب کیا تبھی تو تحریک انصاف جشن منارہی ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر خطاب اس کے برعکس ہوتا تو جشن منانے والوں کا اس وقت کیا ردعمل ہوتا؟ اب زمینی حقیقت کی طرف آئیے، اگر آسیہ ملعونہ گستاخ رسول نہیں تھی تو پھر پوپ پال، امریکہ اور یورپ کے حکمرانوں سے لے کر سیکولر فاشسٹوں تک نے اس ملعونہ کے کیس میں غیر معمولی دلچسپی کیوں لی؟ اور وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں اس کی رہائی کا کریڈٹ لے کر اسے باہر بجھوانے کی ذمہ داری کیوں اٹھائی تھی؟ جس ملعون قادیانی نے ٹرمپ کے دربار میں پاکستان کو بدنام کیا اور ملعون سلمان تاثیر کے جس بیٹے نے ’’پاکستان‘‘ کے خلاف اس کی ترجمانی کی ، عمران خان حکومت نے ان کے خلاف کیا ایکشن لیا؟
ٹھیک کہا عمران خان نے نبی محترم ﷺ ہر مسلمان کے دل میں بستے ہیں جبھی تو آقاء مولیٰﷺ کے کسی گستاخ کی رہائی مسلمان برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان تقریر کا کوئی فائدہ نہیں یہ بھی غلط ہے۔ تقریر اگر موثر ہو تو اس کے فوائد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن وزارت خارجہ یا بیرون ممالک پاکستانی سفارت کاروں میں اگر ’’سمجھ‘‘ ہوتی تو وہ اب تک دنیا کو مسئلہ کشمیر نہ سمجھا چکے ہوتے؟ جن پاکستانی سفارت خانوں میں حسین حقانی اور واجد شمس الحسن جیسے ’’وفادار‘‘ رہ چکے ہوں، وہ سفارت خانے اس ’’تقریر‘‘ سے کیا فوائد سمیٹتے ہیں یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا؟ سوشل  میڈیا پر پی ٹی آئی کے فیس بکیوں کی پوسٹیں اور حکومتی ترجمان کے بیانات سے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے جنرل اسمبلی میں عمران خان کا خطاب مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن جماعتوں کے لئے تھا، کیونکہ ’’تقریر‘‘ کے حوالے سے ان کا روئے سخن عالمی طاقتوں کی بجائے پاکستانی اپوزیشن جماعتیں ہیں۔ عمران خان کی تقریر تو مودی کے مظالم اور عالمی حالات کے تناظر میں تھیں مگر مشیر اطلاعات فرماتی ہیں کہ ’’اسلام کے ٹھیکیداروں کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ گئی، آزادی مارچ والوں کا چورن اب بکنے والا نہیں، اسلام کے ٹھیکیداروں کی فلم سینما میں لگنے س پہلے ہی فلاپ ہوگئی۔‘‘
کہاں جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کی ’’تاریخ ساز تقریر‘‘ اور کہاں اسلام آباد میں ہونے والا ’’مولانا‘‘ کا آزادی مارچ؟ بھلا ان دونوں کی آپس میں کیا نسبت ہے؟ لیکن حکومتی ٹیم میں شامل ’’ارسطو‘‘ جنرل اسمبلی کی تقریر کو بھی کھینچ کھانچ کر آزادی مارچ پر فٹ کرنے کی کوشش کررے ہیں تو پھر’’مولانا‘‘ کے ساتھیوں کا یہ دعویٰ سچ لگنے لگتا ہے کہ آزادی مارچ کے اعلان نے حکومتی ٹیم پر بوکھلاہٹ طاری کر دی ہے۔
ایک تاریخ ساز ’’مقرر‘‘ کی ٹیم میں شامل ’’ارسطو‘‘ ان کے دعوے کے مطابق ایک تاریخی ’’تقریر‘‘ کا حشر جب اس طرح سے کرنے کی کوشش کریں گے تو دنیا اس سے کیا تاثر لے گی؟ اللہ کرے کہ وزیراعظم عمران خان کی تقریر  کا دہلی پر اثر ہو، پینٹا گون، یروشلم اور لندن کے حکمرانوں پر بھی اثر ہو، لیکن خدانخواستہ اس تقریر کا ان پر اثر نہ ہوا تو وہ کیاکریں گے؟ میرے سمیت ہر پاکستانی وزیراعظم کی تقریر کے الفاظ سے خوش ہے لیکن اگر ان کی ٹیم کے ساتھی وزیراعظم کی ’’تقریر‘‘ کو حکومت مخالفین کے لئے طعنے کے طور پر استعمال کریں گے تو اس سے حکومت کا ہی نقصان ہوگا؟
وزیراعظم عمران خان امریکہ سے واپس پہنچے تو کہا کہ ’’کشمیریو ں کے ساتھ کھڑا ہونا  بھی جہاد ہے‘‘ سر جی! ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ ریاست اعلان جہاد کرے ، لیکن صرف ’’کھڑا‘‘ رہنے تک نہیں بلکہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ مل کر اس جہاد کو بھارتی فوج کے تعاقب کرنے تک پھیلا دیا جائے تو پھر کچھ بات بنے، چلیں امریکہ سے واپسی پر عمران خان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے بعد ’’جہاد‘‘ تک تو آئے۔ مجھے امید ہے کہ وہ بھارتی فوج کے تعاقب اور ان سے دوبدو لڑنے والے جہاد کی طرف بھی آہی جائیں گے۔ (ان شاء اللہ)

تازہ ترین خبریں