10:34 am
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا!

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا!

10:34 am

کسی تقریر میں سٹائل سے زیادہ اہم اس کے مندر جات اور مواد ہوتا ہے۔ لکھی ہوئی تقریر لیکن پراثر اس لیے نہیںہوتی کہ جذبات اور تقریر کے الفاظ میں ایک خلیج حائل ہوتی ہے اور بات دل کو وہی لگتی ہے جو کہ جذبے سے سرشار ہو۔ اقوام متحدہ میں عمران خان نے جو تقریر کی وہ سٹائل اور مواد کے لحاظ سے ایک شاہکار تقریر تھی۔ اس تقریر نے کشمیر کے حوالے سے خاص طور پرعالمی ضمیر کو زبردست انداز میں جھنجھوڑا ہے۔ کشمیر کے انتہائی الجھے ہوئے مسئلے کو جس آسان زبان میں وزیر اعظم نے دنیاپر واضح کیا ہے اس کی ماضی اور حال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ سفارتی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے بہترین الفاظ کے چنا کے ساتھ انہوں نے دنیا بھر کے انسانوںخاص طور پراہالیان مغرب کو پیغام دیا ہے کہ مادیت اور انسانیت کے درمیان کسی ایک چیز کا انتخاب کر لیں۔ بھارت کی 1.3ارب لوگوں کی منڈی کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرنے ہیں یا پھر انسانیت کو مقدم جان کر کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہے۔
 
یہ الفاظ جب وزیر اعظم ادا کر رہے تھے تو ان کے درد کو دنیا بھر میں محسوس کیا گیا۔ اقوامِ عالم کی مسئلہ کشمیر پر بے حسی ختم ہونے کی اگرچہ زیادہ توقعات نہیں ہیں لیکن وزیر اعظم نے کشمیر کا مقدمہ اپنے انداز سے جس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس سے پاکستان کو یقینی طور پر ایک فائدہ ہو گا اور وہ یہ کہ کشمیر میں جو لاوا پھٹنے والا ہے اس کوبھارت پہلے کی طرح سرحدپار دراندازی اور دہشت گردی سے تعبیر کرنے سے کوشش کرے گا تو دنیا اس کو تسلیم نہیں کرے گی۔ جب عمران خان نے پہلی مرتبہ کہا کہ آرٹیکل 370اے کا خاتمہ کر کے نریندر مودی پھنس گیا ہے تو اس وقت لوگوں کو اندازہ نہ تھا کہ پاکستانی قائد کن خطوط پر سوچ رہا ہے اور اس نے کیا حکمت عملی واضح کر لی ہے‘ پھر جب وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ ایک وکیل بن کر لڑیں گے تو اس وقت بھی یہ واضح نہ ہو سکا کہ خان کے ذہن میں ایسا کیاہے۔ 
اب جب کہ وزیر اعظم کشمیر کے مقدمے کو بہترین انداز سے اقوام کے سامنے پیش کرنے کے بعد داد و تحسین وصول کر رہے ہیں ' میرے ذہن کی گتھیاں آہستہ آہستہ سلجھ رہی ہیں اور میں آنے والے دنوں کی دھندلی سی تصویر دیکھنے کے قابل ہو رہا ہوں۔ میری دانست کے مطابق پاکستانی قیادت کشمیر کے حوالے سے ایک نتیجے میں پہنچ چکی ہیں اور یہ وہی نتیجہ ہے جو وقت کے زیرک وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اخذ کیا تھا۔ مسئلہ کشمیر قرارداد کی مذمت سے نہیں بلکہ بھارتیوں کی مرمت سے حل ہو گا۔ آپریشن جبرالٹر کیوں ناکام ہوا‘ اس کی کئی وجوہات تھیں لیکن آج کے حالات بہت مختلف ہیں۔ آج کے کشمیر میں بھارت کے ناپاک ارادوںکا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے۔ آج کشمیر میں آگ بھڑکے گی تو ہندوتوا کا وجود جل کر رہے گاکوئی شیخ عبداللہ اور کوئی مفتی سعید آج ان کی مدد کو پہنچنے والا نہیں ہے۔ حکمت یار اپنی حکمت عملی وضع کر چکے ہیں چنانچہ کشمیر سے کرفیو اٹھنے کی دیر ہے اور جب تک کرفیو نہیں اٹھتا وزیر اعظم عمران خان اپنی بہترین سفارت کاری کی بدولت منظرنامے کو پاکستان کے حق میں ہموار کرتے جا رہے ہیں۔اب تک جو سفارت کاری ہوئی ہے اس کے 100میں سے 100 نمبر ہیں جب کہ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں اس ضمن میں جو تقریر کی ہے اس کے سو فیصد نمبروں کے ساتھ’’ایکسیلنٹ‘‘کے اضافی ریمارکس بھی ہیں۔
وزیراعظم کی سب سے بڑی خوبی اعتماد اور صاف گوئی ہے ۔ وہ غلط بات کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اچھے انداز سے اس کی توجیح پیش کر دیتے ہیں۔ نریندر مودی کا دراندازی کا الزام اور اس کے جواب میں کلبھوشن کا ذکر انہوں نے جس خوبصورت پیرائے میں کیا وہ ان کی مدبرانہ سوچ کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں بیان کر دیا کہ پاکستان سے اگر بھارت میں کوئی دراندازی ہوئی بھی ہے تو بھارت بھی تو کلبھوشن جیسے جاسوسوں کے ذریعے یہی کچھ پاکستان میں کرتا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے اس خوبصورت استدلال کے مقابلے میں پاکستانی حکومت کا وہ بونگا موقف میرے ذہن میں آ رہا ہے جو کل کارگل جنگ کے موقع پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ اگر یہ کہا جاتا کہ بھارت  سیز فائر لائن کے تقدس کو ہمیشہ پامال کرتا آ رہا ہے ‘چنانچہ کارگل میں پاکستانی فوج کی پیش قدمی اسی تناظر میں ہے تو اس کا اثر دنیا پر اور طرف سے پڑتا مگر کشمیری مجاہدین کی جعلی سٹوری تراشی گئی جس کا ہمیشہ فائدے کی بجائے بہت نقصان ہوا۔ بھارت نے سیاچن اور دراس کی جغرافیائی حیثیت بزور طاقت تو تبدیل کر لی مگر ہم کارگل میں ایسا نہ کر سکے‘وجہ ہمارا بصیرت سے عاری غلط مقف بنا۔باقی تاریخ ہے۔
موضوع کی مناسبت سے عرض کرتا چلوں کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں مغرب کے اسلام فوبیا ’’ اسلام کی درست تعبیر‘‘ اسلامی دہشت گردی اور ناانصافی کے ضمن میں جو باتیں کیں وہ سنہرے حروف سے لکھنے کے لائق ہیں۔ اسلام کا مقدمہ بھی اقوام متحدہ میں اتنے جامع اور مدلل انداز میں آج تک کسی مسلم رہنما نے نہیں لڑا۔ ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے لیے وزیر اعظم نے جو کلمات ادا کیے ہیں اس نے تو دلوں کوہلا کر رکھ دیا ہے ۔الغرض وزیر اعظم کی تقریر کا ایک ایک لفظ سونے سے تولنے کے قابل ہے ۔ مرزا غالب یاد آتے ہیں۔
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

تازہ ترین خبریں