09:47 am
وزیراعظم پاکستان کی وزیراعظم بنگلہ دیش سے ’بات چیت‘!

وزیراعظم پاکستان کی وزیراعظم بنگلہ دیش سے ’بات چیت‘!

09:47 am

٭افغانستان میں امن: پاکستان اورطالبان کے مذاکرات شروعO عمران خان کی تقریر اچھی تھی۔ بلاول کا یو ٹرنO شہباز شریف و بلاول زرداری، جپھیاںO مقبوضہ کشمیر: کرفیودوماہ پورے ہو گئےO کرفیو اٹھا کر دیکھو کیا ہوتا ہے، محبوبہ کی بیٹی التجاO سعودی عرب نے بھارت کی حمائت کی ہے:بھارتی میڈیاO اسلام آباد پر لشکر کشی، مولانا فضل الرحمان کی پریشانیO ایرانی صدر کا بھائی کرپٹ، 5 سال قید۔
 
٭ایک خبر: وزیراعظم عمران خان نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کو فون کیا۔ سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ باہمی دلچسپی کے امور پر بات ہوئی۔ ایک سرکاری ذریعے کے مطابق حسینہ واجد کی آنکھ کا آپریشن ہوا ہے، عمران خان نے آنکھ کی خیریت دریافت کی۔ ایک خبر نگار نے اسے ’بہن بھائی‘ کی خیر خیریت کی ملاقات قرار دیا ہے۔ مگر اندرونی کہانی معلوم ہوئی ہے کہ وزیراعظم پاکستان جس طرح دوسرے مسلم ممالک کو مقبوضہ کشمیر کے حالات سے آگاہ کر رہے ہیںاسی طرح بنگلہ دیش کی اس بھارتی کٹھ پتلی وزیراعظم کو بھی فون کیا ہے جس نے اسلام آباد میں سارک کانفرنس کے سربراہی اجلاس میں آنے سے انکار کر دیا اور 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی حمائت کے الزام میں متعدد مسلمانوں کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ حسینہ واجد نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف تلخ باتیں کیں، اِس کے مقرر کردہ سفیر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے دور میں بھارت بنگلہ دیش کی ساری صنعتی و زرعی پیداوار اور مارکیٹوں پر قبضہ کر چکا ہے۔ مگر اس کی سخت گیر پالیسیوں کے باوجود پچھلے دنوں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ڈھاکہ میں بھارت کے خلاف مسلمانوں کا ناقابل یقین حد تک بڑا جلوس نکلا ہے، اس نے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ دو سال قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ڈھاکہ گیا تو حسینہ واجد نے سرکاری طور پر اس کا استقبال کرایا۔ اس موقع پر نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کو فخر ہے کہ اس نے پاکستان کو توڑا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عمران خاں کی کال پر حسینہ معین نے کیا باتیں کیں۔
٭اسلام آباد میں طالبان کے 12 رکنی وفد کے پاکستان کے وفد کے ساتھ افغانستان میں امن مذاکرات کے سلسلے میں مذاکرات شروع ہو گئے۔ اسلام آباد میں امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد پہلے ہی پہنچ گئے تھے تاہم ان کے طالبان کے ساتھ رابطے نہیںہوئے۔ طالبان اور امریکہ میںطویل عرصے سے جاری مذاکرات حتمی معاہدہ تک پہنچ چکے تھے کہ اچانک کابل میں ایک خود کش دھماکہ سے 60 سے زیادہ شہری ہلاک ہو گئے۔ طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی اس پر امریکہ نے مذاکرات منسوخ کر دیئے۔ اب اسلام آباد میںان مذاکرات کی بحالی کے لئے طالبان کا بارہ رکنی وفد اچانک آ پہنچا۔ سکیورٹی وغیرہ کے پیش نظر یہ دورہ نہائت خفیہ تھا۔ مگر جس روز وفد اسلام آباد آیا اسی روز طالبان نے شمالی افغانستان کے ضلع بلخ کے ایک تھانہ پر حملہ کر کے گیارہ پولیس اہلکاروں کو ہلاک، متعدد کو زخمی کر دیا۔ اس پر مذاکرات کے بارے میں امریکہ کا رویہ پھر سخت ہو گیا ہے!
٭مولانا فضل الرحمن نے اعلان کر رکھا ہے کہ اکتوبر میں ان کی پارٹی کے 15 لاکھ سے زیادہ ارکان اسلام آباد کی طرف ’آزادی مارچ‘ کریں گے۔ یہ اعلان بار بار ہوا مگر اب اس میں گڑ بڑ دکھائی دے رہی ہے۔ اس پروگرام کو پہلے اسلام آباد کا لاک ڈائون (تالہ بند گھیرائو) کہا گیا یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد کے گھیرائو پر حکومت نے استعفا نہ دیا تو پھر پورے ملک کا گھیرائو کیا جائے گا، تمام شہر بند کر دیئے جائیں گے۔ بعد میں کسی کے مشورے یا دبائو پر لاک ڈائون کو آزادی مارچ کا نام دے دیا گیا۔ مولانا نے ابھی تک آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کی طرف کسی آزادی مارچ کا اعلان نہیں کیا۔ وہ دس سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے مگر کبھی آزاد کشمیر میں کوئی ریلی نہیں نکالی۔ مولانا نے بار بار کہا کہ اکتوبر میں آزادی مارچ کا پروگرام کسی حالت میں ملتوی نہیں کیا جائے گا۔ ان کا خیال تھا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی لازمی طور پر اس مارچ میں شرکت کریں گی مگر ان دونوں پارٹیوں نے آزادی مارچ نومبر کے آخر تک لے جانے کا مشورہ دے دیا ہے۔ وجہ یہ بتائی کہ اکتوبر میں ان کی مصروفیات ایسی ہیں کہ مارچ میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ مولانا اسلام آباد میں دھرنے کا نام کیوں نہیںلیتے، مارچ کا مطلب تو مسلسل چلتے رہنا ہے۔ اسی قاری نے خبر دی ہے کہ دھرنے کے لئے آٹھ لاکھ روپے میں ایک کنٹینر خرید لیا گیا ہے۔ اس میں دو کمرے، واش روم اور چھوٹا سا ٹی وی لائونج  اور کمپیوٹر سیکشن بھی ہے۔
٭سندھ کے وزیر جیل خانہ جات اعجاز جاکھرانی نے اپنی ضمانت کے لئے درخواست دائر کی، وجہ بتائی کہ نیب کی گرفتاری کا خدشہ ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس علی احمد شیخ نے پوچھا کہ کیا کوئی نوٹس آیا ہے؟ جاکھرانی نے کہا کہ نوٹس تو کوئی نہیں آیا۔ چیف جسٹس نے کہا تو پھر کس بنا پر ضمانت لی جائے۔ اس کے ساتھ ہی فاضل چیف جسٹس نے سوال کیا کہ سندھ کو 1200 ارب کے فنڈز ملے تھے وہ کہاں گئے؟ اعجاز جاکھرانی کی ضمانت کی درخواست پرمجھے ایک بہت پرانی بھارتی پنجابی فلم ’’بھنگڑا‘ یاد آ گئی ہے۔ اس کی ہیروئن نے مسلسل 35,30 منٹ تیز بھنگڑا ڈال کر تماشائیوں کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ اس فلم کا ہیرو ایک بُدھو قسم کا موٹے منہ والا ہیرو تھا جسے اس کاباپ اس کی مرضی کے خلاف ایک جگہ شادی کرانے لے گیا تھا۔ وہ ہونے والے سسرال کے باہر پریشان بیٹھا تھا۔ رواج کے مطابق شادی کے پھیرے شروع ہونے لگے تو اچانک کسی کیس کی تفتیش کے لئے ایک تھانیدار، سپاہیوں کے ساتھ وہاں آ نکلا۔ ہیرو اسے دیکھ کر رونی صورت بنا کربول پڑا کہ تھانیدار جی! باقی تفتیش بعد میں، پہلے مجھے یہاں سے لے چلو! میں سوچ رہا ہوں کہ اعجاز جاکھرانی کی درخواست ضمانت کے ذکر پر مجھے بھنگڑا فلم کیوں یاد آ گئی؟
٭ بھارتی میڈیا نے طوفان مچایا ہوا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے کر بھارتی اقدامات کی حمائت کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے گزشتہ روز سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت کا موقف بیان کیا اس پر سعودی ولی عہد نے بھارت کے موقف کو درست قرار دے دیا ہے! بھارتی میڈیا کے برعکس سعودی عرب کے میڈیا کی رپورٹ بالکل مختلف ہے۔ اس کے مطابق اس ملاقات میں بھارتی مشیر نے بھارت کا موقف پیش کیا تو سعودی ولی عہد کے الفاظ تھے کہ ’’ہم نے آپ کا موقف سمجھ لیا ہے‘‘ کسی کے موقف کو سمجھ لینا اور اس کی حمائت کرنا بالکل مختلف باتیں ہیں۔ عدالت میں مخالف فریق اپنا اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔ جج دونوں کے موقف کو سمجھ کر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔ بھارتی میڈیا اس بات کو بھی اچھال رہا ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم امریکہ جاتے ہوئے سعودی عرب میں ایک رات رکا تھا تو سعودی حکمرانوں نے اس کا موقف تسلیم نہیں کیا تھا۔ بھارتی میڈیا ایک اور بات کو بھی اچھال رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اتنی نیچے چلی گئی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے پاس امریکہ جانے کے لئے اپنا جہاز بھی نہیں تھا اور سعودی عرب سے جہاز مانگنا پڑا! یہ میڈیا اس بات کو بھی نمایاں جگہ دے رہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے زیر استعمال سعودی شاہی طیارے میں خرابی بیان کر کے اس طیارے کو بدنام کیا گیا ہے اس پر سعودی حکام ناراض ہیں۔
٭بلاول زرداری نے جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کو مایوس کن قرار دیا۔ گزشتہ روز میرپور میں تسلیم کیا کہ تقریر اچھی تھی! البتہ کشمیر کا ذکر کم تھا۔ ایک پائلٹ نے اپنے گھر کے اوپر فضا میں قلابازیوں کے کرتب دکھائے۔ گھر آیا تو بیوی نے کہا کہ آج ایک ہوا باز نے کمال کی خوبصورت حیرت انگیز اُلٹ بازیاں دکھائی ہیں۔ شوہر نے کہا کہ وہ ہوا باز میں تھا۔ بیوی بولی میں بھی پریشان ہو رہی تھی کہ یہ کون اناڑی ہواباز ہے، اسے جہاز اُڑانا ہی نہیں آتا الٹی سیدھی حرکتیں کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں