07:41 am
وزیر اعظم کے طیارے کا مسئلہ

وزیر اعظم کے طیارے کا مسئلہ

07:41 am

٭’’کشمیریوںکا ساتھ دینا جہاد ہے‘‘ عمران خانO کشمیر پر ہم حکومت کے ساتھ متحد ہیں شہباز شریفO وزیراعظم پاکستان کے طیارہ میں نقص، سنگین مسئلہO بھارت: پاکستان کی حمائت پر ترکی کے خلاف مشتعل، ترکی کے مخالف یونان، قبرص، آرمینیا کے حکمرانوں سے ملاقاتیں O مقبوضہ کشمیر: موت پر اظہار افسوس کی بھی اجازت نہیں:محبوبہ مفتیO محبوبہ مفتی کی بیٹی ’التجا‘ کا بھارت کے خلاف سخت بیانO وزیراعظم پاکستان میرپور میں۔
٭وزیراعظم عمران خان نے پاکستان واپس پہنچ کر کہا ہے کہ کشمیریوں کا ساتھ دینا جہاد ہے، کوئی دوسرا ساتھ دے نہ دے، ہم ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہمارے ہاں عام طور پر جہاد کے معنی دشمن کے ساتھ اسلحہ کی جنگ کے لئے جاتے ہیں۔ یہ درست ہے مگر جہاد کا لفظ دوسرے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً برائیوں کے خلاف جہاد وغیرہ۔ یہ عربی کا لفظ ہے اور جِدّوجُہد کے ہم معنی ہے۔ (صحیح لفظ ’’جِدّو جُہَد‘‘)۔ لُغت میں جہاد کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں۔-1 کوشش، جدوجہد، دین کی حمائت کے لئے ہتھیار اٹھانا، جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرنا۔-2 جہادِ اصغر: کافروں کے خلاف ہتھیار اٹھانا۔-3 جہاد اکبر، نفس کو مارنا، ریاضت (تصوف کی اصطلاح)۔ جہاد بالسیف: حق کی حمائت میں ہتھیاروں سے جنگ کرنا…جہاد بالقلم: حق کی حمائت میں اٹھانا… جہاد باللسان: زبان سے حق کی بات کرنا۔ اتنی وضاحت کافی ہے۔
٭وزیراعظم پاکستان کی نیویارک سے روانگی کے 5 گھنٹے بعد نیویارک واپسی معمہ بن گئی ہے۔ یہ نہائت فکر انگیز بلکہ سنگین واقعہ ہے مگر اس پرپراسرار خاموشی طاری ہے۔ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ بحراوقیانوس پر ڈھائی گھنٹے پرواز کے بعد طیارے کا برقی نظام فیل ہو گیا تھا، اسے ڈھائی گھنٹے کی مزید پرواز کے بعد واپس نیویارک لایا گیا اور وزیراعظم کو مزید ایک روز نیویارک ٹھہرنا پڑا۔ یہ معمولی بات نہیں، اس پربہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں؟ کیا یہ کوئی سازش تھی؟ یہ طیارہ معمولی نہیں، سعودی ولی عہد کا تھا۔ دنیا کے دولت مند ترین ملک کے ولی عہد کے طیارہ میں کوئی نقص پیدا ہونا بعیداز فہم ہے۔ یہ طیارہ اندر سے سات سٹار ہوٹل سے بھی زیادہ پرتعیش ہے۔ اندر شاہانہ خواب گاہ، باورچی خانہ، سینما گھر، دوسری تفریحات ہیں۔ ایک سے زیادہ پائلٹ اور متعدد سکیورٹی گارڈز ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے زیر استعمال اس وقت چھ جدید ترین بوئنگ طیارے اور ایک ایئربس ہے۔ دو جدید طیارے اربوں ڈالر سے صرف ولی عہد محمد بن سلمان کے لئے حال ہی میں خریدے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک طیارہ وزیراعظم پاکستان کو نیویارک آنے جانے کے لئے پیش کیا گیا تھا۔ یہ بالکل نئے طیارے ہیں۔ شاہی سفر کے لئے ان کی مسلسل دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ان کی ہر وقت چیکنگ کے لئے کثیر تعداد میں انجینئر ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ ان میں سے کسی طیارے میں اچانک برقی نظام کا فیل ہو جانا معمولی بات نہیں، اس کے پس منظر میں متعدد سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ طیارہ سات روز تک نیویارک کے ہوائی اڈے پر کھڑا رہا۔ کیا ان سات دنوں میں اس کی دیکھ بھال نہ کی گئی! کیا کوئی پراسرارسازش کی گئی کہ عین گہرے سمندر کے اوپر رات کے اندھیرے میں طیارے کا اہم ترین سسٹم فیل ہو جائے؟ یہ واقعی سازش تھی تو کیسے عمل پذیر ہوئی جب کہ وزیراعظم پاکستان نے سات دنوں میں مسلسل بھارت کی ’نقاب کشائی‘ کر رہے تھے؟ یہ حقیقت ہے کہ برسوں کے بعد پاکستان کو ایک دبنگ وزیراعظم میسر آیا ہے جو کسی کا لحاظ کئے بغیر بڑی سے بڑی طاقتوں کو بھی للکار رہا ہے۔ ایسا شخص کیا دنیا کی سامراجی قوتوں کو قابل قبول ہو سکتا ہے؟ یہ بہت اہم سوال ہے (بھارت کچھ بھی کر سکتا ہے!) مگر دوسرے سوالات بھی کم اہم نہیں! طیارے میں اچانک کوئی ایمرجنسی ہو گئی تھی، ایک اہم نظام فیل ہو گیا تھا تو طیارے کو فوراً کسی نزدیک ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرانا چاہئے تھی مگر اسے پھر ڈھائی گھنٹے تک سفر کرایا گیا! یہ کیسا ’غیر محفوظ‘ نظام تھا کہ طیارہ بحفاظت ڈھائی گھنٹے کا سفر کرتا رہا؟ عجیب سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا وزیراعظم پاکستان کو کسی گوشے سے کسی اہم مقصد کے لئے واپس بلایا گیاتھا؟ پرواز سے قبل ہر طیارے کو محفوظ ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے، کیا اس طیارے کو محفوظ قرار دیا گیا؟ ممکن ہے سکیورٹی اور رازداری کا معاملہ ہو، یہ بات سامنے نہیں آ سکی کہ وزیراعظم نے نیویارک میں ایک اضافی دن کیسے گزارا؟ یہ بات بھی سامنے نہیں آئی کہ سعودی عرب کی حکومت نے اس معاملے کا کیا نوٹس لیا ہے؟ یہ طیارہ کیسے ٹھیک ہوا؟ اب کہاں ہے؟ اس معاملے میں سعودی عرب کی فوری وضاحت ضروری ہے ورنہ شک و شبہ کے دائرے دور تک پھیل سکتے ہیں!…ایک سادہ بات کہ بھارتی انتہا پسند حلقے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو بھارت اور مودی سب سے بڑا دشمن قرار دے رہے ہیں یہ حلقے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ایک اوربات کیلئے خبردار کر رہا ہوں کہ بھارتی خونخوار آدم خوروں کے ہاتھوں پاکستان میں کمی بھی بڑے نام کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آ سکتا ہے جس سے ملک میں انتشار پھیل جائے، بہت محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
٭دلچسپ بات! جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیراعظم مودی نے 15 منٹ اور وزیراعظم عمران خان نے 50 منٹ بات کی تھی۔ مودی نے تقریر میں پاکستان اور کشمیر کا نام نہیں لیا، عمران خان نے زیادہ زورمقبوضہ کشمیر پر ہی دیا۔ دونوں وزرائے اعظم واپس آئے، ہوائی اڈوں کے باہر دونوں کا استقبال ہوا۔ اسلام آباد کے باہر استقبال کرنے والوں کا جم غفیر ٹیلی ویژنوں پر آتا رہا۔ دہلی کا استقبال سامنے نہ آ سکا مگر بھارتی میڈیا نے طوفان اٹھا دیا کہ نریندر مودی نے جنرل اسمبلی میں پاکستان کو جو زبردست شکست دی ہے۔ اس پر پورا بھارت استقبال کے لئے دہلی کے ہوائی اڈے پر  آیا!
٭اہم بات کہ ترکی کے صدر اردوان نے جنرل اسمبلی میں پاکستان کی جو واضح اور دوٹوک حمائت کی، اس پر آگ بگولا ہو کر بھارت کے وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں موجود ترکی کے تین کٹڑ دشمن تین ممالک یونان، قبرص اور آرمینیا کے حکمرانوں سے فوری ملاقاتیں کیں اور ان حکمرانوں کو ترکی کے خلاف ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ ان میں یونان کا وزیراعظم ’کاریاکوس‘ قبرص کا صدر انانٹا اور آرمینیا کا وزیراعظم پاشی نیان شامل تھے۔ ان ملکوں کے ترکی کے ساتھ دیرینہ جھگڑے چل رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے ترکی کے صدر اردوان کو بھی بھارت کا سخت دشمن قرار دے دیا ہے۔
٭ٹائمز آف انڈیانے مقبوضہ کشمیر کی نظربند سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی چھوٹی بیٹی ’’التجا‘ کا ایک سخت قسم کا انٹرویو شائع کیا ہے۔ محبوبہ کی صرف دو بیٹیاں ثنا اور التجا ہیں۔ التجا نے دہلی سے بین الاقوامی امور میں ایم اے کیا ہے۔ ثنا سیاست میں اور التجا ممبئی کے ثقافتی حلقوں میں چلی گئی تھی۔ وہ سیاست سے الگ تھلگ رہی تھی۔ ٹائمز آف انڈیا کے ایک رپورٹر نے اس سے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر مختلف سوالات کئے تو وہ اُبل پڑی۔ خاصا طویل انٹرویو ہے۔ مختلف سوالات کے جواب میںچند مختصر باتیں یہ ہیں۔ ’’میں بڑی مشکل سے اپنی ماں محبوبہ مفتی سے مل سکی ہوں۔ اس نے اور میرے نانا سعید مفتی نے چھ برس بھارت کی خدمت کی، اس کا آج یہ صلہ ملا کہ ماںکو قید کر دیا گیا۔ دو لیڈی پولیس افسر مجھے تقریباً گھسیٹ کر ماں کے پاس لے گئیں…تم کہہ رہے ہو کہ اس خطے کو ترقی دینے کے لئے اس کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا گیا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ ترقی کے لئے امن ضروری ہوتا ہے۔ کشمیر میں امن ہے تو کرفیو کیوں لگایا؟ ذرا کرفیو اٹھا کر دیکھو کیسا امن برپا ہوتا ہے؟ تم کہہ رہے ہو کہ کشمیر (مقبوضہ) سے بھارتی اقدام کے حق میں بہت سی آوازیں اٹھی ہیں! پورے علاقے کو قبرستان بنا دیا، ٹیلی فون وغیرہ بند کر دیئے، تشدد کی انتہا کر دی، تمہیں مودی کے حق میں آوازیں کہاں سے آ گئیں…!  

تازہ ترین خبریں