09:43 am
بدشگونی سے بچئے!

بدشگونی سے بچئے!

09:43 am

فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ’’صفر کوئی چیز نہیں‘‘۔ (صحیح البخاری، الحدیث ۵۷۵۷، ج۴، ص۳۶)۔ 
یعنی ’’لوگوں کا اسے منحوس سمجھنا غلط ہے اور ہر ماہ میں 3‘ 13‘ 23‘ 8‘ 18‘ 28کو منحوس جانتے ہیں یہ بھی لغو (یعنی فضول) بات ہے‘‘۔(بہارِ شریعت، ج۳، ص۶۵۹) 
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے  ’’جس نے بدشگونی لی اور جس کیلئے بدشگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔ (المعجم الکبیر، ۱۸، ۱۶۲، حدیث: ۳۵۵ و فیض القدیر، ۳/۲۸۸، تحت الحدیث: ۳۲۰۶)
کسی شخص، جگہ، چیز یا وَقت کو منحوس جاننے کا اسلام میں کوئی تصور نہیں یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں۔ امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ سے اسی نوعیت کا سوال کیا گیا کہ ایک شخص کے متعلق مشہور ہے، اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ دِقت اور پریشانی اٹھانی پڑیگی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وثوق (اِعتماد اور بھروسہ) ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور رکاوٹ اور پریشانی ہو گی چنانچہ اُن لوگوں کو ان کے خیال کے مناسب ہربار تجربہ ہوتا رہتا ہے اور وہ لوگ برابر اِس اَمر کا خیال رکھتے ہیں کہ اگر کہیں جاتے ہوئے اس سے سامنا ہوجائے تو اپنے مکان پر واپس آ جاتے ہیں اورتھوڑی دیر بعد یہ معلوم کرکے کہ وہ منحوس سامنے تو نہیں ہے‘ اپنے کام کیلئے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ عقیدہ اور طرزِعمل کیسا ہے؟ کوئی قباحت شرعیہ تو نہیں؟ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا‘ شرعِ مطہر میں اسکی کچھ اصل نہیں، لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے۔ شریعت میں حکم ہے  ’’جب کوئی شگونِ بدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔ وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے، مسلمانوں کو ایسی جگہ چاہئے کہ اے اللہ! نہیں ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں) پڑھ لے اور اپنے رب عزوجل پر بھروسا کر کے اپنے کام کو چلا جائے، ہر گز نہ رُکے، نہ واپس آئے‘‘۔ 
کسی شخص کو منحوس قرار دینے میں اس کی سخت دِل آزاری ہے اور اس سے تہمت دھرنے کا گناہ بھی ہوتا ہے اور یہ دونوں جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بعض اوقات انسان کے دل میں برے شگون کا خیال آ ہی جاتا ہے اسلئے کسی شخص کے دِل میں بَدشگونی کا خیال آتے ہی اسے گنہگار قرار نہیں دیا جائیگا کیونکہ محض دِل میں برا خیال آجانے کی بنا پر سزا کا حقدار ٹھہرانے کا مطلب کسی اِنسان پر اس کی طاقت سے زائد بوجھ ڈالنا ہے اور یہ بات شرعی تقاضے کیخلاف ہے۔
رسولِ بے مثال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشادفرمایا ’’بدفالی لینا شرک ہے، بدفالی لینا شرک ہے‘‘، یہ تین مرتبہ فرمایا، (پھر اِرشادفرمایا) ’’ہم میں سے ہر شخص کو ایسا خیال آ جاتا ہے مگراللہ عزوجل توکل کے ذریعے اسے دُورفرما دیتا ہے‘‘۔ حضرتِ سیدنا علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں ’’بدشگونی لینے کو شرک قرار دیا گیاہے کیونکہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کااِعتقاد تھا کہ بدشگونی کے تقاضے پرعمل کرنے سے ان کونفع حاصل ہوتا ہے یا ان سے ضرر اور پریشانی دُور ہوتی ہے اورجب انہوں نے اسکے تقاضے پرعمل کیا تو گویا انہوں نے اللہ عزوجل کیساتھ شرک کیااور اسی شرکِ خفی کہا جاتا ہے (جو کہ گناہ ہے) اوراگر کسی شخص نے یہ عقیدہ رکھا کہ فائدہ دِلانے اور مصیبت میں مبتلا کرنیوالی اللہ تعالیٰ کے سوااورکوئی ذات ہے جو ایک مستقل طاقت ہے تواس نے شرکِ جلی کا اِرتکاب کیا ہے (جو کہ کفر ہے)۔ 
بدشگونی لینا عالمی بیماری ہے، مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف لوگ مختلف چیزوں سے ایسی ایسی بدشگونیا ں لیتے ہیں کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے چنانچہ کبھی اندھے، لنگڑے، ایک آنکھ والے اور معذور لوگوں سے تو کبھی کسی خاص پرندے یا جانور کو دیکھ کر یا اس کی آواز کو سن کر بدشگونی کا شکا ر ہوجاتے ہیں۔ کبھی کسی وقت یا دِن یا مہینے سے بدفالی لیتے ہیں۔ کوئی کام کرنے کا اِرادہ کیا اور کسی نے طریقہ کار میں نقص کی نشاندہی کردی یا اس کام سے رُک جانے کا کہا تو اس سے بدشگونی لیتے ہیں کہ اب تم نے ٹانگ اَڑا دی ہے تو یہ کام نہیں ہوسکے گا۔ کبھی ایمبولینس کی آواز سے تو کبھی فائربریگیڈ کی آواز سے بدشگونی میں مبتلاہوتے ہیں۔ کبھی اخبارات میں شائع ہونے والے ستاروں کے احوال  سے اپنی زندگی کو غمگین و رَنجیدہ کر لیتے ہیں۔ کبھی مہمان کی رُخصتی کے بعد گھر میں جھاڑو دینے کو منحوس خیال کرتے ہیں۔ کبھی جوتا اُتارتے وقت جوتے پر جوتا آنے سے بدشگونی لیتے ہیں۔ کسی کا کٹا ہوا ناخن پائوں کے نیچے آ جائے تو آپس میں دُشمنی ہوجانے کی بدشگونی لیتے ہیں۔ سیدھی آنکھ پھڑکے تو یقین کرلیتے ہیں کہ کوئی مصیبت آئیگی۔ عید جمعہ کے دن ہوجائے تو اسے حکومت وَقت پر بھاری سمجھتے ہیں۔ 
کبھی بلی کے رونے کو منحوس سمجھتے ہیں تو کبھی رات کے وقت کتے کے رونے کو۔ مرغا دن کے وقت اَذان دے تو بدفالی میں مبتلا ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ اسے ذَبح کر ڈالتے ہیں۔ پہلا گاہگ سودا لئے بغیر چلا جائے تو دکاندار اس سے بد شگونی لیتا ہے۔ نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہوجائے یا کسی عورت کی صرف بیٹیاں ہی پیدا ہوں تو اس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں