10:36 am
قاتل پکڑا گیا

قاتل پکڑا گیا

10:36 am

٭چونیاں: چار بچوں کا قاتل پکڑا گیا، وزیراعلیٰ پنجابO فضل الرحمان کا، آزادی مارچ، ملتوی ہونے کا امکانO بجلی، نرخوں میں مزید اضافہO ریلوے ہزاروں ٹن سکریپ (ناکارہ لوہا)، افسر 19 کروڑO ملیحہ لودھی فارغ، اصل کہانیO مقبوضہ کشمیر لاک ڈائون دو ماہ پورےO شکارپور سول ہسپتال، غریب زچہ، تین گھنٹے داخل نہ کیا گیا باہر فرش پر زچگیO بلاول: میرپور کا دورہO مرادعلی شاہ کو ہاتھ نہ لگانا، بلاول کی دھمکی۔
٭میرے نزدیک اہم ترین خبر چونیاں ضلع قصور کے چار بچوں کے قاتل ملزم سہیل شہزاد کی گرفتاری کی ہے۔ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ پہلی بار صوبے کے وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور وزراء نے اس گرفتاری کے بارے میں اکٹھے پریس کانفرنس کی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ صوبے اور وفاق کے چھ انٹیلی جنس اداروں نے دن رات مسلسل تحقیقات کیں۔ 4600 گھروں کو چیک کیا گیا، 1543 افراد کے ڈی این ٹیسٹ ہوئے 904 رکشا ڈرائیوروں سے پوچھ گچھ کی گئی، 8307 موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کیا گیا، 1049 مشکوک افراد سے انکوائری کی گئی۔ اس کیس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی تحقیقات میں پنجاب پولیس، سپیشل برانچ، فرانزک سائنس آفس، ایک حساس ادارہ، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ آفس، کابینہ کمیٹی داخلہ کے علاوہ دوسرے اداروں نے بھی الگ الگ اور مشترکہ تحقیقات بھی کیں، بالآخر چونیاں کے رانا ٹائون کے کرایہ دار رکشہ ڈرائیور سہیل شہزاد کا ڈی این اے بچوں کے ڈی این اے سے میچ کر گیا۔ وہ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد چونیاں کو چھوڑ کر رحیم یار خان بھاگ گیا تھا۔ اس کے اس طرح غائب ہونے پر اس کے بارے میں شکوک پیدا ہوئے۔ وہ اکیلا ہوتا تو شائد گم نام رہتا مگر اس کے بھائی نے رحیم یار خان کاپتہ بتا دیا۔ اسے پکڑنے کے لئے ایس پی عہدہ کے دو بڑے افسر رحیم یار خان گئے۔ اس کو گرفتار کر کے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا تو وہ میچ کر گیا۔ سہیل شہزاد رکشہ چلانے کے علاوہ تنور پر روٹیاں بھی لگاتا رہا ہے۔ ستم یہ کہ وہ اس سے پہلے بھی ایک کیس میں گرفتار ہوا، پانچ سال قید کی سزا ہوئی مگر ڈیڑھ سال بعد رہا کر دیا گیا؟ یہ تحقیقات بہت ضروری ہے کہ اسے کس نے اس طرح رہا کرایا؟ پولیس اور عدالت کا کیا کردار تھا؟ ایسے عدل و انصاف پر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ بچوں کے ساتھ وارداتوں کی تفصیل میں جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ پتہ نہیں بلھے شاہ کی نگری پر کیا آسیب نازل ہوا ہے! یہاںاس طرح کے پے درپے واقعات پیش آ رہے ہیں! کیا یہ نگری روحانیت اور اخلاقی اقدار سے بانجھ ہو گئی ہے؟ مگر جب تک پانچ سال قید والا مجرم ڈیڑھ سال بعد رہا ہوتا رہے گا، نہ صرف قصور، دوسری دھرتیاں بھی اسی طرح بانجھ رہیں گی۔ میں ایسے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کا مخالف ہوں اس سے معاشرہ میں اذیت ناک نفسیاتی انتشار پھیلتا ہے مگر صرف ایک پھانسی سے تو اتنے خوفناک مجرم کا ازالہ کیسے ہو سکے گا؟
٭ اور اب وہی سیاسی فضولیات! کیا چال چلی ہے ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ! ان کے اکتوبر میں ’آزادی مارچ‘ کے نام پر اسلام آباد پر لشکر کشی کو نومبر کے آخر تک لے جانے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس طرح عمران خاں کی حکومت کو مزید دو ماہ قائم رہنے کی مہلت مل جائے گی مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ نومبر کے آخر میں اسلام آباد میں سخت سردی ہو گی۔ سکردو میں تو برف باری شروع بھی ہو گئی ہے۔ چند سو افراد کی بات ہوتی تو کچھ ممکن بھی تھا، مولانا تو 15 لاکھ سے زیادہ بڑے لشکر کی بات کر رہے ہیں۔ ملک کی تاریخ میں کبھی اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا گیا۔ یہ دوسری بات کہ 15 لاکھ سے زیادہ افراد کی موجودہ سڑکوں پر نقل و حرکت کیسے ممکن ہو سکے گی؟ میں ذرا سی بات کرتا ہوں تو مجھے ’ٹھیک کئے جانے‘ کے پیغامات موصول ہونے لگتے ہیں مگر کوئی صاحب ریاضی میں دلچسپی رکھتے ہوں تو حساب لگا کر دیکھ لیں کہ ایک آدمی چار مربع فٹ جگہ گھیرتا ہے، 15 لاکھ افراد 60 لاکھ مربع فٹ جگہ گھیریں گے۔ ایک قطار میں 15 افراد بھی ہوں تو ایسا لشکر تقریباً 50 میل تک پھیل جائے گا۔ گاڑیوں  کی صورت میں تو جگہ کئی گنا مزید بڑھ جائے گی۔متعدد سڑکیں بند ہو جائیں گی۔ 15 لاکھ افراد کی طویل مدت تک رہائش، کھانا پینا، سونا، دوسری حاجتیں بھی ہوں گی! اور پھر یہ امکان بھی ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نومبر کے آخر میں سخت سردی کا نام لے کر اسلام آباد کی لشکر کشی کو مزید آگے ٹال دیں۔ ان دونوں پارٹیوں کا سارا مسئلہ تو نوازشریف اور آصف زرداری کو رہا کرانا ہے۔ اسلام آباد کے دھرنے سے کیا ہاتھ آئے گا؟ ویسے ایک اہم نکتہ کہ حکومت ’آزادی مارچ‘ کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی! کیا کوئی سکیورٹی مل چکی ہے؟
٭ملیحہ لودھی کو اقوام متحدہ سے فارغ کئے جانے کا بہت شور مچ رہا ہے۔ مختلف شگوفے چھوڑے جا رہے ہیں۔ ایک شگوفہ یہ کہ ملیحہ کی بہو ہندو ہے اس کے بلکہ بھارتی سفیر اور اس کے ذریعے بھارتی وزیراعظم مودی کے ساتھ رابطے ہیں۔ یہ باتیں محض جذباتی ہیں۔ اتنے اونچے بین الاقوامی لیول پر کوئی چیز چھپی نہیں رہتی۔ دنیا بھر کے سفارت خانوں میں قونصلر، منسٹر، سیکرٹری اور اتاشی سطح کے عہدیدار محض عام سفارت کار نہیں ہوتے، انٹیلی جنس کے مکمل تربیت یافتہ بھی ہوتے ہیں جب کہ بعض عہدیدار تو فوجی اور دوسرے اداروں کی انٹیلی جنس سے ہی آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ملک کے مفاد میں ہر وقت چوکس اور چوکنے رہتے ہیں اور پیچھے لمحہ لمحہ کی رپورٹیں بھیجتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ اقوام متحدہ جیسے ہمہ وقت بھرے ہوئے ادارے میں پاکستانی سفیر کی بہو کے بھارت جیسے دشمن ملک سے رابطے ہوں اور کسی کو پتہ نہ چلے! جب کہ امریکہ میں پاکستان کا الگ بڑا سفارت خانہ بھی ہے۔ اب یہ بات کہ ملیحہ کی بہو نے اسلام قبول کیا ہے یا نہیں؟ میں اس بارے میں لاعلم ہوں۔ ملیحہ کا بیٹا اور بہو دونوں ایشیا بنک میں بڑے عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور مغربی روایات کے مطابق اپنی زندگی میں مکمل آزاد اور خود مختار ہیں۔ دونوں ملیحہ سے الگ رہتے ہیں۔ ویسے دو مذاہب کی آپس میں شادیاں کوئی انوکھی بات بھی نہیں۔ اس کی اہم ترین مثال کہ 1956ء میں مغربی پاکستان کا وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب کو بنایا گیا وہ باچا خان کے بڑے بھائی اور خان عبدالولی خان کے تایا تھے۔ ان کی بیوی انگریز، داماد سکھ اور بہو پارسی تھی۔ کسی نے کبھی کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ ہمارے ایک وزیراعظم کی دادی اور ایک وزیراعظم کی اہلیہ محترمہ ہندو تھیں شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ملیحہ کی بات البتہ اس لئے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ یہ خاتون ہر حکومت کے دور میں اہم غیر ملکی عہدوں پر موجود رہی۔ ایک دوسرے کے مخالف حکمران آئے مگر اس خاتون کو ان عہدوں سے فارغ نہ کر سکے۔ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو اسے امریکہ میں سفیر بنا دیا۔ جنرل مشرف نے انگلستان میں ہائی کمشنر بنایا، نوازشریف نے اقوام متحدہ میں بھیج دیا۔ ان عہدوں پر یہ خاتون تقریباً 15 برس موجود رہی۔ اب اس کی مدت ختم ہو گئی تھی، اسے فارغ کر دیا گیا ہے تو شور مچ رہا ہے کہ نوازشریف کے خلاف بالواسطہ کارروائی ہوئی ہے۔ جہاںتک منیر اکرم کا تعلق ہے تو اس بارے میں بھارتی میڈیا کے جملے کافی ہیںکہ بھارت کے خلاف مسلسل زہر اگلنے والے پرانے سفارت کار کو پھر بھارت کو گالیاں دینے کے لئے لایا گیا ہے!
ریلوے کے اعلیٰ افسر مل ملا کر ہزاروں ٹن سکریپ (ناکارہ لوہا) کی فروخت میں 19 کروڑ روپے سے زیادہ کھا گئے۔ نیب نے ریکارڈ مانگا تو معذرت کر دی کہ گم ہو گیا ہے!
٭شکارپور ہسپتال تمام اخبارات کی خبر نواحی گائوں بھوجانا سے ایک غریب عورت ثمین آئی۔ بچہ ہونے والا تھا۔ لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ پہلے الٹرا سائونڈ اور بلڈ ٹیسٹ کرائو۔ وہ تین گھنٹے ہسپتال میں گھومتی رہی۔ کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ بالآخر ہسپتال کے باہر فرش پر ہی زچگی ہو گئی اس پر بھی ہسپتال کے اندر نہ لے جایا گیا اور لواحقین ایک رکشےمیں ڈال کر گھرلے گئے…سندھ کی وزیر صحت عذراا فضل پیجوہوہیں!

تازہ ترین خبریں