10:29 am
قومی نصاب تعلیم ۔۔۔ تاثرات وتجاویز

قومی نصاب تعلیم ۔۔۔ تاثرات وتجاویز

10:29 am

موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد مختلف شعبوں میں اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ اصلاحات کے اس عمل میں کتنی کامیابی ہوئی اور کتنی نا کامی اور اصلاحات کا یہ طریقہ کس قدر مفید،موثر اور نتیجہ خیز رہا یہ ایک الگ بحث ہے۔ان اصلاحات کے لیے ٹاسک فورسز تشکیل دی گئیں ان میں سے ایک ٹاسک فورس برائے تعلیم بھی بنائی گئی۔اس ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کی تشکیل اور نفاذ بتایا گیا۔اس حوالے سے بڑی دلچسپ صورتحال پیش آئی۔ابتداًء یہ سمجھا جارہاتھا کہ شاید دینی مدارس کی طرف سے یکساں نصاب تعلیم کی مخالفت کی جائے گی لیکن دینی مدارس نے یکساں نصاب تعلیم کا خیرم مقدم کیا۔ اسے قومی وحدت کے لیے ضروری قرار دیا جبکہ بعض پرائیویٹ اداروں کی جانب سے ابتداًء یکساں قومی نصاب کی تشکیل کی سخت مزاحمت کی گئی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تو وہ نصاب کی تشکیل کے اس عمل میں کود پڑے اور عملی طور پر اس کا حصہ بن گئے۔
 
’’ایجوکیشن ٹاسک فورس‘‘ کے لیے راقم الحروف اور حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن کو ممبر نامزد کیا گیا تھا۔ اس کے دو اجلاس ہوئے لیکن میں بیرون ملک ہونے کی وجہ سے دونوں اجلاسوں میں شریک نہ ہوسکا اب اسی ٹاسک فورس کو’’ قومی نصاب کونسل‘‘میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اس کے ممبران کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔حکومت کے بقول ملک بھر میں یکساں نصاب رائج کرنے کے لیے ون نیشن ون ایجوکیشن کے سلوگن کے تحت از سرنو نصاب سازی کا عمل شروع کیا گیا ۔قومی نصاب کونسل کے 42 ارکان ہیں جن میں چاروں صوبوں،سرکاری اداروں،پرائیویٹ سکولز،دینی مدارس اور تمام طبقات زندگی کی بھر پور نمائندگی اور ماہرین تعلیم موجود ہیں۔قومی نصاب کونسل میں مدارس کی طرف سے راقم الحروف کے علاوہ،مفتی منیب الرحمن،علامہ نیاز حسین نقوی،ڈاکٹر عطاء الرحمن اور مولانا محمدیاسین ظفر شامل ہیں۔23 ستمبر 2019ء کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی صدارت میں قومی نصاب کونسل کا اجلاس قومی نصاب تعلیم اسلام آباد کی عمارت میں ہوا جس کی ابتداء میں وزیرتعلیم نے ایک پریزنٹیشن پیش کی جس کا لب لباب اور خلاصہ یہ تھا کہ ہم کلاس ون سے انٹرمیڈیٹ تک ملک بھر کے لیے یکساں نصاب تعلیم تیار کرنا چاہتے ہیںجس کے نتیجے میں انگلش اوراردو میڈیم ختم ہوجائیں گے، کیمبرج اور آکسفورڈ کانصاب باقی نہیں رہے گا،مدارس اور عصری اداروں کی اس نصاب کی حد تک تفریق ختم ہوجائے گی، یہ نصاب مرحلہ وار نافذ کیاجائے گا اور توقع کی جارہی ہے کہ2020 یا2021تک یہ نصاب مکمل طور پر نافذ کردیا جائے گا۔اس نصاب پر اتفاق رائے پید اکرنے کے لیے بھرپور مہم چلائی جائے گی،تمام شعبہ ہائے زندگی کے وابستگان اور جملہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا اور پوری کوشش ہوگی کہ یہ نصاب عالمی معیار کا ہو ۔
قومی نصاب کونسل کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ اس ادارے میں مختلف کمروں اور مختلف شعبوں میں نصاب سازی کے حوالے سے ابتدائی کام ہورہا ہے۔فی الحال آؤٹ لائن بن رہی ہے، تفصیلی مواد اور نصاب بعد میں تیار کیاجائے گا۔ہم نے اس عمارت کے مختلف کمروں کا وزٹ کیا، نصاب کی تیاری کے مراحل کا جائزہ لیا،نصاب کی تیاری میں مصروف عمل افراد سے تعارف ہوا ،انہوں نے اپنے کام کے حوالے سے بریفنگ دی ۔نصاب سازی کا کام کرنے والے افراد کافی تعداد میں تھے جن میں مرد بھی تھے اورخواتین بھی مگرخواتین زیادہ تھیں۔ان میں سرکاری ملازمین بھی تھے اور پرائیویٹ اسکولوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔اگر چہ اس موقع پر مکمل نصاب نہ دیکھا جاسکا نہ اس پر اظہار خیال ممکن ہے تاہم یہ جو کوشش ہورہی ہے اس کے حوالے سے چند معروضات قابل توجہ ہیں :
(1)سب سے پہلی بات تو یہ کہ یکساںاور قومی نصاب تعلیم کی تیاری اور نفاذ ہماری قومی ضرورت ہے۔اس ضرورت کا بہت پہلے ادراک ہوجانا چاہیے تھا۔ قیام پاکستان کے فوری بعد اس پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ یہ جوہمارے ہاں طبقاتی تفریق ہے یہ سب اسی نصاب کی ست رنگی کا شاخسانہ ہے۔اصولی طور پر تو یہ تجویز بالکل درست ہے لیکن اس میں ایک تو اس بات کی گارنٹی ضروری ہے کہ یہ سب کچھ نیک نیتی سے ہو ۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں عموماً یہ تلخ تجربہ رہا کہ نعرہ تو بڑا اچھا لگایا جاتا ہے،عنوان تو اصلاحات کا ہوتا ہے لیکن درحقیقت فساد اور بگاڑ مقصود ہوتا ہے جیسے تحفظ حقوق نسواں بل کے نام پر ہوا یا مدرسہ ریفارمز کے نام پر عرصے سے مغربی ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ سیکولرازم اور لبرل ازم کو فروغ دینے کے لیے ’’متبادل بیانیہ ‘‘متعارف کروانے کے لیے یہ ساری مشق ہورہی ہے تاکہ حقیقی اسلامی تعلیمات،قابل فخر تاریخی واقعات اورمسلمان بچوں کے آئیڈیل فاتح مسلمانوں کا تذکرہ گول کردیا جائے اگر خدانخواستہ ایسا کوئی ایجنڈاہے تو یہ بہت خطرناک اور آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔سب سے پہلی اور بنیادی چیز نیک نیتی اور ملکی وقومی مفاد کو پیش نظر رکھنا ہے۔
(2)دوسری بات یہ ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد یہ مشکل بن گئی ہے کہ تعلیم اور نصاب کا معاملہ صوبائی معاملہ بن کررہ گیا ہے۔دیکھنا یہ بھی ہے کہ وفاقی سطح پر ایسی کوشش کتنی موثر ہوسکتی ہے؟یہ سوال اجلاس میںبھی وزیر تعلیم کے سامنے اٹھایا گیا توانہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے۔صوبائی وزیرتعلیم،سیکرٹریز اور دیگر لوگ موجود ہیں اورہم سب کو آن بورڈ لے کر یہ کوشش کررہے ہیں ۔ہم نے تجویز دی کہ اٹھارہویں ترمیم کانصاب و تعلیم سے متعلق جوحصہ ہے اس میں ترمیم بھی یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کے لیے ضروری ہے ۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں