09:45 am
سعودی عرب اور ایران کے مابین مصالحت کی امید

سعودی عرب اور ایران کے مابین مصالحت کی امید

09:45 am

سعودی عرب اور ایران کے درمیان حد سے بڑھی ہوئی کشیدگی کیا رنگ لائے گی یہ سوچ کر ہی جھرجھری سی آجاتی ہے‘ سعودی عرب کی وزارتی کونسل کا کہنا ہے کہ ’’ ایرانی نظام گزشتہ چالیس سال سے بیماری‘ تباہی اور قتل و قتال کے سوا کچھ نہیں جانتا‘‘ اس سے قبل ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کو سعودی عرب کی جانب سے پیغامات بھیجے گئے ہیں جو موصول ہوگئے ہیں‘ ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہتا ہے تو تہران اس اقدام کا خیر مقدم کرے گالیکن اس سے اگلے ہی روز سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجیر نے ایرانی حکام کو مصالحت کے لئے کوئی پیغام بھیجنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’برادر ممالک پر واضح کیا گیا ہے کہ صلح  کی پیشکش اس کی جانب سے آنی چاہیے جو جارحیت کی راہ پر گامزن ہو‘ سعودی عرب نے یمن کے بارے میں ایرانی حکومت کے ساتھ  بات کی ہے اور نہ کرے گا‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایرانی حکومت یمن میں امن چاہتی ہے تو اس نے وہاں پر تعمیر و ترقی کے لئے فنڈز کیوں نہیں دئیے؟ یمن کا معاملہ یمنی عوام کا مسئلہ ہے۔
 
سوال یہ ہے کہ اگر سعودی عرب نے مصالحتی پیغامات نہیں بھجوائے تھے تو پھر ایرانی ترجمان نے اس حوالے سے دعویٰ کیوں کیا تھا؟ ہم جیسے طالب علم تو یہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین پائی جانے والی کشیدگی ختم ہو اور ان دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کی کوئی راہ نکلے  لیکن بقول عادل الجیر جو پیغامات سعودی عرب نے سے پیچھے ہی نہیں وہ ایران تک کیسے پہنچے‘ سنا ہے کہ پہلے زمانے میں کبوتروں کے ذریعے پیغامات بھجوانے کا رواج تھا‘ حالیہ زمانے میں ایک سیکولر  شدت پسند اینکر  نے بے چاری ’’ چڑیا‘‘ پر الزام لگانا شروع کر رکھا تھا کہ اس کی چڑیا اسے مخبری کرتی ہے‘ کہیں سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان نے کبوتر یا کسی چڑیا کے ذریعے ایران کو مصالحتی پیغامات تو نہیں بھجوائے؟
ویسے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ قابل ستائش ہیں‘ا ن کا کہنا تھا کہ ’’وہ ایران کے ساتھ مسائل کے حل کے لئے فوجی کی بجائے سیاسی حل کو ترجیح دیں گے‘ کیونکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ سے عالمی معیشت تباہ ہو جائے گی اور تیل کی قیمتیں ناقابل یقین حد تک بڑھ جائیں گی۔
سعودی تیل کے مراکز پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے حد سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں سعودی ولی عہد کا یہ بیان بارش کا وہ پہلا قطرہ ہے کہ اگر ایران بھی اس طرف  قدم اٹھائے تو نفرتوں کے دہکنے والے انگاروں کو بجھایا جاسکتا ہے۔
جوانسالہ ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ بیان ان کے مدبرانہ انداز‘ تحمل اور بردباری کو بھی ظاہر کرتا ہے اور اس بات کو بھی کہ وہ امریکہ یا کسی تیسری قوت کے بہکاوے میں قطعاً آنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور جنگ  کی تباہ کاریوں‘ اور خوفناک نتائج سے بھی خوب آگاہ ہیں‘ یقینا جنگ سے مسائل حل ہونے کی بجائے مسائل جنم لیا کرتے ہیں‘ جنگوں سے انسان اور ملک  برباد ہو جایا کرتے ہیں‘ قطع نظر اس کے کہ جنگ میں پلہ کس کا بھاری ہوگا‘ جنگ تو پھر جنگ ہی ہوتی ہے‘  پلہ ہلکا رہے یا بھاری ہو‘ خون کی ندیاں تو بہہ جاتی ہیں‘ سروں کی فصل تو کٹ کے رہتی ہے‘ شہر بھی کھنڈرات میں تبدیل ہو جایا کرتے ہیں۔
اس لئے جنگ سے بچ جانا ہی بہتر ہے اور ولی عہد محمد بن سلمان کے بیان  سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاملے کو جنگ نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن دوسری طرف کیا ایران بھی بھلا ایسا چاہ رہا ہے؟
 ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل باقری کہتے ہیں کہ ایران یمن کی عوامی رضا کار فورس کی فوجی مشاورت کی شکل میں مدد کر رہا ہے اور ہم آخری وقت تک یمنی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔‘‘
سعودی عرب کا الزام  یہ ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کو ایران میزائل اور خطرناک اسلحہ فراہم کر رہا ہے‘ مگر جنرل باقری اس بات سے انکاری ہیں اور وہ حوثیوں کو میزائل فراہم کرنے کی تردید کر رہے ہیں۔
جنرل باقری کے اس بیان کے بعد سوال تو بنتا ہے کہ سرحد پار حوثی باغیوں کی سعودی عرب کے خلاف کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے جو ملکوں کے درمیان نفرتیں بڑھ رہی ہیں اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

تازہ ترین خبریں