10:35 am
مولانا کے مارچ کا بھاری پتھر اور کرپشن زدہ ہاتھ

مولانا کے مارچ کا بھاری پتھر اور کرپشن زدہ ہاتھ

10:35 am

اس خاکسار کی تو بہت پہلے سے ہی یہ رائے تھی کہ ن لیگ ہو یا پیپلزپارٹی یہ ڈیل پروگرام کے تحت چل رہی ہیں جنہیں ’’مولانا‘‘ کے تحفظ ختم نبوتؐ اور تحفظ ناموس رسالتؐ کے ایجنڈے  پر اعتراض ہے ان میں عوامی مسائل پر کیا خاک اتفاق ہوگا؟
جن تلوں میں  روز اول سے ہی تیل نہ تھا ’’مولانا‘‘ ان تلوں سے تیل کیسے برآمد کر سکتے تھے؟ مگر آفرین ہے مولانا فضل الرحمن پر کہ انہوں نے ڈیل کی تلاش میں ماری ماری پھرنے والی ان جماعتوں کو بھی جیسے تیسے دھرنے اور آزادی مارچ میں گھسیٹنے کے عمل کو جاری رکھا‘ مگر کیوں؟ اس کیوں کا بہتر جواب تو مولانا فضل الرحمن ہی دے سکتے ہیں جہاں تک میرا تجزیہ ہے کہ شایدمولانا پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی ’’ڈیل‘‘ کی منتظر سیاست کو عوام پر آشکارہ کرنا چاہتے تھے۔
سچی بات ہے کہ کرپشن کیسزز میں گردن تک پھنسی ہوئی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت بھلا کب چاہے گی کہ اسلام آباد میں ایک ایسا دھرنا دیا جائے کہ جس کا نام آزادی مارچ ہو اور  اس مارچ میں تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت پر بھی بات ہو؟ وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں کی گئی اپنی تقریر میں ناموس رسالتؐ کے حوالے سے کھل کر بڑی جاندار گفتگو کی۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ عالمی سطح پر بھی ناموس رسالتؐ کے حوالے سے جو سازشیں جاری ہیں ان کا توڑ کیا جائے لیکن زرداری پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور نواز شریف لیگ کے خرم دستگیر فرماتے ہیں کہ نہ تو ناموس رسالتؐ کو کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی ختم نبوتؐ کے قوانین کو‘ لہٰذا آزادی مارچ کے ایجنڈے پر یہ شق نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ’’مولانا‘‘ نے بڑی حکمت عملی کے ساتھ نہ صرف آزادی مارچ کے ایجنڈے پر اس شق کو بحال رکھا‘ بلکہ اپوزیشن کی ان ڈیل کی منتظر جماعتوں کو بھی پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔
 اب اکتوبر شروع ہوچکا ہے‘ یہی وہ مہینہ ہے کہ جس میں آزادی مارچ کا ’’مولانا‘‘ نے اعلان کر رکھا ہے‘ منگل کے روز بلاول زرداری اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مولانا کے اعلان کردہ آزادی مارچ میں شرکت کی بجائے دونوں لیڈر اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ وہ مولاناسے مل کر مارچ نومبر میں کرنے کی درخوست کریں گے۔ اسے کہتے ہیں نہ ’’ہینگ لگے‘ نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے‘‘   سوال یہ ہے کہ نومبر میں جب سردی کا شباب شروع ہوگا‘ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اپنے کتنے کارکنوں کو دھرنے کے لئے  نکال پائے گی؟ کوئی بلاول اور شہباز شریف سے پوچھے کہ اکتوبر میں کیوں نہیں؟ اور  نومبر میں ہی کیوں؟ کیا انہیں اکتوبر میں عوامی مسائل حل ہونے کی امید ہے؟ کیا اکتوبر میں مبینہ دھاندلی زدہ انتخابات کا معاملہ درست ہو جائے گا؟ یا پھر نکے دے ’’ابا‘‘ نے انہیں نواز اور زرداری کی رہائی کی کوئی نوید سنائی ہے؟
نواز شریف اور آصف زرداری کے کرپشن کیسز میں ان کی جماعتیں پھنسی ہوئی ہیں تو پھنسی رہیں‘ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے‘ کارکن مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو اپنے دکھوں کا مداوا سمجھنا شروع ہوچکے ہیں‘ حکومت نے مہنگائی کے ذریعے جس طرح سے عوام پر بے پناہ بوجھ لاد دیا ہے‘ اب عوام کسی حقیقی نجات ہندہ کی تلاش میں ہیں‘ اب یہ بات تو پی ٹی آئی کے سنجیدہ حلقے بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ گزشتہ ایک سال میں ’’حقیقی اپوزیشن‘‘ کا رول ’’مولانا‘‘ اور ان کی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف)نے ہی ادا کیا ہے۔
آزادی مارچ اکتوبر میں کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ مولانا کو ہی کرنا ہے لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اگر مولانا ان کرپشن زدہ ڈیل کی منتظر جماعتوں کے لیڈروں کے کہنے پر مارچ کی تاریخ بڑھاتے چلے جائیں گے تو اس سے ان کے اپنے کارکنوں اور عوام کا اعتماد بھی مجروح ہو جائے گا۔
مولانا سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ آزادی مارچ کا بھاری پتھر کرپشن زدہ ہاتھوں سے اٹھانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے‘ کچھ لوگ اس بھاری پتھر کو چوم کر وہیں رکھ کر آگے بڑھ جائیں گے‘ کچھ لوگ بھاری پتھر کو دور سے دیکھ کر ہی مسکراتے ہوئے گزر جائیں گے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی سرپھرے ہوں گے کہ اس بھاری پتھر کو سینے سے لگا کر مشکلات سے ٹکرا جائیں گے۔
گو کہ ’’مولانا‘‘ کے کارکنوں میں ’’مولوی‘‘ کثرت سے پائے جاتے ہیں (میں دینی مدارس کے طلباء کی بات نہیں کر رہا) اور یہ مولوی صاحبان وہ ہیں کہ جن کا بچپن‘ برگر اور پاپے کھا کر نہیں گزرا بلکہ ان میں سے بہت سوں نے روٹی کے خشک ٹکڑے پانی یا قہوے میں بھگو بھگو کے کھا رکھے ہیں‘ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے مدرسوں اور مسجدوں میں آزادی مارچ کی کامیابی کی دعائیں آج سے ہی شروع ہوچکی ہیں‘ آزادی مارچ کی کامیابی کے لئے گھروں میں سورہ یٰسین اور درود شریف کے ختم کروائے جارہے ہیں۔مطلب یہ کہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کی کامیابی کے لئے صرف عوام پر ہی انحصار کافی نہیں سمجھا بلکہ انہوں نے عرش عظیم کے مالک سے بھی آزادی مارچ کی کامیابی کے لئے مدد مانگ رکھی ہے۔
عرصہ دراز ہونے کو ہے ’’نکے‘‘ دے ابا سے ان کے تعلقات خراب ہیں‘ اس لئے انہیں آزادی مارچ میں ’’نکوں‘‘ کے آنے کی تو کوئی امید نہیں ہے بلکہ وہ تو  اس حوالے  سے دو بڑی جماعتوں کو ’’نکی‘‘ ہوتے دیکھ کر حیران و پریشان ہیں۔بہرحال کوئی ’’نکی‘‘ ہو یا ’’ نکا‘‘ ہو انہیں اپنے ’’ابا‘‘ سے کہہ دینا چاہیے کہ عوام کو مہنگائی کی چکی میں پس کر جس طرح سے مارنے کی کوششیں ہو رہی ہیں بزنس‘ کاروبار جس طرح سے ٹھپ پڑے ہیں اگر حکومت ان مسائل کا فوری حل تلاش کرکے عوام کو ریلیف مہیا نہیں کرے گی تو پھر عوام آزادی مارچ کے ذریعے اپنا جمہوری حق استعمال کرکے ’’نکوں‘‘ سے زبردستی جان چھڑانے پر مجبور ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں