07:41 am
تیسری ایٹمی جنگ؟

تیسری ایٹمی جنگ؟

07:41 am

آپ کہتے ہیں اورصحیح کہتے ہیں کہ اس وقت کرہ ارض پرامریکہ واحدسپرپاورہے پھرآپ اس سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں کہ وہ مسائل اورتنازعات جوکسی بھی وقت دنیاکے امن کوتہہ وبالاکرسکتے ہیں اس کوامریکہ ہی اپنے اثرورسوخ یااپنے سپر پاورہونے کے بل پران تمام الجھے ہوئے معاملات حل کروا سکتا ہے۔ یقیناآپ کی سوچ کارخ صحیح سمت ہے۔ آپ جسے انصاف کاادارہ کہتے ہیں یعنی اقوامِ متحدہ وہ تمام بڑی طاقتوں خصوصاًامریکہ کے زیرِاثرہے۔
ابھی چندبرس پہلے عراق پرحملے کے سلسلے میں اس ادارے نے حملے کی بھرپومخالفت کی لیکن امریکہ کے سامنے کسی کی نہیں چلی۔پھرافغانستان کامعاملہ بھی کچھ ایسے ہی ہے ۔فلسطین اورکشمیرکامعاملہ اسلامی دنیاسے ہے اس لئے امریکہ اوریورپ کی سردمہری واضح اورقابلِ فہم ہے۔ہاں مشرقی تیمورکامسئلہ فوری حل گیاکیونکہ یہ مسیحی ریاست کا معاملہ تھا۔امریکہ سے پاکستان کی روزِاول سے ہی شناسائی ہے،یقینااس نے پاکستان کوعسکری اوراقتصادی معاملات میں اپنے مفادات کی خاطر مد د کی اور پاکستان نے بھی دوستی نبھائی،معاہدات سیٹوا ور سینٹومیں بلاوجہ شرکت اختیارکرلی۔بڈابیرسے ’’یوٹو‘‘ کو پرواز کا موقع دیا جس کے باعث پاکستان کوروس کی شدید مخا لفت کاسامناکرناپڑاجس کے براہِ راست اثرات کشمیر میں استصوابِ رائے میں رخنہ اندازی کاسبب بنے۔ پاکستان امریکہ کے بہت کام آیاحتی کہ دنیاکی واحد سپر پاور بنانے میں نہ صرف بھاری مالی وجانی قیمت اداکی بلکہ روس کے انخلاء کے بعدامریکہ پاکستان کوجنگی مصائب میں تنہاچھوڑکرفرارہوگیااور اپنی تمام نوازشات ہمارے جانی دشمن پرنچھاورکردیں جبکہ بھارت کوروس نے ہمیشہ غیرمشروط اورہرشعبہ میں بھرپور امداددی جس سے بھارت اس خطے کا انتہائی طاقتورملک بن گیا۔
دورِحاضرمیں یوں توپوری دنیالیکن خصوصاً مسلم ممالک تنازعات اورتباہ کن مسائل کی زد میں ہیں اوران مسائل کو پیدا کرنے میں امریکہ اور یو ر پ کاہاتھ ہے۔سوڈان سے افغانستان تک اورفلسطین سے لیکرکشمیر تک انہی کی کرشمہ سازی ہے ۔بائونڈری کمیشن کے چیئرمین ریڈکلف اگرلارڈمانٹ بیٹن کے اشارے پربددیانتی کرکے گورداسپورکوبھارت میں شامل نہ کر تا توکشمیرکاجھگڑانہ پیداہوتا۔اب بھارت کی حالیہ ہٹ دھرمی اورشاطرانہ رویہ سے جوآثارمترشح ہورہے ہیں، وہ غمازی کررہے ہیں کہ اب اس خطہ کامستقبل انتہائی مخدوش ہے۔اگر بھارت راہِ راست پرنہ آیاتواس خطے میں ایٹمی جنگ ناگزیر ہے۔ 
ٹرمپ نے افغانستان میں جاری امریکی مشکلات سے نجات کیلئے اچانک مسئلہ کشمیرپر ثالثی کاعندیہ دیکردراصل پاکستان کوایک مرتبہ پھرجھانسہ دیالیکن کشمیرپرحالیہ بھارتی اقدام کے بعدطالبان سے کامیاب مذاکرات کوفوری منسوخ کرنے کا اعلان کردیاجس کوبھارت اپنی کامیابی قراردے رہاہے۔ اگرٹرمپ کومودی کے ساتھ ہیوسٹن میں اپنے انتخابی جلسہ میں شمولیت سے فرصت ملتی تووہ مسئلہ کشمیرمیں بھارتی انتہاپسندی اوردہشت گردی پرقابوپانے کیلئے اقوام متحدہ کوقراردادوں کوپھرسے متحرک کرنے کامشورہ تودے سکتے تھے مگرٹرمپ بھارت کوکسی صورت ناراض نہیں کرنا چاہتاکیونکہ مستقبل میں اسے چین کے خلاف استعمال کرناہے۔یہ کوئی پیش گوئی ہے نہ ہی ارسطوئی فہم وفراست،یہ وہ زمینی حقائق ہیں کہ دو بڑی جنگیں یورپ میں واقع ہوئی ہیں اب تیسری عالمی جنگ (اللہ اس خطہ کوہرقسم کی ایٹمی جنگ سے محفوظ رکھے)کے آثار اس خطے پرواضح ہورہے ہیں۔
اگرچہ72برس پرپھیلی ہوئی ہماری سیاسی قیادت توسرتوڑکوشش کرتی رہی کہ مسئلہ کشمیراقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہوجائے لیکن بھارت کی بددیانتی پرمبنی چالوں نے اسے حل نہیں ہونے دیا لیکن یہ مقامِ تعجب ہے کہ ہمارے اربابِ سیاست آج بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ گفت وشنید ہی اس مسئلہ کاحل ہے جو قطعی ناممکن ہے۔کشمیر تقسیم ہند کا ایک ایسا متنازعہ ایجنڈہ ہے جس کے حل ہوئے بغیراس خطہ پرامن قائم نہیں ہوسکتا۔قائد اعظم کے نزدیک کشمیر کی اہمیت اورافادیت کوپاکستان کی شہ رگ قراردیاتھا۔ بھارت نے شہ رگ پر پائوں رکھاہواہے۔اب ٹیڑھی انگلی کے بغیرگھی نہیں نکلے گا۔آپ مشرقی سرحدوں پرجنگی حالت کی طرح فوج لگادیں،پوری دنیامیں ہلچل مچ جائے گی۔یہی لوگ جو مشوروں پرقناعت کر رہے ہیں حالات کی نزاکت بڑی طاقتوں کومجبورکردے گی کہ وہ مسئلہ کامنصفانہ حل تلاش کریں۔
عمران خان وطن پہنچتے ہی خوشامدیوں سے مبارکبادیں وصول کررہے ہیں اورانہوں نے قوم کویہ نصیحت فرمائی ہے کہ چاہے دنیامسئلہ کشمیرکی حمایت کرے یانہ کرے لیکن ہم کشمیرکے ساتھ ہیں گویایہ بتادیاہے کہ ہم دنیامیں سفارتی لحاظ سے تنہاہیں لیکن میں ان کے حواریوں کوبتانایہ ضروری سمجھتاہوں کہ اسی ادارے میں اس سے بہتر تقریر ذوالفقارعلی بھٹو،عالم اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے جنرل ضیاء الحق اپنازورخطابت دکھاچکے ہیں بلکہ مرسی شہیدنے تواس سے کہیں زیادہ سخت لہجے میں امریکہ اوریورپ کوتنبیہ کی تھی کہ جوہمارے پیغمبرﷺکی عزت کرے گا،ہم اس کی عزت کریں گے لیکن امریکہ اوریورپ کی اس لونڈی یو این او کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگی لیکن ان تمام مسلمان رہنمائوں کے ساتھ کیاسلوک ہوا؟
اقوام عالم ہمارے لئے دنیاکی سب سے بڑی مارکیٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کیوں بگاڑے گی جبکہ اسے علم ہے کہ خود پاکستان نے بھارت سے مکمل سفارتی تعلقات منقطع نہیں کیے،کمرشل پروازوں کیلئے فضائی حدود بھی کھلی ہیں کہ جن کی بندش سے بھارت کوسالانہ اربوں کانقصان پہنچ سکتاہے اورارزاں نرخوں پرنمک کی تجارت بھی قائم ہے بلکہ مقبوضہ کشمیرہڑپ کرنے کے بعدہمارے زخموں پرنمک چھڑکنے کیلئے دبئی سے ایوارڈ لینے کیلئے بھی طمطراق اندازمیں فاتحانہ اندازسے ہماری ہی فضائوں سے گزرکرگئے تھے۔موجودہ حکومت ملک میں جاری ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اس تقریر کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرے گی۔اس تقریرمیں اسٹیٹس مین کا تدبرتونہیں تھا لیکن مورچے پرجمے ہوئے سپاہی کا آخری وقت تک لڑنے کاجذبہ ضرورتھا‘تاہم تقریروں سے اگر ملک آزاد ہوتے توخطیب اورمقررآج دنیا پرحکمرانی کررہے ہوتے۔ ہماری قوم بلکہ امت مسلمہ کاالمیہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے کے بعدہمیں وضواورمردے کی تدفین کے بعداس کاغسل یادآتاہے۔

تازہ ترین خبریں