07:40 am
کشمیر:ایٹمی فلیش پوائنٹ

کشمیر:ایٹمی فلیش پوائنٹ

07:40 am

کشمیرکی صورتِ حال صاف بتارہی ہے کہ تہذیبوں کی بنیادپرقائم دنیا کیسی دکھائی دیتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کوجوتے کی نوک پررکھنے کے حوالے سے مودی،نیتن یاہو اور ٹرمپ ایک صف میں بلکہ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ 
اہلِ کشمیرکوآزادی یاحق خودارادیت سے محروم کرنے کے حوالے سے مودی کاحالیہ اقدام کاتاریخی اعتبار سے درست اندازہ لگانے کیلئے ہمیں1952ء میں تب کے بھارتی وزیراعظم نہرو کے الفاظ پرغورکرناہوگاکہ کشمیر بھارت کی جاگیر ہے نہ پاکستان کی،یہ توکشمیریوں کا ہے۔ جب جموں وکشمیرکاپاکستان سے الحاق کیا گیا تھا تب ہم نے کشمیری قیادت اورعوام دونوں پر واضح کردیاتھاکہ ہم حرفِ آخرکے طورپروہی بات مانیں گے جواستصواب رائے میں کہی گئی ہوگی۔ اگر کشمیری ہم سے کہیں گے کہ کشمیرسے نکل جاؤ توہم ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے وہاں سے نکلنے میں ذراسی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ہم نے معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچایاہے اوریہ عہدبھی کیاہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے حوالے سے عالمی برادری کے فیصلے کامکمل احترام کیاجائے گا۔ایک عظیم ملک ہونے کے ناطے ہم اس معاملے میں وعدہ خلافی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
بھارت میں برطانوی راج ختم کرانے کی تحریک میں نہرو پیش پیش رہے۔جنوبی ایشیاکے امورکے ماہرولیم ڈیلرمپل کے الفاظ میں’’مودی ملک کوجدیدخطوط پرایک حقیقی روادار، جمہوری قومی ریاست کی شکل دینے کاخواب دیکھنے والے اپنے قائدین کی امنگوں اورآرزووں سے بہت دورلے گئے ہیں۔مودی نے جوکچھ کیااس کے عواقب کاانہیں بھی خوب اندازہ تھا۔انہوں نے جموں وکشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے دراصل آگ سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ سابق امریکی صدرکلنٹن نے کشمیرکو دنیا کا خطرناک  ترین علاقہ قراردیاتھا ۔ میڈیاکے بھارتی اداروں نے رائے عامہ کے جن جائزوں کااہتمام کیاہے ان میں دوتہائی سے زائد کشمیریوں نے آزادی کی خواہش کااظہارکیاہے۔‘‘
مودی نے اندازہ لگایاتھاکہ انتہاپسند ہندوئوں کے حملوں کاسامناکرنے والے بھارتی مسلمان جموں وکشمیرکے حوالے سے ان کے اقدام کومستردکردیں گے۔مودی نے جموں و کشمیر میں دس ہزاراضافی فوجی تعینات کیے،سیاسی قائدین کوپابندِسلاسل کیا، سیاحوں اورزائرین کووادی سے نکل جانے کاحکم دیا،تعلیمی ادارے بندکیے اور فون سروس اورانٹرنیٹ دونوں پرپابندی عائد کر دی۔ 
مودی کے اقدام کی ٹائمنگ بھی ایسی ہے کہ نظراندازنہیں کی جاسکتی۔ یہ اقدام ٹرمپ کی طرف سے کشمیرکے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کے فوری بعد کیاگیاہے۔یہ پیشکش بھارت نے یکسرمستردکردی تھی۔بھارت کو امریکہ اور طالبان  کے درمیان مذاکرات بھی ایک آنکھ نہیں بھائے ہیں۔بھارت جانتاہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی اوراقتدارممکنہ طورپر طالبان کے ہاتھ میں آجائے گا۔ایساہواتو افغانستان میں پاکستان کی پوزیشن ایک بارپھرمستحکم ہوجائے گی اوربھارت کیلئے مشکلات پید ا ہوں گی جووہاں اچھی خاصی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔
نہرونے عظمت کاتصوربھارتی قوم پرستی سے وابستہ کیاتھا۔مودی نے عظمت کونئے سیاق وسباق میں پیش کرنے کیلئے اِسے ہندوقوم پرستی سے نتھی کردیاہے۔ان کے پیش روئوں نے کشمیرکے حوالے سے جوقانونی،سیاسی اوراخلاقی کمٹ منٹس کی تھیں انہیں لپیٹ کرایک طرف رکھ دیاگیاہے۔مودی کاشمار ان سفاک قائدین میں ہوتاہے جواپنے ملک کی سرحدوں کوتاریخی سیاق وسباق میں بیان کرتے ہیں۔وہ ہندوتہذیب کی نمائندگی بین الاقوامی طورپرتسلیم شدہ سرحدوں،آبادی یازبان کے بجائے وسیع ترتاریخی تناظر میں بیان کرتے ہیں۔یہ تہذیبی موقف دوسروں کے حقوق کوصریحامستردکرتاہے۔اس معاملے میں مودی اورنیتن یاہومیں کوئی فرق نہیں گو کہ1967کی عرب اسرائیل جنگ میں جن فلسطینی علاقوں پراسرائیلی افواج نے قبضہ کیاتھاانہیں اسرائیل میں نیتن یاہو کے پیش رووں نے شامل کیا تھا۔
مودی کوامریکی ٹرمپ سے شہہ ملی ہے جنہوں نے اردن سے جیتے ہوئے مشرقی بیت المقدس اورشام سے جیتی ہوئی گولان کی پہاڑیوں کواسرائیل کاباضابطہ حصہ بنانے کے عمل کی توثیق کی اوریوں غرب اردن میں اسرائیلی بستیوں کے قیام کو بھی قانونی طورپر درست تسلیم کرلیا۔ ٹرمپ،مودی اورنیتن یاہونے ثابت کردیاہے کہ وہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ قومی ریاست کے اس تصورکوبھی بالائے طاق رکھیں گے، جو 1648 ء کے ویسٹ فیلیا معاہدے میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ تمام رہنما قومی، اقلیتی،نسلی،مذہبی اوربنیادی انسانی حقوق کو نظراندازکرنے کے حوالے سے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔یہ تمام قائدین اِس وقت اپنی ظلم وستم اورناانصافی پرمبنی پالیسیوں پر فخر محسوس  کرسکتے ہیں کہ اِنہوں نے کسی بھی سطح پر جوابدہی سے بہت بلند ہوکرنئے عالمی نظام کے ڈھانچے پر استعماری گوشت مڈھ دیا ہے۔مودی کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو یکطرفہ طورپرختم کرکے اس نے ایک پرانا انتخابی وعدہ پوراکیاہے۔
توسیع پسندی کشمیرمیں ہویاپھرمقبوضہ فلسطینی  علاقوں میںاِن سے قلیل المیعاداورطویل المیعاد بنیادپرتشددکی راہ ہموار ہوتی ہے،عوام میں بہت بڑے پیمانے پراضطراب جنم لیتاہے، جس سے بہت کچھ ہوسکتاہے اورسب سے بڑھ کریہ کہ ایسی توسیع پسندی سے پاکستان اوربھارت جیسے ممالک کے درمیان جوہری جنگ کے خطرے کاگراف بہت بلندہوجاتاہے ۔

تازہ ترین خبریں