10:27 am
بدشگونی سے بچئے! 

بدشگونی سے بچئے! 

10:27 am

حاملہ عورت کو میت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر برا اثر پڑیگا۔ جوانی میں بیوہ ہوجانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں، نیز یہ سمجھتے ہیں کہ خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے۔ کسی کا کنگھا اِستعمال کرنے سے دونوں میں جھگڑا ہوتا ہے۔ خالی برتن یا چمچ آپس میں ٹکرانے سے گھر میں لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے۔ جب بادلوں میں بجلی کڑک رہی ہو اورسب سے بڑا بچہ (پلوٹھا، پہلوٹھا) باہر نکلے تو بجلی اس پر گر جائیگی۔ بچے کے دانٹ اُلٹے نکلیں تو ننھیال (یعنی ماموں وغیرہ) پر بھاری ہوتے ہیں۔ دودھ پیتے بچے کے بالوں میں کنگھی کی جائے تو اسکے دانت ٹیڑھے نکلتے ہیں۔ چھوٹا بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے تو اسکا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ بچہ سویا ہو ا ہو اُسکے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے تو بچے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ مغرب کے بعد دروازے میں نہیں بیٹھنا چاہئے کیونکہ بلائیں گزر رہی ہوتی ہیں۔ زلزلے کے وقت بھاگتے ہوئے جو زمین پر گر گیا وہ گونگا ہوجائیگا۔ رات کو آئینہ دیکھنے سے چہرے پر جھریاں پڑتی ہیں۔ انگلیاں چٹخانے سے نحوست آتی ہے۔ سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ یا پائوں کٹا یا چراہوا ہو گا۔ نومولود (یعنی بہت چھوٹے بچے) کے کپڑے دھو کر نچوڑے نہیں جاتے کہ اس سے بچے کے جسم میں درد ہو گا۔ کبھی نمبروں سے بدفالی لیتے ہیں (بالخصوص یورپی ممالک کے رہنے والے)، اسی لئے ان کی بڑی بڑی عمارتوں میں 13نمبر والی منزل نہیں ہوتی، (بارہویں منزل کے بعد والی منزل کو چودہویں منزل قرار دے لیتے ہیں)، اسی طرح ان کے ہسپتالوں میں 13نمبر والابستر یا کمرہ بھی نہیں پایا جاتا کیونکہ وہ اس نمبر کو منحوس سمجھتے ہیں۔ رات کے وقت کنگھی چوٹی کرنے یاناخن کاٹنے سے نحوست آتی ہے۔ گھرکی چھت یا دیوار پر اُلو بیٹھنے سے نحوست آتی ہے (جبکہ مغربی ممالک میں اُلو کو بابرکت سمجھا جاتا ہے)۔ مغرب کی اذان کے وقت تمام لائٹیں روشن کردینی چاہئیں ورنہ بلائیں اُترتی ہیں۔ مذکورہ بالا بدشگونیوں کے علاوہ بھی مختلف معاشروں، قوموں اور برادریوں میں مختلف بدشگونیاں پائی جاتی ہیں۔
 
(گزشتہ سےپیوستہ)
بدشگونی انسان کیلئے دینی و دُنیوی دونوں اعتبار سے بہت زیادہ خطرناک ہے، یہ انسان کو وسوسوں کی دَلدل میں اُتار دیتی ہے، چنانچہ وہ ہر چھوٹی بڑی چیز سے ڈرنے لگتا ہے‘ یہاں تک کہ وہ اپنی پرچھائی (یعنی سائے) سے بھی خوف کھاتا ہے۔ وہ اس وَہم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ دُنیا کی ساری بدبختی و بدنصیبی اسی کے گرد جمع ہوچکی ہے اور دوسرے لوگ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا شخص اپنے پیاروں کو بھی وہمی نگاہ سے دیکھتا ہے جس سے دلوں میں کدورت (دُشمنی) پیدا ہوتی ہے۔ بدشگونی کی باطنی بیماری میں مبتلا انسان ذہنی وقلبی طور پر مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے اور کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا۔ امام ابوالحسن علی بن محمد ماوردی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ’’جان لو! بدشگونی سے زیادہ فکر کو نقصان پہنچانے والی اور تدبیر کو بگاڑنے والی کوئی شے نہیں ہے‘‘۔ 
بدشگونی کا شکار ہونیوالوں کا اللہ عزوجل پر اِعتماد اور توکل کمزور ہوجاتاہے۔ اللہ عزوجل کے بارے میں بدگمانی پیداہوتی ہے، تقدیر پر ایمان کمزور ہونے لگتا ہے، شیطانی وَسوسوں کا دروازہ کھلتا ہے۔ بدفالی سے آدمی کے اندر توہم پرستی، بزدلی، ڈر اور خوف، پست ہمتی اورتنگ دلی پیدا ہوجاتی ہے۔ ناکامی کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں، مثلاً کام کرنے کا طریقہ درست نہ ہونا، غلط وقت اور غلط جگہ پر کام کرنااور ناتجربہ کاری لیکن بدشگونی کا عادی شخص اپنی ناکامی کا سبب نحوست کو قرار دینے کی وجہ سے اپنی اِصلاح سے محروم رہ جاتا ہے۔ بدشگونی کی وجہ سے اگر رشتے ناطے توڑے جائیں تو آپس کی ناچاقیاں جنم لیتی ہیں۔ جو لوگ اپنے اوپر بدفالی کا دروازہ کھول لیتے ہیں، انہیں ہرچیز منحوس نظر آنے لگتی ہے ، کسی کام کیلئے گھر سے نکلے اور کالی بلی نے راستہ کاٹ لیا تویہ ذہن بنالیتے ہیں کہ اب ہمارا کام نہیں ہوگا اور واپس گھر آگئے، ایک شخص صبح سویر ے اپنی دُکان کھولنے جاتاہے، راستہ میں کوئی حادثہ پیش آیا تو سمجھ لیتاہے کہ آج کا دن میرے لئے منحوس ہے لہٰذا آج مجھے نقصان ہو گا، یوں ان کا نظامِ زندگی درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے۔ کسی کے گھر پر اُلو کی آواز سن لی تو اِعلان کردیا کہ اس گھر کا کوئی فرد مرنے والا ہے یا خاندان میں جھگڑا ہونیوالاہے، جس کے نتیجے میں اس گھروالوں کیلئے مصیبت کھڑی ہوجاتی ہے۔ نیا ملازم اگر کاروباری ڈِیل نہ کرپائے اور آرڈر ہاتھ سے نکل جائے تو فیکٹری مالک اسے منحوس قرار دیکر نوکری سے نکال دیتا ہے۔ نئی دلہن کے ہاتھوں اگر کوئی چیز گرکر ٹوٹ پھوٹ جائے تو اس کو منحوس سمجھاجاتاہے اور بات بات پر اس کی دل آزاری کی جاتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ بدشگونی اور طرح طرح کے ظاہری و باطنی گناہوں سے بچنے کیلئے حتی المقدور کوشش کرتے رہیں۔ 

تازہ ترین خبریں