07:42 am
تقریر کشمیریوں کی تقدیربدل سکتی ہے؟

تقریر کشمیریوں کی تقدیربدل سکتی ہے؟

07:42 am

لاک ڈائون کے دو ماہ مکمل ہو رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس کے باوجود کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کا خاتمہ کجا ، اس میں کمی بھی نہ آ سکی۔ یورپین یونین میں آواز بلند ہوئی۔ امریکہ اور برطانیہ میں کشمیریوں پر مظالم پر تشویش ظاہر کی گئی۔ او آئی سی کے کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ نے بھی چیخ و پکار کی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نے بھارت کے خلاف بیانات دیئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخ ساز تقریر کی۔ بھارت کو پچھاڑ کے رکھ دیا۔ہم اس تقریر پر جشن منا رہے ہیں۔ مگر بھارت ٹس سے مس نہ ہوا۔ جیسا کہ دنیا نے مودی کو یقین دلا دیا ہو کہ جو مرضی مظالم ڈھا لو، کوئی بات نہیں۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ عالمی میڈیا بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی درد بھری داستانیں بیان کر رہا ہے۔ دنیا میں کشمیر پر تجزیئے اور تبصرے ہو رہے ہیںمگر بھارت سب ان سنی کر رہا ہے۔ سب نظر انداز کر رہا ہے۔ عربوں نے مودی کو ایوارڈز سے نواز دیا۔ سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ اسلام آباد آئے۔ وہ بھی اظہار یک جہتی سے زیادہ کچھ نہ کر سکے۔
 
 بھارت کسی طرف سے معاشی، سیاسی یا سفارتی دبائو محسوس کرتا تو لاک ڈائون، کرفیو، سخت پابندیاں ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ تک برقرار نہ رہ سکتیں۔ اس پر دبائو نہ ڈالا گیا یا ایسا علامتی دبائو آیا جس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل، یورپین یونین، او آئی سی کی کوئی قرارداد آتی تو کشمیریوں پر مظالم حد سے نہ بڑھ جاتے۔ جی ایٹ یا عرب لیگ یا ایس سی او کی سرد مہری بھی اپنی مثال آپ ہے۔کسی عالمی فورم میں قراردادکی منظوری دور کی بات ہے، اسے پیش کرنے کے لئے بھی مطلوب چند ممالک ہمارا ساتھ دینے پر تیار نہیں۔ اقوام متحدہ کے 193ممالک میں سے صرف 16کا تعاون ہم حاصل نہ کر سکے۔ 
وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دھواں دار تقریر کی۔کشمیریوں کی سفارتکاری کی۔ بلکہ اس کا حق ادا کیا۔ بھارت کو بے نقاب کیا۔ مودی کو چاروں شانے چت کر دیا۔ دنیا کے امن پسندوں نے افسوس کا ظہار کیا۔ کسی نے سخت تشویش ظاہر کی۔ کیا یہ تقریر کشمیریوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ہم خوش فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ دل بہلا سکتے ہیں۔ ہم اس تقریر پر ہی گزارہ کریں گے۔ ملک کے اندر، کشمیر میں بہت مظاہرے کئے، نعرے لگا لئے۔ جلسے جلوس بھی نکالے گئے۔ ریلیاں بھی منعقد ہوئیں۔ جنگ بندی لکیر کی طرف مارچ بھی کئے۔ بہت کچھ لکھا اور بولا بھی گیا۔ پاکستان اور کشمیری پرچموں کی بہاریں بھی دیکھ لیں۔ یہ سب رائیگاں نہیں جاتا۔ یہ سب شدت کے ساتھ جاری رہنا ضروری ہے،مگر اس سے بڑھ کر عملی کام کرنے کے ہیں۔ سفارت اور سیاست کا دبائو ہو تو بھارت کب کا دنیا کے سامنے گھٹنے ٹیک لے۔ معاشی دبائو آئے تو مودی کو ملک کے اندر اور کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کی جرائت کیسے ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور افواج پاکستان کو کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے مسلسل اظہار اور دنیا میں بھارتی دہشت گردی کا پردہ چاک کرنے پر خراج تحسین پیش ہے۔ 
پاک فوج کا آخری سپاہی، آخری گولی اور آخری سانس تک کشمیریوں کے لئے لڑنے کا عزم اور عمران خان کا کشمیر کے لئے کوئی بھی قیمت چکانے کا اعلان بے مثال ہے۔ یہ سنجیدہ عزائم اور اعلانات کم از کم پاکستان کے دوست ممالک کی جانب سے بھارت پر معاشی پابندیوں کے انتباہ تک عملی اقدامات سے عاری سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا میں پاکستانی سفارتخانوں میں دو ماہ گزرنے کے باوجود کشمیر ڈیسک قائم نہیں کئے جا سکے ہیں۔ تا ہم یہ بات خوش آئند ہے کہ عمران خان نے سفارتی مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات شروع کئے ہیں۔ سفارتکاروں کی تقرریاں اور تبادلے ہو رہے ہیں۔ انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ متحرک ہو جائیں، پاکستان کے لئے سفارتکاری خدمات میں سرعت لائیں، ورنہ گھر جائیں۔ اسی طرح دفتر خارجہ کی بھی تطہیر لازمی ہے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ذمہ دار اگر سستی کا مظاہرہ کریں تو جوابدہی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ دفتر خارجہ میں بھی ابھی تک کشمیر ڈیسک قائم نہ ہو سکا۔
 اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر پر اثر تھی مگر اس نے ابھی تک کشمیریوں کی تقدیر بدلنے میں فوری کوئی اثر نہیں دکھایا ہے۔ اس کے باوجود لوگ توقع کرتے ہیں کہ یہ تقریر کشمیریوں کی سیاسی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ بھارت نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کشمیر سے فوجی انخلاء کی بات کی ہے۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کشمیر میں موجود ہیں ، تو کشمیر دوطرفہ مسئلہ کیسے ہو سکتا ہے۔ بھارتی تیسرے فریق کی ثالثی سے کیسے انکار کر سکتا ہے۔ جب کہ مسئلہ کشمیر کی ثالث اقوام متحدہ ہے۔ عالمی فورمز پر مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیشنل ریڈ کراس کے تعاون سے ڈاکٹرز کی ٹیمیں روانہ کرنا اور ادویات کی ترسیل کے لئے سفارتکاری کی جاسکتی ہے۔ آزاد میڈیا اور عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں داخلہ کی اجازت کا معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین پر بھارت کی جانب سے جنگ بندی لائن کی نگرانی کے لئے عائد کردہ پابندیوں کے خاتمہ اور مبصرین کی تعداد میں اضافے کے لئے مہم چلائی جا سکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں