10:30 am
اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر اور پاکستانی معیشت

اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر اور پاکستانی معیشت

10:30 am

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27اگست کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریر ہر لحاظ سے قومی وقار اور افکار کی جھلک لئے ہوئی تھی اس تقریر میں جذبات سے زیادہ دلائل اور منطق پر مبنی باتیں کی گئی تھیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت اور بھارتی فوج کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں اور ظلم کو بے نقاب کر کے انہوں نے کشمیریوں کے دل جیت لئے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو یہ پختہ احساس ہوا کہ وہ ظلم اور مصیبت کی اس المناک گھڑی میں تنہا نہیں ہیں بلکہ پاکستانی عوام اور حکومت ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔گزشتہ 30سالوں سے بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کئے جانے والی بربریت اور تشدد کو عالمی سطح پر بے نقاب کر کے عمران خان نے جنرل اسمبلی میں موجود عالمی رہنمائوں کو یہ باور کرایا ہے کہ بھارتی حکومت اس خطے کی ایک بڑی دہشت گرد حکومت ہے جو نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہے بلکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم حرکتیں کر رہا ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر ایک جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔
 
بھارت کے پاکستان اور کشمیر کے عوام کے ساتھ یہ ناپاک عزائم نئے نہیں ہیں بلکہ پاکستان بننے کے روزاول سے ہی بھارت پاکستان کو دولخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کی ایک مثال1970ء سے دی جا سکتی ہے جبکہ بھارت نے مشرقی پاکستان پر غیر اعلانیہ حملہ کر کے اس کو پاکستان سے علیحدہ کردیا تھا،اگرتلہ سازش کیس میں مجیب الرحمن کی بھارت کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں اور مشرقی پاکستان کو توڑنے کا جنرل ایوب خان کی حکومت کو پتہ چل گیا تھا لیکن مغربی پاکستان کے جذبات اور نادان سیاست دانوں نے اگرتلہ سازش کیس کو سیاسی رنگ دے کر مجیب الرحمن کو جیل سے آزاد کرا لیا تھا۔ اب بھی یہی بھارتی ایجنٹ پاکستان کے اندر اور باہر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔عمران خان کی مدلل لاجواب اور بے مثال تقریر سے جہاں بھارت کے اندر صف ماتم بچھی ہوئی ہے وہیں پاکستان میں چھپے ہوئے بھارتی ایجنٹ بھی اس تقریر پر خاصے پریشان اور غصے میں دکھائی دے رہے ہیں تاہم ان کے اس طرز عمل سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔عمران خان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ دیا انہوں نے پرخلوص اور بے لاگ انداز میں کشمیر کی صورتحال سے متعلق جو کچھ بھی کہا ہے عالمی سطح پر اس کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں بھی عمران خان کی تقریراوراسکے ذریعے ان کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافے سے ناخوش نظر آرہی ہیں اور اخبارات میں الٹے سیدھے بیانات دے کر اپنے دل کے چھالے پھوڑ رہی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے پاس عمران خان جیسا پڑھا لکھا اور عالمی سطح پر جانا پہچانا کوئی قد آور شخص موجود نہیں ہے اسی لئے یہ عناصر احساس کمتری میں مبتلا ہو کر عمران خان کی کشمیر سے متعلق کوششوں کو بے توقیر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ بخل سے بھی کام لے رہے ہیں۔ دھرنا دینے کی دھمکی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان عناصر کا کشمیری عوام کے دکھ اور درد سے کتنا تعلق ہے۔ 
دوسری طرف عمران خان سے متعلق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستا ن کی معیشت کو سنبھالنے کے سلسلے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ان کی یہ سوچ بھی غلط ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ میں ایک ہفتے قیام کے دوران انتہائی سرمایہ داروں کے علاوہ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کر کے انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے جس میں ایگزون کمپنی بھی شامل ہے جوتیل اور گیس کی تلاش میں عالمی شہرت رکھتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کو ان سرمایہ داروں نے یقین دلایا ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان میں سرمایہ کار ی کا آغاز کریں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان نے امریکہ میں اپنے قیام کے دوران پاکستان کی کمزور معیشت کو بحال کرنے کے لئے عالمی رہنمائوں سے بھی مدد کی اپیل کی ہے تاکہ ملک کے معاشی معاملات کو بہتر کیا جا سکے۔ عمران خان کو عوام کے معاشی مسائل کا پورا پورا ادراک ہے اور وہ ان کی روزمرہ کی ضروریات میںمہنگائی کے پس منظر میں کمی لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ دراصل پاکستان میں مہنگائی اور معاشی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ ماضی کے کرپٹ سیاست دانوں کے سر پر جاتی ہے جنہوں نے اقتدار میں آکر ملک کے وسائل کو بے دریغ لوٹا ہے اور اس کو کنگال کر دیا ہے۔ ان کی اس کرپشن کی وجہ سے آج عمران خان کی حکومت کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور ان حالات کو حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے مفاد میں استعمال کر رہی ہیں۔ 
جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، تاہم مہنگائی اسی لئے ہوئی ہے کہ پاکستان کا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں کمزورہوا ہے، قرضہ اتارنے کے لئے مناسب پیسے بھی نہیں ہیں چنانچہ دوست ملکوں کی مدد کے علاوہ آئی ایم ایف سے تعاون حاصل کیا گیا ہے تاکہ اقتصادیات کا قبلہ درست کیا جا سکے۔اب آہستہ آہستہ معاشی حالات میں بہتری کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں تاہم مہنگائی کو بڑھاوا دینے میں منافع خوروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو پاکستان کے سیاسی حالات سے فائدہ اٹھا کر اشیائے خوردو نوش کو مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں،اگر صوبائی حکومتیں ان منافع خوروں کے خلاف موثر کارروائیاں کریں تو مہنگائی کم ہو سکتی ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ وہ زرعی اشیاء جو پاکستان میں پیدا ہوتی ہیں مثلاً سبزیاں، گوشت وغیرہ وغیرہ ان کو کیوں مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے؟ کہا جا رہا ہے کہ مڈل مین فائدہ اٹھا کر عوام کی قوت خرید کو شدید متاثر کر رہا ہے تاہم عمران خان کو جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ ان حقائق کا علم ہے وہ صوبائی حکومتوں کو مسلسل ہدایتیں جاری کر رہے ہیں کہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے اور منافع خوروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنی چاہئے تاکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہو سکے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے امریکہ میں اپنے قیام کے دوران امریکی سرمایہ کاروں کو بار بار یہ دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان آکر سرمایہ کاری کریں انہیں حکومت پاکستان ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرے گی۔ اس صورت میں پاکستان کی معیشت میں ابھار پیدا ہو سکتا ہے اور غیر ملکی سرمایہ آنے کی وجہ سے روزگار کے ذرائع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔یہاں یہ بات لکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اپنی کرپشن کو چھپانے کے لئے مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں تاکہ عوام کو بھڑکا کر عمران خان کی مقبولیت کو کم کیا جا سکے اور حکومت کا دھڑن تختہ بھی کیا جا سکے لیکن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہیں جا سکے گا۔ 
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ 
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا 

تازہ ترین خبریں