09:45 am
’’پھریہ لوگ مرکیوں گئے؟‘‘

’’پھریہ لوگ مرکیوں گئے؟‘‘

09:45 am

کائنات کی وسعتوں سے ایک سیارچہ نکلا،خلا میں لہرایااورسیدھازمین کی طرف دوڑپڑا۔زمین کے قریب پہنچ کر ٹھٹکا،رکا ،سیکنڈکے ہزارویں حصے میں کچھ سوچا،اپنے زاویئے میں ’’پوائنٹ‘‘کالاکھواں حصہ تبدیلی کی،شاں شاں کرتاہوازمین کے قریب سے گزرا اورکائنات کے کسی اندھے غارمیں گم ہوگیا۔یہ وا قعہ 13جون2002ء کووقوع پذیرہوا۔ امریکہ کواس واقعے کی خبر16جون2002ء کوہوئی جب سیارچے کوگزرے ہوئے تین دن گزرچکے تھے۔ناساکے حساس آلات نے پہلی باراس قیامت کی نشاندہی کی،خلائی تحقیق کے ماہرین کی ٹانگیں برف ہوگئیں، کچھ دیرکیلئے ناساکاسربراہ آنکھیں جھپکنا بھول گیا، دونوں ہاتھوں سے اپنے سرکوتھام کراس رپورٹ کوپڑھ رہاتھاتواس کی پسینے سے شرابورناک کے اوپرلگی ہوئی عینک اس کی گودمیں آن گری۔ایساہونابھی چاہئے تھاکیونکہ دنیاکی تاریخ میں زمین سے انتہائی قریب سے گزرنے والایہ پہلا سیارچہ تھا۔یہ زمین سے ایک لاکھ تیس ہزا ر کلو میٹر کے فاصلے سے گزراتھا۔خلاء میں اس فاصلے کوبال برابر دوری سمجھاجاتاہے۔
 
سیارچے کی لمبائی130کلومیٹرتھی جبکہ اس کی رفتار23ہزارکلومیٹرفی گھنٹہ تھی،اگریہ سیارچہ اپنے روٹ سے سنٹی میٹر کالاکھواں حصہ دائیں بائیں ہوجاتا توسیدھازمین سے آ ٹکراتا جس سے ہیروشیما کے ایٹم بم سے ہزارگنابڑادھماکہ ہوتا،مشرق سے مغرب تک اورشمال سے جنوب تک آگ لگ جاتی،گھاس کی جڑوں سے چیڑکی بلندٹہنیوں تک ہرچیز خاکستر ہو جاتی، سارے سمندروں کاپانی بھاپ بن جاتا،زمین کادرجہ حرارت وہاں پہنچ جاتاجہاں پتھرموم ہوجاتے ہیں۔زمین کے اندرچھپے لاوے باہرنکلتے اور نیویارک کاآزادی کا مجسمہ بھی منہ کے بل اس زورسے گرتاکہ اس کی تمکنت اورتکبرکانام ونشان باقی نہ رہتا۔زمین کادرجہ حرارت دس ہزارسنٹی گریڈسے ایک کروڑچالیس لاکھ سنٹی گریڈ تک پہنچ جاتا، زمین سورج بن جاتی۔یہ تباہی اوراس کے اثرات چارلاکھ سال تک قائم رہتے۔ساڑھے چارلاکھ سال کے بعدزمین پر آکسیجن پیداہوتی،جلی سڑی بلندیوں کے نشیب میں پانی بلورے لیتا،زمین کی تہوں سے کوئی ایک بیج باہرنکلتا،بیج سے ایک آدھ کونپل پھوٹتی اورپھر اس کونپل سے زندگی کا ایک نیاسفرشروع ہوتا۔یہ سفرزمین پرپہلے انسان کی صورت میں پڑاڈالتا۔وہ ننگ دھڑنگ انسان زندہ جانوروں کاخون پیتا،کچاگوشت کھاتا،اپنی بقاء کیلئے پہاڑوں،وادیوں،صحرائوں اور غاروں میں بھاگتاپھرتا ۔  اسے ٹھوکریں لگتیں،وہ گرتاتو لوہے کے چندراڈ، چند بھدی سی’’پتریاںکچھ کیل کچھ قبضے اس کے ہاتھ آلگتے۔وہ انہیں اٹھاکر بڑی حیرت سے دیکھتا، گمان کرتا لیکن اس کا گمان تھک کربے بس ہوجاتا۔
 اس چار لاکھ باون ہزارتین سوسال بعد کا انسان سوچ ہی نہیں سکتاکہ یہ چندراڈجنہیں وہ حیرت سے دیکھ رہاہے کبھی امریکا کے مجسمہ آزادی کے ہاتھ میں پکڑی مشعل تھی۔یہ ’’پتریاں‘‘کیپ کینورل کے خلائی اسٹیشن پرکھڑی چاند گاڑیاں تھیں جن کی مددسے انسان خلاکاسفرکرتاتھا۔یہ کیل یہ قبضے وائٹ ہاس، پینٹاگون ، 10 ڈاننگ سٹریٹ،فرنچ پریذیڈنسی، جرمن چانسلری اورراشٹرپتی بھون کے ہیں۔وہ حیرت سے زمین پر پڑی ہڈیاں دیکھتا،کھوپڑیاں اٹھاکرسونگھتا اور پریشان ہوکرانہیں پرے ٹھوکر دے مارتااور بھاگ کھڑاہوتا۔ کیونکہ وہ قصرسفیدکے فرعون ٹرمپ، جارج بش، اوباما، ٹونی بلئیر،کمانڈوجنرل پرویز مشرف، مودی اوراسامہ بن لادن کی کھوپڑیوں میں کوئی تفریق نہ کرسکتا۔ تفریق توخیردوررہی،اسے تویہ تک معلوم نہ ہوتاکہ اسامہ کون تھااوریہ خدائی کے دعوے کرنے والے کون تھے اوریہ بن لادن سے کیوں ناراض تھے؟
اسے غارکھودتے ہوئے ایک نوکیلی چیزملتی،وہ دوتین نسلوں تک اس نوکیلی چیزسے کمرپرخارش کرتارہتا یاکان صاف کرتا رہتا،اسے معلوم ہی نہ ہوتاکہ یہ وہ تاریخی قلم ہے جس سے قصرِسفیدکے فرعون نے ’’دہشت گردوں‘‘کواس صفحہ ہستی سے مٹانے کاحکم دیاتھا،اسے تین کھوپڑیاں قریب قریب پڑی ملتیں،وہ انہیں دیرتک حیرت سے دیکھتارہتا اورسوچتارہتاکہ یہ کون تھے؟  لیکن دنیامیں اسے انسانی شکارکا دلدادہ خونخوار شیرون، مودی اورنیتن یاہوکے بارے میں بتانے والاکوئی نہ ہوتا۔اسے لوہے کاگھٹناملتا،وہ اسے لئے لئے پھرتالیکن اسے کوئی ٹرمپ کے بارے میں نہ بتاتا،اسے ایک سیاہ رنگ کی سخت قسم کی ہڈی ملتی لیکن وہ یہ معلوم کرنے سے قاصررہتا کہ اس زمین پرایک متکبر،سفاک اوردرندہ صفت انسان مودی کی تنی گردن کی ہڈی ہے جس نے کشمیرکوایک جیل میں تبدیل کردیاتھا۔
وہ یہ کھوپڑیاں،یہ گھٹنے اوریہ ہڈیاں لے کر گھومتا رہتا،ایک کے بعددوسری نسل،دوسری کے بعدتیسری اورتیسری کے بعد ہزارویں،دوہزارویں،تین ہزارویں نسل آتی،انسان غاروں سے میدانوں، میدانوں سے بستیوں میں آتے،بستیاں شہربنتیں، شہر نیویارک، واشنگٹن،شکاگو،لندن، پیرس، فرینکفرٹ، ٹوکیو،بیجنگ اورماسکوبنتے،بڑی بڑی لیبارٹریاں، تجربہ گاہیں، لائبریر یاں اور تحقیقاتی سنٹربنتے اورسفیدکوٹ پہن کرآئن اسٹائن قسم کے لوگ ان کھوپڑیوں،ان کیل قبضوں، پتریوں راڈوں کامطالعہ کرتے، زمین پرملی دھاتوں، انسانی جلد،پگھلے لوہے اورتابکارمادوں کے مغلوبوں کا تجزیہ کرتے تومعلوم ہوتاکہ زمین پرکبھی ایک بش، اوبامااورٹرمپ ہوا کرتے تھے۔اس ملک کادفاعی بجٹ 693بلین ڈالر سے کہیں زیادہ ہواکرتاتھا،اس نے اوراس کے حواریوں نے مہلک ترین ہتھیاروں کے انبارلگارکھے تھے۔یہ لوگ صرف بیس کروڑلوگوں کوانسان سمجھتے تھے،ان لوگوں کی ساری ترقی،ان لوگوں کی ساری سائنس،ٹیکنالوجی ان بیس کروڑلوگوں کی بقااورباقی پانچ ارب نوے کروڑشودروں کی فناکے گردگھومتی تھی۔ٹرمپ,نیتن یاہو اورمودی نے اپنی رہائش گاہوں کے نیچے ایٹمی پناہ گاہیں بھی بنارکھیں تھیں،وہ خطرے کی اطلاع ملتے ہی چوہوں کی طرح ان پناہ گاہوں میں جاچھپتے تھے۔
ان کے پاس انتہائی تیزطیارے،پچاس ہزارکلو میٹرتک مارکرنے والے میزائل اورزمین کے دوسرے کنارے کی اطلاع لانے والے سیارے تھے۔ وہ اوراس کے آلات وزیرستان کے پانچ لاکھ انسانوں میں سے القاعدہ کے سولہ’’دہشت گرد‘‘تلا ش کرلیتے تھے۔وہ خون کاایک قطرہ دیکھ کربتادیتے تھے اس شخص کی دسویں نسل کاچوتھابچہ دہشت گردہوگا۔ زمین،سمندر، ہوا،فضاہر جگہ اس کی حکمرانی تھی۔وہ آئن اسٹائن4 لاکھ56 ہزار4سو13سال بعدکے آئن اسٹائن چندصاف ستھری نفیس کھوپڑیاں میز پرسجاکر ایک دوسرے سے پوچھتے’’پھریہ لوگ مرکیوں گئے؟ ‘‘ وہ سوچتے’’جب زمین پرموت اتری توپانچ ارب اسی کروڑ شودروں کے ساتھ وہ بیس کروڑلوگ بھی کیوں مارے گئے جن کے پاس اپنی بقاکیلئے سائنسی ہتھیارموجود تھے۔‘‘ہوسکتاہے اس وقت کے آئن اسٹائن کی رجمنٹ کاکوئی منہ پھٹ آئن اسٹائن چمکتی آنکھوں کے ساتھ ہات اٹھائے، مسکرائے، سب کو اپنی طرف متوجہ کرے اورکندھے اچکاکر کہے ’’حا ضرین !وہ لوگ دہشت گردوں کااندازہ تولگاسکتے تھے لیکن زمین کی طرف بڑھتے سیارچوں کاتخمینہ نہیں کرسکتے تھے،وہ فضاکی ٹیکنالوجی کوبقاکا ہتھیارسمجھتے تھے،وہ خودکوبہت ذہین ،بہت شاطرخیال کرتے تھے،ان کاکہناتھاوہ موت سے بھاگ جائیں گے۔ہوسکتاہے وہ بھاگ بھی جاتے لیکن قیامت موت سے کروڑوں گنا بھاری ،کروڑوں گنا تیز اور کروڑوں گنا شاطرہوتی ہے۔وہ جب آتی ہے توناساکے آلات جواب دے جاتے ہیں،سب فنا ہو جاتے ہیں‘‘۔

تازہ ترین خبریں