10:31 am
شورش کاشمیری کاتجزیہ

شورش کاشمیری کاتجزیہ

10:31 am

اردو صحافت میں شورش کاشمیری کانام بہت معتبر اور اہم ماناجاتا ہے وہ لگی لپٹی رکھنے کے قائل نہیں تھے جوبہتر سمجھتے تھے ڈنکے کی چوٹ بجادیا کرتے تھے تحریک آزادی ہو ختم نبوت کامسئلہ ہویاصحافت کی بات وہ ہر محاذ پر ہمیشہ سینہ سپر رہتے تھے آج میں ہمت کرکے ان کے ایک تجزیے کاصرف ایک صفحہ یہاں پیش کرنے کی کوشش کررہا ان کی کتاب ہے ختم نبوت اس کے صفحہ نمبردوسو چوبیس کااقتباس دینا چاہتا ہوں تاکہ ان کی تحریر من وعن قارئین کے سامنے آسکے ۔
کیا شورش کاشمیری کاتجزیہ درست ہونے جارہا ہے ان کی کتاب ختم نبوت  1973ء میں شائع ہوئی تھی ہونے کوتو اس میں بہت کچھ قابل توجہ ہے جس سے ان کی دور بینی اور حالات وواقعات پران کی گرفت کا بخوبی اندازہ کیاجاسکتاہے میں یہاں صرف اایک صفحہ ہی پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں  وہ لکھتے ہیں کہ  ’’پاکستان میں ایٹمی توانائی کا سربراہ عبدالسلام بھی قادیانی ہے۔ ظفر اللہ خان ‘ ایم۔ ایم۔ احمد اور عبدالسلام تینوں ہی پاکستان سے باہر لندن کی جلوہ گاہ میں رہتے اور واشنگٹن کے اشارہ ابرو پررقص کرتے ہیں۔ قادیانی ہائی کمانڈ نے 1971ء کے انتخابات میں پاکستان کے اسلامی ذہن کو اسرائیل کے رویے کی طاقت پر سبوتاژ کیا اور اس کے بعد سے ملک کے غیر اسلامی ذہن کی معرفت پاکستان کی معاشی و عسکری زندگی پر قابض ہو رہے ہیں۔ یورپ کی نظریاتی و استعماری طاقتیں نہ تو اسلام کی بطور طاقت زندہ رکھنے کے حق میں ہیں اور نہ اس کی نشاۃ ثانیہ چاہتی ہیں۔ 
ہندوستان کی خوشنودی کے لئے پاکستان ان کی  بندربانٹ کے منصوبہ میں ہے۔ وہ اس کو بلقان اور عرب ریاستوں کی طرح طرح چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے سامنے مغربی پاکستان کا بٹوارہ ہے۔ وہ پختونستان‘بلوچستان‘ سندھو دیش اور پنجاب کو الگ الگ ریاستیں بنانا چاہتی ہیں۔ ان کے ذہن میں بعض سیاسی روایتوں کے مطابق کراچی کا مستقبل سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرح ایک خودمختار ریاست کا ہے۔ خدانخواستہ اس طرح تقسیم ہوگئی تو پنجاب ایک محصور(Sandwitch)صوبہ ہو جائے گا‘ جس طرح مشرقی پاکستان کا غصہ مغربی پاکستان میں صرف پنجاب کے خلاف تھا‘ اسی طرح پختونستان‘ بلوچستان اور سندھو دیش کو بھی پنجاب سے ناراضی ہوگی‘ پنجاب  تنہا رہ جائے گا تو عالمی طاقتیں سکھوں کو بھڑکا کر مطالبہ کرا دیں گی کہ مغربی پنجاب ان کے گورئووں کا مولد‘ مسکن اور مرگھٹ ہے۔ لہٰذا ان کا اس علاقہ پر وہی حق ہے جو یہودیوں کا فلسطین (اسرائیل) پر تھا اور انہیں وطن مل گیا۔ 
عالمی طاقتوں کے اشارے پر سکھ حملہ آور ہوں گے۔ اس کا نام شاید پولیس ایکشن ہو۔ جانبین میں لڑائی ہوگی لیکن عالمی طاقتیں پلان کے مطابق مداخلت کرکے اس  طرح لڑائی بند کرا دیں گی کہ پاکستانی پنجاب‘ بھارتی پنجاب سے پیوست ہو کر سکھ احمدی ریاست بن جائے گا جس کا نقشہ اس طرح ہوگا کہ صوبہ کا صدر سکھ ہوگا‘ تو وزیراعلیٰ قادیانی۔ اگر وزیراعلیٰ سکھ ہوگا تو صدر قادیانی! اسی غرض سے استعماری طاقتیں قادیانی امت کی کھلم کھلا سرپرستی کر رہی ہیں۔ 
بعض مسند خبروں کے مطابق سر ظفر اللہ خان لندن میں بھارتی نمائندوں سے پخت و پز کر چکے ہیں۔ قادیانی اس طرح اپنے  جھوٹے نبی کا مدینہ (قادیان) حاصل کر پائیں گے جو ان کا شروع دن سے مطمع نظر ہے اور سکھ اپنے بانی گوردنانک کے مولد میں آجائیں ۔  یہی دونوں کے اشتراک کا باعث ہوگا۔ 
قادیانی عالمی استعمار سے اپنی ریاست کا وعدہ لے چکے ہیں اور اس کے عوض عالمی استعمار کے گماشتہ کی حیثیت سے اسرائیل کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے وہ مسلمانوں کی صف میں رہ کر عرب ریاستوں کی بیخ کنی وار مخبری کے  فرائض انجام دیتے ہیں۔‘‘
آپ بخوبی ان کے اس تجزیہ سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ آج جبکہ کرتار پور راہداری مکمل ہوچکی ہے چند روز میں اسے عام استعمال کے لئے کھل دی جائے گی اس کے بعد جوہوگا جوہوسکتا ہے اسے شورش صاحب نے تقریباً پچپن برس پہلے محسوس کر لیا تھا ان کے دیکھائے آئینے میں آج کی شکل دیکھ سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں