07:42 am
تقریر کا تاریخی گھوڑا اور مہنگائی کا سونامی

تقریر کا تاریخی گھوڑا اور مہنگائی کا سونامی

07:42 am

وزیراعظم عمران خان اور حکومتی رتھ پر سوار دانشوران تحریک، اگر تقریر کے تاریخی گھوڑے سے نیچے اتر آئے ہوں تو ان سے گزارش ہے کہ وہ ایک نظر مہنگائی کے سونامی کے ہاتھوں پریشان پاکستانی قوم کی حالت زار پر بھی ڈال لیں۔ عمران خان کی حکومت کے ایک سالہ دور میں ہونے والی مہنگائی نے پاکستان کے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ عمران خان اور ان کے درباری اس قوم کو بتائیں کہ وہ کدھر جائیں؟ کیا کریں؟ اور کیسے گزارہ کریں؟ ’’تقریر‘‘ سے اگر غریبوں کا پیٹ بھرتا تو میں انہیں ’’تقریر‘‘ کھانے کا مشورہ دیتا … ’’تقریر‘‘ اگر سالن پکانے میں معاون ثابت ہوسکتی  ، ’’تقریر‘‘ سے اگر مائیں صبح بچوں کا ناشتہ تیار کرسکتیں، ’’تقریر ‘‘ سے اگر بجلی کا بل ادا ہوسکتا ، ’’تقریر‘‘ اگر بچوں کی فیسوں کا متبادل ثابت ہوسکتی ، ’’تقریر‘‘ اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لاسکتی، ’’تقریر‘‘ اگر مزدور کی تنخواہ میں اضافے کا سبب بن سکتی، ’’تقریر‘‘ اگر سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار میں درستگی کا باعث بن سکتی ، ’’تقریر‘‘ اگر جان بچانے کی ادویات کی قیمتوں میں کمی لاسکتی، ’’تقریر‘‘ اگر سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی گردی کا نشانہ بننے والے بچوں کی اشک شوئی کرسکتی۔ تقریر اگر گوجرانوالہ کے صلاح الدین کو انصاف مہیا کرسکتی تو یقین مان لیں میں تقریر کے ایک ایک لفظ کو تعویذ بنانے کا مشورہ ضرور دیتا،  ’’تقریر‘‘ کے الفاظ ہوا میں اڑ جاتے ہیں یا پھر فائلوں میں دب جایا کرتے ہیں۔ تقریریں کرکے لوگ اگر بھولیں نہ بھی مگر یوٹرن تو لازمی لے لیا کرتے ہیں۔
مگر تقریروں سے نہ بھوکوں کے پیٹ بھرتے ہیں، نہ پیاسوں کی پیاس بجھتی ہے اور نہ مریضوں کو دوا ملتی ہے۔اس خاکسار نے اپنے گزشتہ روز کے کالم میں جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریر کی بس اسی قدر تعریف کی تھی  جس قدر تعریف کی وہ مستحق تھی لیکن اگر حکومتی دستر خوانی قبیلہ ’’تقریر‘‘ کے ردھم پر پورا سال جھومنا، ناچنا اور گانا چاہتا ہے تو اس کی مرضی، ہم سے تو یہ کام نہ پہلے ہوا نہ اب ہوگا۔
یہ خاکسار چونکہ عرصہ درا ز سے ٹی وی چینلز کو دیکھنے سے بچا ہوا ہے ، اس لئے وزیراعظم کی واپسی پر ائیرپور ٹ پر ان کے استقبالی مناظر دیکھنے سے محروم رہا۔ ایک دوست نے فون پر طنزاً فرمایا کہ ’’آپ کے دوست طاہر محمود اشرفی کی وزیراعظم کو جبہ پہناتے ہوئے پگڑی گر گئی‘‘ میں نے اس کے طنز کو انجوائے کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’’اس طرح تو ہوتا ہے پھر اس طرح کے کاموں میں‘‘ دستار کا گرنا اپنی جگہ پر ، مگر  یہ بتائو ہمارے دوست نے وزیراعظم کو جبہ پہنایا یا نہیں؟ اس نے جواب دیا نہ صرف جبہ پہنایا بلکہ تاجدار ختم نبوتؐ زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے، خبر سنانے کے بعد ساتھ ہی اس نے سوال داغ دیا کہ آخر یہ نعرے انہوں نے کیوں لگائے؟
میں نے کہا دیکھو شرارت مت کرو، ممکن ہے علامہ طاہر اشرفی ختم نبوتؐ  زندہ  باد کے نعروں کا خوف دلا کر قادیانی بلائوں کو وزیراعظم کے قرب و جوار سے بھگانا چاہتے ہوں؟ کچھ بھی ہو، مگر ختم نبوتؐ کے عظیم نعرے کی صداقت سے انکار تو ناممکن ہے۔
عجب بات ہے کہ حکومتی دانشور کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو عمرانو فوبیا ہوگیا ہے اور آزادی مارچ والے الزام لگاتے ہیں کہ حکومت اور اس کے طبلچیوں کو فضل الرحمن فوبیا ہوگیا ہے … اس ’’گھڑمس‘‘ کی جنگ میں ہم جیسے طالبعلم جائیں تو جائیں کہاں؟ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ’’وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی تاریخی تقریر پر اپوزیشن کو تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی‘‘ اگر ایسا ہو جاتا تو یہ ایک آئیڈیل صورت حال ہوتی، لیکن ناراض ہونا ہے تو شو  ق سے ہو جائیں مگر سچ تو یہ ہے کہ اس کی بنیاد بھی تو عمران خان اور تحریک انصاف کی رکھی ہوئی ہے، عمران خان نے اپنے 126 دن کے دھرنے کے دوران نفرتوں کے جو بیج بوئے تھے اب وہ تناور  درخت بن چکے ہیں، جنرل اسمبلی کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر نفرتوں کی جو برسات ہو رہی ہے اس کو روکنا بھی عمران خان کے ہی اختیار میں ہے۔ ہم جیسے طالبعلم126 دن کے   دھرنے کے دوران بار بار اپنے کالموں میں التجائیں کیا کرتے تھے کہ خدارا، انسانوںکو ڈیزل، چور ، ڈاکو، لیٹرے کہنے کی عادت مت ڈالیے۔ اگر یہ عادت پڑگئی تو بہت دور تلک جائے گی۔ چنانچہ آج دیکھ لیجئے ، وزیراعظم کی ایک اچھی تقریر کو بھی نفرت کے تیروں سے چھلنی کریں، عمران خان اگر انصاف پسند ہیں تو قوم کے سامنے آئیں اور انہوں نے نفرت، حقارت،  دوسروں کو گالیاں دینے اور پگڑیاں اچھالنے پر جس ’’سیاست‘‘ کی بنیاد رکھی تھی اس پر پوری قوم سے معافی مانگیں، مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ پاکستان نفرتوں کی سیامست کی آما جگاہ بن چکا ہے۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن ایک دو سرے کو کچا چبانے پر تلے بیٹھے ہیں ، پگڑیاں اچھالنا، گالیاں بکنا، عزتیں اچھا لنا، جوانمردی کی علامت سمجھا جارہا ہے۔برداشت، حوصلہ ، تدبیر، غور و فکر کرنا تقریباً مفقود ہوتا جارہا ہے، جیلیں بھردو، ہتھکڑیاں لگادو، بیڑیاں پہنا دو، کچل ڈالو، مار ڈالو، رگڑ ڈالو، میرا قائد ہیرو، تیرہ قائد چور، میرا لیڈر محب وطن تیرا لیڈر غدار، حکومت کے ساتھ چلنے والا ایک نمبر، اپوزیشن کے ساتھ چلنے والا دو نمبر، جب حکومت اور اپوزیشن کی سیاست کا محور اس طرح کا کچرا ہوگا تو پھر کون سی تقریر اور کہاں کی تقریر؟

تازہ ترین خبریں