09:44 am
مومنین اورمنافقین میں مکالمہ سورۃالحدید کی  روشنی میں

مومنین اورمنافقین میں مکالمہ سورۃالحدید کی روشنی میں

09:44 am

 سورۃالحدید کی آیات 7 تا 11میں مسلمانوں سے خطاب ہے اور انہیں جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ تمہارے اندر یقین کی کمی کیوں ہے۔ جب تم نے اللہ کو رب مان لیا تو ہرچہ باداباد۔ محمد رسول اللہ کو اللہ کا نمائندہ تسلیم کر لیا تو اب اللہ اور رسول اللہﷺ کی اطاعت سے گریز کیوں ہے۔ دیکھو! یقین والا ایمان لائو اور اللہ کے راستے میں جان و مال خرچ کرو۔ یہ مال جو تمہارے پاس ہے تمہارا نہیں ہے، اللہ کا ہے۔ یہ تمہارے پاس اس کی امانت ہے۔ اسی طرح یہ جان بھی تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اگر مومن ہو تو انہیں اللہ کے راستے میں کھپائو۔ آنحضورﷺ  کی  تربیت  ا ور  صحبت  کے  فیض  سے  صحابہ کرامؓ  کو یہ بات سمجھ میں آچکی تھی۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شہادت کامرتبہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی حقیقت جان چکے تھے کہ دنیا امتحان گاہ ہے ۔ اصل گھر آخرت ہے۔ لہٰذا وہ ان آیات کا عملی نمونہ بنے بلکہ عمل کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ انہوں نے اللہ کے دین کے غلبہ کے لئے اپنا تن من دھن نچھاور کر دیا۔ اللہ کے رسولﷺ کا جہاں پسینہ گرا وہاں وہ اپنا خون بہانا سعادت سمجھتے تھے۔ وہ منتظر رہتے تھے کہ کب موقع آئے کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی گردن کٹادیں۔ انہیں یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا مشن غلبہ دین ِحق ہے، اور اللہ نے جہاد و قتال کا حکم اسی لئے دیا ہے، تا کہ فتنہ کا خاتمہ ہو اور دین کے اللہ کے لئے خالص ہو جائے۔ لہٰذا وہ ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہو گئے۔ 
 
فتنہ کیا ہے؟اللہ کی زمین پر غیر اللہ کی حاکمیت کے اصول پر مبنی نظام ۔ یہ زمین اللہ کی ہے ، اس پر حاکمیت کا حق بھی اُسی کا ہے۔ لہٰذا جو شخص یا گرو ہ اللہ کے حقِ حاکمیت کی بجائے اپنی حاکمیت چاہتاہے وہ درحقیقت فتنہ برپا کرتا ہے، اور مالک حقیقی کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ لہٰذا حکم ہے کہ فتنہ و بغاوت کے خلاف قتال کیا جائے تا آنکہ فتنہ و فساد ختم ہو جائے اور دین، نظام اطاعت کُل کا کُل اللہ کے لئے ہو جائے۔ صحابہ کرامؓ  نے فتنہ کے خاتمہ اور دین کے غلبہ کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دیں ۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب لوگ جو ق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے تو ان لوگوں میں ایسے بھی تھے جن کی ایمان کی کیفیت وہ نہیں تھی جو مطلوب ہے۔ دنیا کی محبت ان کے اندر سے ابھی نکلی نہیں تھی۔ لہٰذا انہیں جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ تمہیں کیا ہوا کہ اللہ پر یقین قلبی نہیں رکھتے،اور اللہ کی راہ میں مال خرچ نہیں کرتے۔ یوں تو زمین و آسمان کی ہر شے اللہ کی میراث ہے، لیکن اگر تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ، اس کے دین کے غلبہ کے لئے مال لگائو گے تو یہ گویا اللہ کو قرض دینے کے مترادف ہو گا اور اِس پر تمہیں بڑے اجر سے نواز ا جائے گا۔
اب آیت 12 اور مابعد میں آخر ت کا نقشہ آرہا ہے۔ دنیا میں تو ہر طرح کے لوگ مسلمان معاشرے میں شامل تھے۔ اس معاشرے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ بھی تھے جو انبیاء و رسل کے بعد سب سے بلند رتبہ رکھتے ہیں۔ جن کو آپﷺ نے ان لوگوں میں شامل فرمایا جن کے ایمان کی روشنی مدینہ سے صنعا تک جائے گی۔ پھر یہاں حضرت عمر فاروقؓ ، حضرت عثمان غنیؓاور حضرت علیؓاور عشرہ و مبشرہ اور دیگر صحابہ کرامؓبھی ہیں جن کے ایمان کی کیفیت کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ دوسری طرف اسی معاشرے میں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی بھی تھے جو بظاہر مسلمانوں کی صفوں میں شامل تھے اور انہیں مسلمان سمجھا جاتا تھا مگر وہ اسلام کی جڑیں کاٹنے کے در پے رہتے تھے۔ اِن دونوں کے درمیان معاشرے میں کچھ کچے پکے مسلمان بھی تھے جو ایمان تو لائے تھے، انہوں نے کلمہ پڑھ لیا تھا، مگر اندر یقین قلبی کی کمی تھی۔ دنیا میں ہر طرح کے مسلمان اسلامی معاشرے کا حصے ہیں، اور قانونی اعتبار سے انہیں مسلمانوں کے تمام حقوق حاصل ہیں، مگر آخرت میں چھانٹی ہو جائے گی۔ یہاں اسی چھانٹی کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے۔ فرمایا:
’’جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان ( کے ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہے ۔‘‘
 یہاں’’ یوم‘‘ سے مراد میدان حشر کا کوئی مرحلہ ہے ۔ میدان حشر کے بہت سے مراحل ہیں ۔ جو شخص بھی دنیا میں پیدا ہوا ، اسے ان مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ انہی مراحل میں ایک مرحلہ وہ ہے جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔ یہ غالباً وہ مرحلہ ہے جسے ہم پل صراط کے حوالے سے جانتے ہیں۔ ایک ہی گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو گا اور تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک راستہ ہو گا ۔اس سے ہر آدمی کو گزرنا ہو گا۔  اس  راستے  سے  اچھے  اہل ایمان خیریت سے گزر جائیں گے ، اس لئے کہ ان کا نور ان کے سامنے ہو گا اور داہنی طرف ہو گا۔ ایمان ایک نور ہے۔ دنیا میں ہمیں وہ نور محسوس نہیں ہوتا۔ آخر میں ایمان کی نورانیت ظاہر ہو جائے گی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں کہ ’’شاید ایمان کی روشنی جس کا محل قلب ہے آگے ہو اور عمل صالح کی داہنے، کیونکہ نیک عمل داہنی طرف جمع ہو تے ہیں۔ جس درجہ کا کسی کاا یمان ہو گا اسی درجہ کی روشنی ملے گی اور غالباً اس امت کی روشنی اپنے نبیﷺ کے طفیل دوسری امتوں کی روشنی سے زیادہ صاف اور تیز ہو گی۔‘‘
 ’’تم کو بشارت ہو(کہ آج تمہارے لئے) باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان میں ہمیشہ رہوگے۔  یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں