10:33 am
 پاکستان پر رحم فرمائیں

 پاکستان پر رحم فرمائیں

10:33 am

 گزشتہ دنوں ہم پاکستانیوں کی توجہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہی اجلاس پر مرکوز رہی ۔ مقبوضہ کشمیر کی تشویش ناک صورتحال یہی تقاضا کرتی تھی کہ پاکستانی قیادت اور سفارتی ذرائع پوری قوت سے عالمی برادری کا خمار زدہ ضمیر جھنجھوڑیں ۔ یہ مرحلہ بخیر و خوبی طے ہوا۔ وزیر اعظم کی تقریر نے بھارت کی ریاستی شدت پسندی کو بھر پور انداز میںبے نقاب کر ڈالا ہے۔ گو کہ تقریر کا مرکزی نکتہ کشمیر ہی تھا لیکن اسلامو فوبیا اور منی لانڈرنگ جیسے اہم مسائل کے حوالے سے بھی  اس تقریر کی گونج تادیر سنائی دیتی رہے گی ۔ عین ممکن ہے کہ اس خطاب کی بنیاد پر غرب اور اسلامی دنیا میں سنجیدہ فکری مکالمے کا آغاز ہو ‘ تاہم اس بھاری پتھر کو اٹھانے کے لیے رجال کار کو آگے آنا ہو گا ۔  اپنے مداحین کے حلقوں میں خطابت کے جوہر دکھانے والے شعلہ بیاں مقررین کی کمی نہیں البتہ مخالفین سے سنجیدہ علمی مکالمہ کر نے والے دانشوروں کا قحط ہے۔ 
 
بلاشبہ ہمارا معاشرہ قحط الرجال کا شکار ہے۔ بات دور نہ نکل جائے لہٰذا جنرل اسمبلی میں کی گئی حالیہ تقریر کے تناظر میں سامنے آنے والے متفرق تبصروں پر نگاہ ڈال لی جائے تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ معاشرہ شدید فکری تقسیم اور تعصب کا شکار ہے۔ حکمران جماعت کا ہر حامی تقریر کے صدقے واری ہو رہا ہے جبکہ حزب اختلاف کے نزدیک جنرل اسمبلی میں کیا گیا خطاب متاثر کُن  نہ تھا ۔ گو کہ ہر شخص اپنی رائے کے اظہار میں آزاد ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اپنی جماعتوں کی اندھا دھند حمایت کرنے والے خواتین و حضرات تعریف یا تنقید سے پہلے غیر جانبدارانہ انداز میں کسی معاملے کو پرکھنے کے عادی بھی ہیں ؟ اس سوال کا سیدھا سادھا جواب نفی میں ہے۔ اندھا دھند تنقید یا تعریف  ہی ہماری سیاسی جماعتوں کا شعار ہے۔
 بدقسمتی یہ ہوئی کہ اہم قومی مسائل پر بھی یہی ناقص روش اپنائی جا رہی ہے۔ کشمیر جیسے اہم اور حساس معاملے پر جو تقسیم آج دکھائی دے رہی وہ پہلے کبھی دکھائی نہیں دی۔ نہایت متوازن ،  مدلل اور جاندار خطاب پر محض اس لیے تنقید کی جا رہی ہے کہ مقرر کا تعلق حریف سیاسی جماعت سے ہے۔ یہ نکتہ بار بار اچھالا جا رہا ہے کہ تقریروں سے کچھ نہیں ہوتا ! عملی اقدامات درکار ہیں ! یہ بات جزوی طور پر درست ہے۔ لیکن جنرل اسمبلی کے فورم پر عالمی قائدین کو تقریروں کے لیے ہی بلایا جاتا ہے عملی اقدامات کے لیے نہیں ۔ ناقدین ایسے شکایت کر رہے ہیں گویا دیگر ممالک کے قائدین نے جنرل اسمبلی میںجمناسٹک‘ جادوئی کمالات اور کھیل تماشے دکھائے ہیں جبکہ ہمارے وزیراعظم کوئی کرتب دکھائے بغیر صرف تقریر کر کے واپس آگئے ہیں۔
 ماضی میں بھی پی پی پی اور نون لیگی قیادت جنرل اسمبلی میں محض خطاب ہی کیا کرتی تھی  اور اس مرتبہ بھی وزیراعظم صاحب نے خطاب ہی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان کا وزیراعظم نہ تو کسی بین الاقوامی فوڈ چین کے ریستوران پر سرکاری مال سے پیٹ پوجا کرتا دکھائی دیا اور نہ ہی اُس کے اہل خانہ مہنگے اسٹورز پر شاپنگ کا فریضہ انجام دیتے دکھائی دئیے۔ وزیراعظم نے ایک ایک لمحہ پاکستان ، کشمیر اور عالم اسلام کی ترجمانی کرتے گذارا۔ پاکستانی وزیراعظم کے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کو دنیا بھر میں پوری توجہ سے سنا گیا اور سراہا گیا۔ وزیر اعظم کی گفتگو اگر کسی کو سمجھ نہیں آئی تو  اصحاب حزب اختلاف کو نہیں آئی ۔ وہی گھسی پٹی  دلیل سے عاری تنقید جس نے معاشرے سے توازن و عدل جیسی اعلیٰ اقدار کا صفایا کر ڈالا ہے۔ پاکستان سفارتی محاذ پر مدت سے کوتاہی کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔ 
گزشتہ دس برس کی مجموعی ذمہ داری پی پی پی اور نون لیگ کے کھاتے میں درج ہے۔ وزیراعظم نے حالیہ دورے میں غیر معمولی تحرک کا مظاہرہ کر کے سابقہ ادوار کی کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ بہتر ہوگا کہ نون لیگ اور پی پی پی کی قیادت اپنے سابقہ ادوار کی کارگزاری اور  کرتوتوں کا جائزہ لے کر ضرورت محسوس کرے تو قوم سے معافی مانگے ۔ عملی اقدامات کا مطالبہ کرنے والے پارلیمان یا میڈیا کے ذریعے ٹھوس عملی اقدامات تجویز کریں ۔ حیرت ہے ایک لمحے  تقریر پر عملی اقدامات کو فوقیت دیتے ہوئے تنقید کی جا رہی ہے اور دوسرے لمحے تقریر میں کشمیر پر زیادہ بات نہ کرنے کا شکوہ کیا جا رہا ہے۔ 
تقریر کو غیراہم مشغلہ  قرار دینے والے نون لیگ اور پی پی پی کے حامی ماضی میں بھٹو صاحب‘ بینظیر صاحبہ اور میاں صاحب کی تقریروں کے حوالے دے دے کر اپنی قیادت کے محاسن بیان کر رہے ہیں ۔ پاکستان کو اس سیاسی غیرسنجیدگی سے نجات ملنی چاہیے۔ ایک سیاسی جماعت کے ولی عہد فرما رہے تھے کہ کاش ہمارے وزیراعظم اُن کے نانا جان جیسے ہوتے۔ کیا آپ نے کبھی امریکہ میں کسی کو یہ کہتے سنا ہے کہ کاش باراک اوباما یا ڈونلڈ ٹرمپ بھی ابراہام لنکن جیسے ہوتے ! شخصیت پرستی ، موروثی سیاست اور مذہبی حلقوں میں اکابر پرستی نے معاشرے سے توازن ، اعتدال اور انصاف جیسی اعلیٰ انسانی اقدار مٹا دی ہیں ۔ ملک کو لاحق مسائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ اہم مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ بنیادی طور پر یہ ذمہ داری حکومت ہر عائد ہوتی ہے لیکن حزب اختلاف کے مثبت روئیے کے بغیرکوئی  سرکاری کاوش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ سیاسی قائدین اعتدال کا راستہ اپنا کر پاکستان پر رحم فرمائیں!

تازہ ترین خبریں