07:43 am
وزیر اعظم کی تقریر اور اپوزیشن

وزیر اعظم کی تقریر اور اپوزیشن

07:43 am

٭وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقے میں، امداد کا اعلان O اقوام متحدہ میں ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اکرمO روسی اسلحہ خریدنے پر امریکہ بھارت پر برہمO مودی کی ٹرمپ کی امیدواری کی حمائت، کانگریس برہمO اسلام آباد: کابینہ میں تبدیلی O وزیراعظم تقریر پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں: شہبازشریفO نجی میڈیکل کالجوں کی داخلہ فیس 9 لاکھ 59 ہزار روپے، کل فیس تقریباً 45 لاکھ روپےO آزادی مارچ، تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہو گی :فضل الرحمنO کراچی: واٹر بورڈ کا افسر گٹر میں گر گیا۔
 
٭وزیراعظم عمران خان پاکستان واپسی کے بعد آزاد کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقے میں گئے۔ میرپور ہسپتال میں زخمیوں کا حال دیکھا، بچوں کو پیار کیا۔ امدادی پیکیج کا اعلان کیا۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کی آفات سے محفوظ رکھے!
٭وزیراعظم عمران خان کی 27 اگست کو جنرل اسمبلی میں تقریر کی بازگشت جاری ہے۔ اس تقریر کے بعد اپوزیشن والے کچھ دیر خاموش رہے پھر حسب ہمت تقریر میں خامیاں بیان کرنے لگے، یہ ’خامیاں‘ براہ راست بھارتی میڈیا میں نشر ہونے لگیں۔ خاص طور پر ایک پراسرار وصیت کی چند سیکنڈ کے لئے چند سطروں کی جھلکی پر صدر پاکستان بن جانے والے والد کے 19 سال کی عمرمیں ایک قومی پارٹی کا وراثتی چیئرمین بلاول بول اٹھا کہ مایوس کن تقریر تھی، عمران خان تیاری کر کے نہیں گیا تھا۔ مجھے اس برخوردار کی اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ عمران خان کی تقریر جیسی بھی تھی، سامنے ہے مگر اس 31 سالہ نوجوان کا اپنی تعلیم، گھریلو و سماجی تربیت، سیاست کی اونچ نیچ، قیادت کی تربیت، مذہبی امور سے شناسائی اور تقریر و تحریر کی علمیت کی مہارت کیا ہے؟ صفر کے ہندسے کو کتنی ہی بار صفر سے بلکہ کسی بھی ہندسے سے ضرب دے دیں، جواب صفر ہی آئے گا۔ اس سیاسی ناتجربہ کار، سماجی تہذیبی اقدار سے ناشناس برخوردار سے پوچھا جا سکتا ہے کہ تم نے انتخابی گوشوارے پُر کرتے وقت ملکی و غیر ملکی بنکوں میں پانچ کروڑ روپے نقد ظاہر کئے! کبھی حج یا عمرہ کا خیال آیا؟ تمہارا والد سرکاری خرچ پر عمرہ کے نام پر سعودی عرب جاتا رہا، ساتھ میں شاہی خاندان کی ضیافتوں کا لطف بھی دوبالا ہو جاتا، تم سے تو یہ بھی نہ ہو سکا۔ چلو یہ تو مذہبی معاملہ ہے۔ مگر مقبوضہ کشمیر پر مودی کے ظالمانہ کرفیو کو 58 دن ہو گئے۔ تم نے صرف ایک بار بھارت کی مذمت کا معمولی سا بیان دیا پھر اپنی ذاتی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے! ویسے کشمیر سے تم لوگوں کے تعلق کا یہ عالم ہے کہ تمہاری والدہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں تو بھارت کا وزیراعظم راجیو گاندھی اسلام آباد آیا۔ بے نظیر کے حکم پر ہوائی اڈے سے وزیراعظم ہائوس والی شاہراہ پر مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے بارے میں تمام بورڈ، بینر اتروا دیئے گئے۔ تمہارا والد صدر بنا تو آزاد کشمیر تو نہ جا سکا، کشمیر کے مسئلہ کو 30 سال تک منجمد رکھنے کی تجویز پیش کر دی! کب تک بار بار لکھا جائے کہ تم تو پاکستان کی قومی زبان اُردو، بلکہ سندھی بھی نہ لکھ سکتے ہو نہ بول سکتے ہو، انگریزی جیسی بھی بولتے ہو، سب جانتے ہیں۔ صرف آخری بات کہ ذوالفقار علی بھٹو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، ان کا ہر قسم کے لٹریچر کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ ڈاکٹر مبشر حسن، جے اے رحیم حتیٰ کہ کوثر نیازی جیسے شاعر و دانش وروں کو اپنے گرد جمع کر رکھا تھا۔ بے نظیر بھٹو بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں، مختلف زبانوں کے ادب عالیہ کا مطالعہ کرتی رہتی تھیں۔ مگر…مگر تم لوگوںکی تعلیمی، ادبی، لسانی، سیاسی تعلیم و تربیت کا کیا معیار ہے؟ کبھی پڑھا کہ انگریزی زبان کے آٹھ رومانی شاعر کون تھے؟ ٹی ایس ایلیٹ کون تھا؟ ’’پیراڈائزلاسٹ‘‘ اور ڈیوائن کامیڈی کس نے لکھی؟ ارسطو نے اپنے استاد افلاطون کے کس نظریہ سے انحراف کیا تھا؟ چلو یہ تو دور کی باتیں ہیں، برخوردار مرزا غالب کی کوئی غزل یا علامہ اقبال کی کوئی نظم ہی سنا دو! تم نہیں سنا سکتے، مجبوری ہے! لندن کی رنگین فضائوں میں گزرنے والے بچپن میں اسلام، پاکستان اور اس کے اکابرین ادب سے روشناسی کا کیا مقام! ویسے کس برتے پر دسمبر کے آخر تک حکومت گرانے کا دعویٰ کرنے چلے ہو! بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں میں اپنی پارٹی کی تعداد دیکھ لی؟ اچھی بڑی قومی پارٹی تھی، کیا انجام ہوا؟ کس نے کیا؟
٭قارئین کرام! معذرت کہ کالم کچھ زیادہ تلخ اور بوجھل ہو گیا۔ میرا عمران خان یا اس کی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، اپوزیشن سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں، مگر اپوزیشن ہے کہاں؟ قائداعظم والی مسلم لیگ کے 10 ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ ن لیگ، ق لیگ، عوامی مسلم لیگ، آل پاکستان  لیگ، کلہوڑا لیگ، فنکشنل لیگ، ضیاءلیگ، چٹھہ لیگ، وٹو لیگ اور اب شریف خاندان کی کوکھ سے نکلنے والی صفدر لیگ! دوسری پارٹیوں کا کیا حال ہے؟ چودھری حضرات کی ق لیگ ہر حکومت کی گاڑی کے پائدان پر لٹک جاتی ہے۔ دوسری پارٹیوں کا بھی یہی حال ہے۔
 خود تحریک انصاف کا کیا حال ہے؟ پارٹی کے بھان متی کنبے کا تو ذکر چھوڑ دیں، خود تقریباً 26 وزیروں، 17 مشیروں اور معاونین کے غول بیابانی میں صرف دو پی ایچ ڈی، ایک ڈاکٹر ایک ماہر مالیات مشیر! اتنے بڑے ہجوم میں کوئی وزیر خزانہ ہی نہ مل پایا!۔ ہر تین چار ہفتے بعد شطرنج کی بساط کی طرح وزیروں، گھوڑوں، ہاتھیوں اور پیادوں کے مُہرے بدل دیئے جاتے ہیں۔ سیاسی ڈھلوان پر پھسلتی ہوئی گاڑی کو اچانک جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تاریخ سازی تقریر نے بریکیں لگا دی ہیں مگر کب تک! بازار میں ادرک 350 روپے کلو، کوئی سبزی 120 روپے کلو سے کم نہیں! پٹرول کی قیمت آسمان پر پہنچانے کی تجویز آئی تو ایک پیسہ کم کئے بغیر نافذ، قیمت کم کرنے کی سفارش آئی تو نامنظور!
بار بار معذرت کہ بات کا آغاز کچھ ہوتا ہے، کسی اور طرف چل پڑتی ہے! خبر چھپی ہے کہ بہت سے وزیر فارغ کئے جا رہے ہیں، نئے آ رہے ہیں، کسی یونیورسٹی کے ماہرین نہیں، اردگرد کے اسی انبوہ سے آئیں گے؟ جانے والے کیا نہ کر سکے؟ آنے والے کیا کر لیں گے؟ پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے کہ گائوں کا پٹواری نتھا سنگھ بہت رشوت لیتا تھا، لوگوں کی شکائت پر نیا پٹواری پریم سنگھ آ گیا۔ وہ نقد رشوت کے ساتھ مویشی بھی مانگنے لگا۔ افسر اعلیٰ نے گائوں والوں سے حال پوچھا، لوگ بول اٹھے کہ جناب ’’نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ، وَن اینڈ دی سیم تِھنگ!‘‘ (دونوں ایک جیسے ہیں) مجھے البتہ ان خبروں پر ترس سا آ رہا ہے کہ اطلاعات کی خصوصی معاون (وزیر یا مشیر نہیں) فردوس عاشق اعوان کو اس عہد سے ہٹا کر وزیراعظم ہائوس کے ایک کمرے میں وزیراعظم کے ترجمان کی حیثیت دی جا رہی ہے! وقت وقت کی بات! کہاں وزارت اطلاعات پوری کی پوری زیر قدم، روزانہ دو دو پریس کانفرنسیں! (ایک ہر اتوار کو سیالکوٹ میں!) اور اب ایک کمرہ، ایک میز، تین چار کرسیاں، ایک ٹیلی فون اور بس! وزیراعظم جنرل اسمبلی سے واپس آئے تو ہوائی اڈے پر اچھی خاصی رونمائی کرائی، ٹیلی ویژنوں پر قوم کو وزیراعظم کی تقریر بھی سمجھائی مگر پھر ایک کمرہ، ایک میز چند کرسیاں! وقت کسی کا ساتھ نہیں دیتا، افسوس صد افسوس!
٭مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر میں اسلام آباد پر یلغار کرنے والے افراد کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ جائے گی۔ اس معاملہ سے عمران خان کی حکومت جیسے ہی عہدہ برآہ ہو گی وہ اس کا مسئلہ ہے مگر مولانا نے ابھی تک واضح نہیںکیا کہ نئے انتخابات کون کرائے گا؟ یہی الیکشن کمیشن؟ یہی پولیس؟ یہی انتظامیہ؟ یہی فوج؟ انہی اداروں نے 2018ء کے انتخابات کرائے تھے۔ جو قبول نہیں کئے گئے۔ اب نئے انتخابات پھر یہی ادارے کرائیں گے تو کیا وہ واقعی صاف شفاف ہوں گے؟ کیا مولانا کو کوئی اندر یا باہر کی یقین دہانی اور اور ضمانتیں حاصل ہو گئی ہیںکہ اس بار کوئی دھاندلی نہیں ہو گی اور یہ کہ اس بار ان کی پارٹی کو بھاری اکثریت اور حکومت حاصل ہو جائے گی؟ صرف نئے انتخابات کے لئے اسلام آباد اور مقصد حاصل نہ ہونے پر پورے ملک کا گھیرائو؟ کچھ تو بتایئے مولانا اصل ہدف کیا ہے؟٭ٹیلی ویژن پر ایک منظر دیکھ رہا ہوں کہ کراچی کے واٹر بورڈ کا ایک افسر ایک جگہ خود کھلے گٹر میں گر گیا۔ اس کے عملہ نے کسی طرح کھینچ کھانچ کر باہر نکالا۔ چھاتی تک غلیظ کیچڑ سے لتھڑ گیا تھا عملہ نے باہرکھڑا کر کے بالٹیوں سے اس پر پانی ڈال کر کیچڑصاف کیا! اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت ہے؟

تازہ ترین خبریں