10:31 am
’’ناشتے کا حِساب‘‘

’’ناشتے کا حِساب‘‘

10:31 am

کوئی کہتا ہے وہ ملک سے بھاگ تو نہیں رہا تھا، دوسرے نے کہا ملک میں کشمیر کے موضوع پر اتحاد اور قومی یگانگت کی ضرورت ہے اور حکومت کو گرفتاریوں سے فرصت نہیں ہے، تیسرے ملزم نے کہا کہ وہ ہماری ہی برادری کا آدمی ہے ہمیں ہر صورت میں اس کا ساتھ دینا چاہئے ویسے شائد اس کے ذہن میں یہی بات تھی کہ ہم بھی تو اِسی لوٹ کھسوٹ والی برادری کے ہی ممبر ہیں تو آج اگر ہم اِس کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو کل کون ہماری آواز بنے گا، ایک اور قوال نے جمہوریت کو خطرے کا نعرہ لگا دیا لیکن کسی نے اسے یہ نہیں کہا کہ تم میٹر ریڈر تھے تو یہ سینکڑوں ارب روپے کی جائیدادیں اور اکائونٹ کیسے بنا لئے؟ کسی ایک کی بھی آواز نہیں آئی کہ رشوت دینے اور لینے والے دونوں جہنمی ہیں تو ہمیں دوزخ کے اِس ایندھن کے پاس یا ساتھ نہیں بیٹھنا، کسی ایک نے بھی اس سے سوال نہیں کیا کہ کیا اِس لوٹ کھسوٹ کا ساتھ دینے اور اپنا حصہ وصول کرتے ہوئے تمہیں قبر کی تاریک رات یاد نہیں آئی؟ یوم حساب کو کیوں بھولے رہے؟
 
ایک مالی بھرتی ہونے والے کے گھر سے ساٹھ ستر کروڑ کی لگژری کاریں برآمد ہوتی ہیں، پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی کرنسی اور ہیرے جواہرات زیورات برآمد ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ میں تو خاندانی زمیندار ہوں میری زمینیں ہیں۔ بہت سیدھا حساب ہے اس کی زمینوں سے حاصل ہونے والی آمدن کا حساب لگانا کون سا مشکل ہے اور پھر پوچھا جا سکتا ہے کہ تم مالی کیوں بھرتی ہوئے تھے؟ لیکن داد دینی پڑتی ہے اس کی منصفی کی کہ دوسری بیوی اور اس کے گھر میں بھی اس نے اتنی ہی لگژری گاڑیاں اور عیاشی کا سامان رکھا ہوا تھا اور اس سے یہ بھی کیا کسی نے سوال کیا کہ جو اس کے قریب جعلی پارک اس نے کاغذات میں دِکھائے ہوئے تھے وہ کہاں ہیں کیا وہ بھی کسی تیسری، چوتھی، دسویں، بارھویں بیوی کے کام تو نہیں آ رہے؟ کیا اس کے وزراء اور دوسرے اعلیٰ حکام بھنگ پی کر سو رہے تھے یا اپنا حصہ وصول کر کے دوستوںکو دبئی اور یورپ کے ٹور لگوا رہے تھے، پھارکنگ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو اربوں کے فراڈ میں گرفتار ہوتا ہے انکوائری ہوتی ہے اور کوئی نہ کوئی قانونی جواز پیدا ہونے پر عدالت آپ کی ضمانت لے لیتی ہے، ضمانت پر رہا ہونے پر اس کے حاشیہ بردار اس کا استقبال یوں کرتے ہیں کہ جیسے جیتے جی اللہ کے کسی مقرب فرشتے نے اسے جنت کی بشارت سنا دی ہو یا اس نے کشمیر فتح کر لیا ہو ۔کھربوں روپے کی انکوائریاں بھگتنے والی سندھ کی ایک خاتون جو جیل میں ہے کیا کسی نے اس کے چہرے پر آج تک ندامت کی ایک پرچھائیں دیکھی ہے؟ کھربوں روپے کے کمیشن، فراڈ لوٹ مار کے مقدمات میں گرفتار اشخاص کے چہرے ایسے ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سرانجام دیا ہو یا جیسے پرانے زمانوں کا کوئی فاتح کسی ملک کو فتح کرنے پر جشن مناتا تھا۔یہ جیل جاتے اور آتے وقت ایسے ہی جشن کا اہتمام کرتے ہیں جیسے وہ کفر کا کوئی قلعہ فتح کر کے آ رہے ہوں پچھتر سال کا بوڑھا بینک کا مالک اپنے جوان بیٹے کے ساتھ جیل میں ہے جس نے دنیا بھر میں بدنام سیاستدانوں کے جعلی اکائونٹ کِسی سکنجبین والے، دھی بھلے والے،خوانچہ والے،مزدور کے نام پر کھولے اور وہ بدنام سیاستدان اپنے ڈریکولا نما چہرے پر قوم کا مذاق اڑانے والی مسکراہٹ سجائے ہوئے فخر سے کہتا ہے کہ یہ کون سی نئی بات ہے سارے کاروباری لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس سے پوچھا جائے سینما کی ٹکٹیں بلیک کرنے سے لے کر بارہ شوگر ملز، لاتعداد غیر ممالک کی جائیدادیں، لاتعداد ہیرے جواہرات کون سے کاروبار سے اس نے کمائی ہیں؟ اِخلاقی انحطاط کا یہ عالم ہے دنیا میں مشہور، لوٹ مار میں لاثانی اِس جوڑے کا ایک بیٹا اِسی قوم کا لیڈر اور رہبر کہلاتا ہے اِنا للّٰہ و اِنّا علیہ راجعون، اور جب اسے بتایا جاتا ہے کہ صدقے اور قربانی کے بکرے، اس کے سارے غیر ملکی سفر، اس کے ناشتے اور کھانے کے بل، اس کے دھوبی اور نائی کے بل بھی انہی جعلی اکائونٹس سے ادا ہوئے ہیں تو وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے (ویسے انہیں مزید گمراہ کرنے کی ضرورت اِس لئے نہیں ہے کہ وہ اِن سیاستدانوں کی اصل اوقات سے واقف ہیں لیکن بریانی اور کلین کی خاطر اور چند سو روپوں کی خاطر وہ آج بھی اِن کی گردنوں میں لعنت کا طوق ڈالنے کی بجائے معصوم پھولوں کا خون بہاتے ہیں) بڑے مزاحیہ ایکٹر کی طرح پوچھتا ہے ’’یہ میرے ناشتے کا حساب مانگتے ہیں‘‘۔ حضور جب آپ غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مار کر ایسے ناشتے کریں گے تو صرف یہاں ہی نہیں بلکہ دوزخ کا ایندھن بننے سے پہلے بھی آپ کو اِس کا حساب دینا ہو گا ورنہ کسی اللہ والے سے رجوع کریں اور ان کی منت کر کے پوچھیں کہ جہنم میں جانے سے پہلے بدکردار،لوٹ مار کرنے والے شہنشاہوں سے مرنے کے بعد کیا سلوک ہو رہا ہے تو آپ کے حلق سے شائد حرام کے اِس پیسے سے خریدا گیا پانی بھی کہیں اترے گا، سندھ دنیا بھر میں لوٹ مار کی بہترین آماجگاہ بن چکا کچرے کی تلفی میں بھی یہ لوگ رشوت اور پیسہ ڈھونڈتے ہیں، ایک ماہر دروغ گو وزیر مرکزی سطح پر ایک مینڈکی کی طرح روز ٹی وی پر بیٹھ کر حکومت سے ایک سو ستر ارب مانگتے ہیں کہ کچرا صفائی کے لئے چاہئیں جب انہیں کہا جاتا ہے کمیٹی بنا دیتے ہیں تو ان کے چہرے پر مایوسی اور غم و غصے کے بادل تیزی سے لہرانا شروع کر دیتے ہیں۔ ڈینگی پھر سراٹھا چکا ہے لیکن پنجاب حکومت آج بھی جلد بازی میں ہندوستان سے کھاد میں ڈالنے والا کیمیکل ڈینگی کی دوائی بتا کر منگوا رہی ہے اور کروڑوں روپے اپنے دشمن ملک کو دے کر اپنے لئے موت کا سامان خرید رہی ہے جبکہ اِس سلسلے میں عدالت عالیہ کے احکامات کی پرواہ بھی نہیں کی جا رہی اور یہاں کے ایک مینوفیکچرر جس کا دعویٰ ہے کہ اس کی دوائی کا سپرے کرنے کے بعد اگر ڈینگی کا لاروا پیدا ہو جائے تو اسے سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جائے،ہم ذلت کی گہرائی تو نہیں ناپ سکتے لیکن دوزخ کے لاوے کے مناظر تو اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیا کرام نے واضح انداز میں دِکھا دیئے ہیں ہم کب اپنی راہیں تبدیل کریں گے؟

تازہ ترین خبریں