10:32 am
احتجاجی مولانا اور محبوس شریف اتحاد

احتجاجی مولانا اور محبوس شریف اتحاد

10:32 am

ایک زمانہ تھا کہ پی پی پی نہایت مختصر ہوگئی تھی۔ پی ڈی ایف اقتدار کے بعد اور اقتدار مکمل طور پر اکیلے نواز شریف کے پاس چلا آیا تھا۔ یوں اپوزیشن کا کمزور سا کردار ڈاکٹر  طاہرالقادری کی سیاست کے طلوع کا نادر موقع بن گیا تھا۔ انہوں نے پی پی پی کو قائل کیا کہ انہیں اپوزیشن اتحاد کا قائد بنا دیا جائے تو وہ اپنی مذہبی طاقت کے استعمال سے نواز شریف کو اقتدار سے نکال دیں گے۔ بے نظیر نے بے بسی سے اس مذہبی سیاست کارڈ کے استعمال کو برداشت کرلیا‘ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ بھی قائل ہوگئے اور حامد ناصر چٹھہ بھی‘ یہ سب نواز شریف کی نفرت میں ہوا۔ یوں طاہر القادری طلوع ہوگئے۔ پھر ہوا یوں کہ  احتجاجی بندوبست تو پی پی پی کرتی مگر وہاں وزیراعظم قادری کے نعرے لگتے۔ یہ جب ناقابل برداشت ہوگیا تو بے نظیر بھٹو کو اپنے کئے پر غور کرنا پڑا۔ نوابزادہ بھی طاہرالقادری کی بشارتوں سے تنگ تھے جن میں ان کے الہامات‘ خوابوں پر مبنی مضحکہ خیز سیاست تھی۔ بالآخر طاہر القادری سے نجات کا طریقہ ایجاد ہوگیا جبکہ وہ  اپنے مذہبی روئیے اور کردار کے ذریعے نواز شریف کی دوتہائی اکثریت پر مبنی حکومت کا خاتمہ کرنے میں بھی ناکام رہے۔ حتیٰ کہ 12اکتوبر1999ء آگیا اور جو کام اپوزیشن نہ کر سکی تھی وہ کام  آسانی سے خود نواز شریف نے کر دیا۔ ملک میں اگرچہ مارشل لاء تو نہ لگا مگر مارشل لاء جیسا ماحول پیدا ہوگیا اور نواز شریف پورے خاندان سمیت مقید و محبوس ہوگئے۔
 
اب اکتوبر کا مہینہ شروع ہے۔ 7اکتوبر کو صدر اسکندر مرزا کے مشورے سے جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ پھر 27اکتوبر کو جنرل نے ایوان صدر سے ذلیل کرکے سکندر مرزا کو نکال دیا اور  وہ باقی عمر لندن میں ایک ہوٹل میں روزی روٹی کماتے رہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ماضی کے حکمران سیاست دان سازشی تو بہت بڑے تھے مگر مالی طور پر کرپٹ ہرگز نہیں تھے مگر جنرل ضیاء الحق عہد نے بھٹو فلسفے کی عوامی پذیرائی پر مبنی سیاست کو دفنانے کے لئے‘ بھٹو کے ہاتھوں معاشی اور صنعتی طور پر تباہ حال شریف خاندان کو اقتدار میں لا کر مالدار سیاست کا جو آغاز کیا اب وہ ملک کی معاشی تباہی کا بھی ایک عنوان ہے‘ شریف خاندان سیاسی و  معاشی جنگ و جدل میں دھنس گیا ہے اور نواز شریف کا اقتدار اور شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ بھی معاشی سیاسی جنگ و جدل نے نیست و نابود کر دی ہے۔ اس عمل میں مخلص مسلم لیگی تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) ایک بڑی پارٹی ہے۔ میری سابق وزیراعظم نواز شریف سے صرف ایک ملاقات 45منٹ کی ہوئی تھی ماضی بعید میں اور یہ ملاقات مرحوم مجید نظامی نے طے کی تھی۔ نواز شریف سے ملاقات میں ان سے پوچھا کہ وہ مجھ سے کام کیا لینا چاہتے ہیں؟ جبکہ میں تو محمد خان جونیجو کے حامیوں میں شمار ہوتا رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا والے قابو نہیں آرہے۔ اکثر اطراف نے تمہارا نام تجویز کیا ہے کہ پروفیسر کو آزمائو وہ کامیابی سے یہ میڈیا  مراحل طے کرلے گا مگر میں چند ہفتے ہی ن لیگ کا  حصہ رہ سکا  اور پھر ایک دوسرے اخبار میں  نواز شریف کے خلاف کالم لکھ ڈالے۔ شہباز کو جدہ میں 19جنوری 2003ء کی طویل ترین ملاقات کے بعد متبادل نواز شریف ‘قائد مسلم لیگ میں نے بنایا تھا جبکہ  ان کے لئے  لاتعداد کالم لکھے تھے۔
شہباز شریف سچ مچ متبادل نواز شریف بھی بن گئے تھے  مگر وہ آج کہاں ہیں اور ان کی اولاد کہاں ہے؟ وہ ذرا میری اور اپنی اس طویل ترین ملاقات میں کی گئی تلخ باتوں کے بارے میں ضرور سوچیں جو میں نے سرور پیلس میں ساڑھے تین گھنٹے کی ملاقات میں ان سے کہی تھیں۔ میں نے جس کمزور سے شہباز کو ہیرو بنایا تھا‘ متبادل نواز شریف کا بھی بنایا تھا‘ اپنے وجدان سے بار بار پھرسے وزیراعلیٰ پنجاب بھی بنایا تھا اور اس عمل سے اکثر ’’بڑے‘‘میرے دشمن بھی ہوگئے تھے۔ اس شہباز نے واپس آکر وزیراعلیٰ بن کر‘ مجھے تو اپنا صرف موقعہ پرست‘ طوطی چشم‘ مطلبی‘ دھوکے باز کردار دکھایا تھا۔ میں تو سہہ گیا ہوں یہ سب شریف ظلم و ستم مگر آج شہباز اور اس کے ہونہار مالدار بیٹے کہاں تک سہہ پائیں گے یہ سب کچھ؟   سیاسی کارکن شریف خاندان کی خودغرضی سے خود کو بچائیں۔ شریفوں کے حوالے سے  ذاتی تجربہ لیگی کارکنوں کے لئے  میں نے لکھا ہے۔
17اکتوبر 1917ء کو زار کے روس میں  لینن کا بپاکردہ کمیونسٹ انقلاب آگیا تھا۔ اکتوبر تغیر و تبدل کا بھی مہینہ کہا جاتا ہے۔ میرے نزدیک مولانا فضل الرحمان‘ طاہرالقادری سے کہیں زیادہ سیاسی پارلیمانی طاقت رکھتے ہیں۔ انہیں یہ طاقت ان کے پختون ہونے کے سبب اور کچھ مذہبی حنفی روئیے کے سبب بھی میسر ہے۔ ان کو 12اکتوبر کو مشرف اقتدار بہت راس آیا تھا مگر انہیں عمران خان کا اقتدار بہت تباہ کر گیا ہے۔ حالانکہ ان کی جماعت پارلیمان  میں موجود ہے صرف وہ خود موجود نہیں۔ اب وہ نواز شریف کی پارٹی کے لئے طاہر القادری بن گئے ہیں مگر جس طرح  طاہر القادری پی پی پی ‘ نوابزادہ تائید کے باوجود بھی  نواز شریف کو اقتدار  سے نہیں نکال سکے تھے یہی صورتحال مولانا فضل الرحمان کے مزعومہ آزادی مارچ کی اکتوبر میں ہوگی۔
یقینا عمران خان کے پاس پارلیمانی طور پر وافر قوت موجود نہیں ہے‘ وہ اقتدار سے محروم بھی ہوسکتے ہیں مگر صرف اپنی ذاتی غلطیوں یا اپنی جماعت کی غلطیوں کے سبب‘ اتحادی انہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان کے حامی‘ مددگار (ان کے اپنے نفس امارہ کی سرکشی کے سبب) اکتوبر کے آخری عشرے میں سچ مچ انہیں چھوڑ سکتے ہیں نومبر دسمبر کے دو مہینے ہمارے موجودہ پارلیمانی نظام کی تبدیلی کی نوید لارہے ہیں۔ کیا یہ تبدیلی غیر آئینی ہوگی کیا اس کا نام مارشل لاء ہوگا یا ایمرجنسی پلس؟ مگر اس تبدیلی میں نہ شہباز شریف وزیراعظم نہ ہی چوہدری نثار علی وزیراعلیٰ پنجاب بنتے دکھائی دیتے ہیں واللہ اعلم بالصواب
اگر مدبر مسلم لیگی ملک کو مارشل لاء‘ آئین کی منسوخی کے عمل سے بچانا چاہتے ہیں تو وہ حکومت میں شامل ہو کر عمران خان کے دست و بازو بن جائیں۔ یوں انہیں اقتدار ملے گا‘ عمران مضبوط‘ عوام کے لئے کچھ رحمت الٰہی کا نیا راستہ ایجاد ہوگا۔
پس تحریر: شمس و قمر نجوم ‘ محض مظاہر قدرت الٰہی ہیں۔ چند ہفتے بہت زیادہ سخت ہیں ہر کسی کے لئے ‘ نجومیوں کے پاس جانے کی بجائے تقویٰ‘ صبر‘ استقامت‘ استغفار‘ ذکر الٰہی کو زیادہ ضرورت اورعادت بنائیں۔ مشکل وقت ہے سورہ الضحی اور الم نشرح کی بار بار ترجمہ کے ساتھ تلاوت کریں۔ اللہ تعالیٰ مشکل کشا ہے۔ مشکل وقت بھی ان شاء اللہ گزر ہی جائیں گے۔

تازہ ترین خبریں