07:41 am
 سبحان اﷲ ماشاء اﷲ! 

 سبحان اﷲ ماشاء اﷲ! 

07:41 am

ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے سربراہ کو جس وقار اور حکمت سے عالمی برادری کو مخاطب کرنا چاہیے ہمارے وزیراعظم نے بالکل اُسی انداز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ طرز حکمرانی سے اختلاف کی گنجائش باقی ہے‘ لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ دلوں کو چھو لینے والے اس تاریخی خطاب کی دل سے تحسین کی جائے۔ 
دیکھنا تقریر کی لذت کو، کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
وزیراعظم اقوام متحدہ میں اپنی جماعت تحریک انصاف کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے نمائندہ بن کے گئے تھے اور جب واپس لوٹے تو ان کا شمار ان گنے چنے راہنمائوں میں ہو رہا ہے جو غیرت ایمانی کے ساتھ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسلم دنیا کا مقدمہ لڑ نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے پانچ اگست کو بھارت کی مقبوضہ کشمیر پر تازہ آئینی یلغار کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے تناظر میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں کشمیریوں کے وکیل بنیں گے ۔ 
اﷲنظر بد سے بچائے ! نیویارک میں وزیر اعظم نے کشمیریوں کی وکالت کا حق اداکر دیا ہے۔ سات دن میں ستر ملاقاتوں   اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر فہم و دانش پر مبنی گفتگو سے دنیا پر یہ واضح کیا کہ نہ تو بھارت ایک جمہوریہ ہے نہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘ نہ  ہی اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی افغانستان میں عشروں سے جاری بد امنی کی ذمہ داری مقامی عناصر پر عائد کی جاسکتی ہے۔ مذہبی منافرت اور توہین رسالت جیسے بد ترین جرائم کے مرتکب مجرموں کو اپنے دامن میں پناہ دینے والی مغربی دنیا  مسلمانوں کو طعنے دینے کے بجائے  اپنے گریبان میں جھانک کر اصلاح احوال کا اہتمام کرے۔  علاقائی او ر بین الاقوامی مسائل پر موثر ترجمانی تو قابل تعریف ہے ہی لیکن جس خوبی اور ایمانی فراست کے ساتھ وزیراعظم نے اسلامو فوبیا کے تیزی سے پھیلتے رجحان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کی ناموس و حرمت جیسے حساس ترین معاملے سے مسلمانوں کی والہانہ وابستگی کا تذکرہ کیا اُس سے ہر مسلمان کا دل جھوم اُٹھا ۔ 
بلاشبہ ناموس رسالتﷺ جیسے بنیادی نوعیت کے مسئلے پر ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے وزیراعظم کو اسی غیرت دینی کے ساتھ مسلم امہ کے جذبات کی ترجمانی کرنی چاہیے تھی۔ راقم کے سترہ ستمبر کو شائع ہونے والے کالم کا عنوان تھا بے روح تقریر نہیں چاہیے! اس کالم میں مسئلہ کشمیر، بھارتی جارحیت ، ناموس رسالت اور مغربی دنیا میں اسلام کے متعلق تیزی سے پھیلتی منافرت کے حوالے سے جو تجاویز پیش کی گئی تھیں الحمدﷲ وزیر اعظم کی تقریر میں ان تمام مسائل  پر  توقعات سے بڑھ کر ترجمانی کی گئی ۔ بلاشبہ جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم کے جرات مندانہ خطاب نے مغربی دنیا کو جھٹکا لگایا ہے ۔ پچاس منٹ پر محیط اس خطاب نے عالمی برادری کو آئینہ دکھاتے ہوئے اپنے گریبان میں جھانکنے کی تلقین کی ہے۔ عالمی برادری کے چوہدری یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ اپنے مسائل میں گھرے پاکستان کا وزیراعظم اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عالم اسلام ، غریب ترقی پذیر اقوام اور مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ اس انداز میں لڑے گا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں خود کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا محسوس کریں گی۔ 
دنیا کو یہی توقع تھی کہ حسب سابق پاکستانی وزیر اعظم لکھی ہوئی بے روح تقریر پڑھنے کی رسم پوری کر کے چلتا بنے گا ۔ ذاتی مفادات کے اسیر سابقہ حکمرانوں کی طرح اپنے مغربی آقائوں کی نقالی کرتے ہوئے پاکستان کا موجودہ وزیراعظم بھی برانڈڈ سوٹ میں نکٹائی کا پھندہ لگا کر حق بات کہنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھے گا ۔ تمام توقعات کے برعکس ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب سے پہلے ہی وزیراعظم نے جارحانہ سفارت کاری کا آغاز کر ڈالا ۔ قومی لباس میں ملبوس سادگی کا پیکر بنے اس شخص نے تن تنہا وہ کام کر ڈالا جو گذشتہ پچاس برسوں میں بھانت بھانت کے حکمران اور نکما دفتر خارجہ نہیں کر پایا ۔ یہ سعادت وزیر اعظم کے حصے ہی آئی کہ عالمی فورم پر ختمی مرتبت نبی مکرم حضرت محمد مصطفیﷺ کی  ناموس کے معاملے پر انہوں نے واشگاف الفاظ میں عالمی برادری کو مسلمانوں کے قلبی جذبات اور تحفظات سے آگاہ کیا ۔ ملعون شاتم سلمان رشدی کو پناہ دینے والوں کی مذمت کی ۔  
کمال جرات سے یہ کہتے ہوئے آئینہ دکھایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کامیڈی فلم مغرب میں برداشت کی جاسکتی ہے لیکن مسلم دنیا میں نبی محترم ﷺ  ہی نہیں  تمام ابنیاء علیہم السلام اجمعین  کی شان میں گستاخی کا تصور بھی محال ہے۔ یہ کیا منافقت ہے کہ مغرب عورت کو کپڑے اتار کر بر سر عام برہنہ ہونے کا حق تو دیتا ہے لیکن حجاب کی شکل میں ملبوس میں معمولی سا اضافہ دینے کو تیار نہیں ۔ روس کے خلاف افغانیوں کی جنگ تو غیر ملکی قابض فوج کے خلاف  جنگ آزادی اور جہاد قرار پائے لیکن امریکی تسلط کے خلاف افغانیوں کی جنگ کو دہشت گردی کا لیبل لگا دیا جائے۔  مغربی  اداروں سے سند یافتہ اور زندگی کا بڑا حصہ آنکھیں خیرہ کرنے والی رنگینیوں سے لبریز مغربی  معاشرے میں گذارنے والے عمران خان سے کڑوے سچ پر مبنی ایسی کٹیلی اور دوٹوک گفتگو کی توقع کسی کو نہ تھی ۔ اس تقریر نے درویش لاہوری حضرت اقبال ؒ کا یہ شعر یاد دلا دیا :
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
مسئلہ کشمیر اور بھارتی جارحیت تو  تقریر کا مغز تھا۔ مودی نے ہیوسٹن میں  ٹرمپ کے ساتھ سرکس نما جلسے میں پاکستان پر جو الزامات عائد کئے تھے وزیر اعظم کی تقریر نے اُن کا بھرپور جواب دے ڈالا ہے۔ دنیا انگشت بدنداں ہے کہ آر ایس ایس جیسی نسل پرست شدت پسند تنظیم کا تاحیات رکن اور ہزاروں مسلمانوں کا قاتل مودی آج دوسری مرتبہ بھارت کا پردھان منتری بن بیٹھا ہے۔ بھارت کی مسخ شدہ جمہوریت کے چہرے سے سیکولرازم کا نقاب اترا ہے اور اندر سے اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا کی بھیانک شکل برآمد ہوئی ہے۔ کشمیر میں نسل کشی اور پورے بھارت سے مسلمانوں کا صفایا ہی دراصل آر ایس ایس اور اُس کی بغل بچہ تنظیموں کا حقیقی منشور ہے۔ 
پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے!  دنیا سوا ارب کی مارکیٹ کو دیکھے گی یا آٹھ ملین انسانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا پاس کرے گی؟ دو ایٹمی طاقتوں میں  جنگ ہوئی تو اس کے اثرات ہماری سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ رقبے اور آبادی میں بھارت سے سات گنا چھوٹا ہونے کے باوجود اگر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان ہتھیار نہیں ڈالے گا بلکہ آخری حد تک جاتے ہوئے لڑے گا ۔ کیونکہ مسلمان کا ایمان ہے لاالہ الا اﷲ! یہ بتانے کی ضرورت تو  نہیں کہ کلمہ گو کی لڑائی کو جہاد کہا جاتا ہے۔ دلی ، واشنگٹن اور تل ابیب سمیت مسلم دشمن مراکز میں اس خطاب سے بھونچال آیا ہوا ہے۔ تقریر سننے والے ہر نیک نیت مسلمان کی زبان سے بے اختیار کہہ رہی ہے سبحان اﷲ ! ماشاء اﷲ!

تازہ ترین خبریں