10:25 am
مومنین اورمنافقین میں مکالمہ سورۃالحدید کی  روشنی میں

مومنین اورمنافقین میں مکالمہ سورۃالحدید کی روشنی میں

10:25 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اہل ایمان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں جنت کی خوشخبری ہے، جنت وہ کہ جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ تم اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہوگے۔ یہ ہے اصل کامیابی جو تمہیں ملی ہے۔ جنت کی نعمتوں کا تذکرہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ حدیث کے مطابق یہ وہ نعمتیں ہیں جن کو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے ان کا تذکرہ سنا اور نہ کسی کے تصور ہی کی رسائی ان تک ہو سکتی ہے۔ جنت کا قیام دائمی ہو گا۔ دنیا میں انسان کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ ایک محدود وقت تک کے لئے ہوتی ہیں مگر آخرت میں ایسا نہ ہو گا۔ وہاں جو نعمتیں اور آسائشیں میسر آئیں گی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوں گی۔جنت کے ذکر کے بعد فرمایا کہ یہ ہے عظیم کامیابی ۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ آدمی آخرت کی زندگی میں کامیاب ہو جائے۔ نار جہنم سے بچاکرجنت میںداخل کر لیا جائے۔ دنیا میں آدمی دولت کے اعتبار سے خواہ قارون اور بل گیٹس کے مقام کو پہنچ جائے، اختیار و اقتدار کے معاملے میں فرعون بن جائے، مگرپھر بھی وہ ہر گز کامیاب نہیں ہے۔ حقیقی کامیابی صرف اور صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ ہے عظیم کامیابی! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اُخروی کامیابی عطا فرمائے، اور ہمارے ذہنوں میں یہ بات راسخ فرما دے کہ اصل کامیابی دنیا کی نہیں آخرت کی ہے۔اسلامی تحریک کے کارکنوں کی یہ بڑی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں دنیا میں اپنی کاوشوں کا پھل ملے اور اللہ کا دین غالب ہو۔یقیناًدنیا میں اسلام کا غالب ہونا کامیابی ہے مگر اہل ایمان کا مقصود آخرت کی کامیابی ہونا چاہیے۔
آگے فرمایا’’اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف (نظر)  شفقت کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں، تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے کو لوٹ جائو اور(وہاں) نور تلاش کرو۔‘‘
سچے اہل ایمان تو اپنے آگے اور داہنے طرف کے نور ایمان کے ساتھ آگے بڑھ جائیں گے، منافقین پیچھے رہ جائیں گے۔ منافقین ایک تو وہ تھے جنہوں نے محض اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا ، وہ دل سے ایمان لائے ہی نہیں تھے بلکہ ایک سازش کے تحت مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوئے تھے۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو ایمان تو لائے تھے مگر پھر ان پر دنیا اور مال و اولاد کی محبت اس قدر غالب آئی کہ دین کے عملی تقاضوں سے گریز کر تے رہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ان کے دلوں میں ایک روگ ہے، یہ روگ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آدمی اللہ کو رب اور حضرت محمد ﷺکو اللہ کا رسول ماننے کے باوجود اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت پر آمادہ نہ ہو۔ جب یہ کیفیت راسخ ہو جاتی ہے تو ایمان زائل ہو نا شروع ہو جاتا ہے اور نفاق بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بیماری دیمک کی طرح ایمان کو چٹ کر جاتی ہے۔ بہرکیف منافقین نور ایمان سے محروم ہوں گے اور پیچھے سے اہل ایمان کو آواز دے رہے ہوں گے کہ ذرا ٹھہرو، ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھالیں، ہمیں بھی موقع دو ۔ ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ واپس دنیا میں لوٹ جائو۔ وہاں پر اپنا یہ نور حاصل کرو۔ یہ دولت یہاں نہیں ملے گی۔
 ’’پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ جس میں ایک دروازہ ہو گا۔ جو اس کی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب (واذیت)۔‘‘
یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر کے چھانٹی کر دی جائے گی۔ دیوار میں ایک دروازہ ہوگا، جس کے ایک طرف اللہ کی رحمت ہوگی جو سچے اہل ایمان کے لئے ہو گی۔ اور دوسری طرف عذاب ہو گا، جو باہر رہ جانے والے منافقین کے لئے ہو گا۔ آج دنیا میں بھی مسلمانوں کے اندرتقسیم ہو رہی ہے، جس کے مطابق دنیا میں دو طرح کے مسلمان ہیں: بنیاد پرست اور روشن خیال! (چھانٹی کا جوعمل دنیا میں ہوتاہے، اس کی فائنل اور حتمی شکل دجال کی آمد پر سامنے آئے گی۔) 
’’تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے۔‘‘
منافقین ، مومنین و صادقین سے کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ مسلم معاشرے میں شامل نہ تھے؟ کیا ہم کلمہ گو نہ تھے؟ کیا تمہاری طرح ہم بھی نماز نہ پڑھتے تھے؟ روزے نہ رکھتے تھے؟ حج نہ کرتے تھے؟کیا تمہارے ساتھ ہمارے شادی بیاہ اور رشتہ داری کے تعلقات نہ تھے۔ پھر آج ہمارے اور تمہارے مابین یہ جدائی کیسی پڑگئی؟
’’وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا’’(اورہمارے حق میں حوادث کے منتظر رہے اور(اسلام میں) شک کیا اور(لاطائل) آرزوئوں نے تم کو دھوکہ دیایہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچا اور اللہ کے بارے میں تم کو(شیطان) دغاباز دغا دیتا رہا۔‘‘ 
 اہل جنت کہیں گے ، یقیناً جو تم کہتے ہو صحیح کہتے ہو، تم ہمارے ساتھ تھے، مگر تمہارا مسئلہ یہ تھا کہ تم نے مسلمان ہو کر بھی یقین کو اپنے اندر نہیں بٹھایا۔ تم دعویٰ اسلام کا کرتے تھے، مگر لذات و شہوات میں پڑ کر عملاً نفاق کا راستہ اختیار کیا۔ ایمان سے لے کر نفاق تک کے سفر کے لئے یہاں چار الفاظ آئے ہیں۔ فَتَنْتُم ْ اَنْفُسَکُم، ْتَرَبَّصْتُم، اِرْتَبْتُمْ،غَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ۔ نفاق کی ابتدا اس سے ہوئی کہ تم نے اپنے آپ کو فتنوں میں مبتلا کیا۔ فتنہ آزمائش کو کہتے ہیں۔ قرآن حکیم نے مال اور اولاد کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا ہے۔ دنیا میں ہر شخص کی آزمائش ہو رہی ہے۔ آزمائش کا بڑا ذریعہ مال اور اولاد کی محبت ہے۔ مال اولاد کے معاملے میں انسان اکثر دوراہے پر آن کھڑا ہوتا ہے۔ ایک طرف دین کے تقاضے اور تعلیمات ہوتی ہیں۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں