07:38 am
نیت کی اہمیت 

نیت کی اہمیت 

07:38 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
مباح کام میں اچھی نیتیں نہ کرنے والے نقصان میں ہیں: اگر کوئی مباح کام بری نیت سے کیا جائے تو برا ہو جائے گا اور اچھی نیت سے کیا جائے تو اچھا اور کچھ بھی نیت نہ ہو تو مْباح رہے گا اور قیامت کے حساب کی دشواری درپیش ہو گی لہٰذا عقلمند وہی ہے کہ ہر مباح کام میں کم از کم ایک آدھ اچھی نیت کرہی لیا کرے، ہو سکے تو زیادہ نیتیں کرے کہ جتنی اچھی نیتیں زیادہ ہوں گی اُتنا ہی ثواب زیادہ ملے گا۔ نیت کا یہ بھی فائدہ ہے کہ نیت کرنے کے بعد اگروہ کام کسی وجہ سے نہ کر سکا تب بھی نیت کا ثواب مل جا ئیگا جیسا کہ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جس نے نیکی کا ارادہ کیا پھر اُسے نہ کیاتو اس کیلئے ایک نیکی لکھی جائے گی۔ (صحیح مسلم، ص۷۹حدیث۰ ۱۳)
اچھی نیتوں کی توفیق کسے ملتی ہے:حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام ابو حامد محمدبن محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں: ہر مباح کام (یعنی جائز کام جس کے کرنے میں نہ ثواب ہو نہ گناہ) ایک یا زیادہ نیتوں کا احتمال (عنی امکان) رکھتا ہے جس کے ذریعے وہ مباح کام عمدہ عبادات میں سے ہو جاتا ہے اور اس کے ذریعے بلند درجات حاصل ہوتے ہیں۔ وہ انسان کتنے بڑے نقصان میں ہے جو مباح کاموں کو اچھی نیتوں کے ذریعے ثواب والے کام بنانے کے بجائے جانوروں کی طرح غفلت سے بجالاتا اورخودکوثواب سے محروم رکھتاہے۔ بندے کیلئے مناسب نہیں کہ کسی خطرے (یعنی ذِہن میں آنیوالے خیال)   اور اُٹھائے جانے والے قدم کو حقیریعنی غیر اہم جانے، کیونکہ ان تمام کاموں کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا کہ کیوں کیا تھا؟ اور اس سے مقصود کیا تھا؟ یہ بات (یعنی مباح کا اچھی نیت کے ذَرِیعے عبادت بن جانا) صرف اُن مباح امور کے بار ے میں ہے جن میں کراہت نہ ہو۔ اِسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’حلالھا حسابٌ وَّ حرامھا عذابٌ‘‘یعنی اِس کے حلال میں حساب ہے اور حرام میں عذاب۔ (اَلفردَوس بماثور الخطاب ج۵ ص۲۸۳ حدیث ۸۱۹۲) مزید فرماتے ہیں:جس کے دل میں آخرت کی بھلائیاں اکٹھی کرنے کا جذبہ ہوتا ہے اُس کیلئے اِس طرح کی نیتیں کرنا آسان ہوتاہے البتہ جس کے دل میں دُنیوی نعمتوں کا غلبہ ہو اُس کے دل میں اِس طرح کی نیتیں نہیں آتیں بلکہ کوئی یاد دلائے تب بھی اُس کے اندر اِس قسم کی نیتوں کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا اور اگر نیت ہوبھی تو محض ایک خیال سا ہوتا ہے حقیقی نیت سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا! (اِحیاء العلوم ج ۵ ص۸ ۹)
نیت کسے کہتے ہیں: یادرکھئے! نیت دِل کے پختہ اِرادے کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی چیز کا ہو اور شریعت میں (نیت) عبادت کے اِرادے کوکہتے ہیں۔ (نزۃ القاری ج۱ص۱۶۹)
نیت کے بارے میں پانچ اہم مدنی پھول : (۱) بغیر اچھی نیت کے کسی بھی نیک کام کا ثواب نہیں ملتا۔ (۲) جتنی اچھی نیتیں زیادہ، اتنا ثواب بھی زیادہ۔ (۳) نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، دل میں نیت ہوتے ہوئے زبان سے بھی دہرا لینا زیادہ اچھا ہے، دل میں نیت موجود نہ ہو نے کی صورت میں صرف زبان سے نیت کے الفاظ اداکر لینے سے نیت نہیں ہو گی۔ (۴) کسی بھی عمل خیر میں اچھی نیت کا مطلب یہ ہے کہ جو عمل کیا جا رہا ہے دل اُس کی طرف متوجہ ہو اور وہ عمل رِضائے الٰہی عزوجل کیلئے کیا جا رہا ہو، اِس نیت سے عبادات کو ایک دوسرے سے الگ کرنایاعبادت اور عادت میں فرق کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یاد رہے! صرف زَبانی کلام یاسوچ یا بے توجہی سے ارادہ کرنا ان سب سے نیت کوسوں دُور ہے کیونکہ نیت اس بات کا نا م ہے کہ دل اس کام کو کرنے کیلئے بالکل تیار ہویعنی عزمِ مصم اور پکا ارادہ ہو۔ (۵)جو اچھی نیتوں کا عادی نہیں اسے شروع میں بہ تکلف اس کی عادت بنانی پڑے گی،مطلوبہ نیک کام شروع کرنے سے قبل کچھ رک کر موقع کی مناسب سے سر جھکائے، آنکھیں بند کئے ذِہن کو مختلف خیالات سے خالی کر کے نیتوں کیلئے یکسو ہو جانا مفید ہے، اِدھر اُدھر نظریں گھماتے، بدن سہلاتے کھجاتے، کوئی چیز رکھتے اٹھاتے یا جلد بازی کے ساتھ نیتیں کرنا چاہیں گے تو شاید نہیں ہو پائیں گی۔ نیتوں کی عادت بنانے کیلئے اِن کی اہمیت پر نظر رکھتے ہوئے آپ کو کو سنجیدگی کے ساتھ پہلے اپناذِہن بنانا پڑیگا۔( ثواب بڑھانے کے نسخے،ص۳)

تازہ ترین خبریں