10:31 am
27 اکتوبر، اسلام آباد پر لشکر کشی!

27 اکتوبر، اسلام آباد پر لشکر کشی!

10:31 am

٭مولانا فضل الرحمان:27 اکتوبر کو اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلانO ن لیگ، پیپلزپارٹی کا دھرنا دینے سے انکارO آزادی مارچ نہیں ہونے دیں گے، پنجاب و پختونخوا حکومتوں کا اعلانO ملک میں شدید ہنگاموں، توڑ پھوڑ، خونریزی کا خطرہO امریکہ اور طالبان کے مذاکرات بحال، اشرف غنی مشتعل۔
 
٭مولانا فضل الرحمان نے بالآخر27 اکتوبر کو اسلام آباد پر 15 لاکھ افراد کی لشکر کشی کا اعلان کر دیا۔ 27 اکتوبر کی تاریخ کا اعلان میرے 12 ستمبر کے کالم ’راوی نامہ‘ میں پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ مولانا نے اسے پراسرار بنانے کی کوشش کی پھر اس کا اعلان کر دیا۔ اس بارے میں تبصرہ سے پہلے چند ضروری معلومات: 27اکتوبر کو مہاراجہ کشمیر نے کشمیر کابھارت سے الحاق کیا تھا۔ اس روز ہر سال پورے کشمیر میں یوم سیاہ منایا جاتا ہے۔ اس سال 27 اکتوبر کو بھارت میں ہندوئوں کا سب سے بڑا دیوالی کا تہوار اور جشن منایا جا رہا ہے۔ 27 اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان نے صدر سکندر مرزا کو اہلیہ ناہید سکندر کے ساتھ ملک سے نکال دیا تھا۔ وہ لندن کے چھوٹے سے ہوٹل میں ملازم ہو کر زندگی گزارتا رہا۔ اسی تاریخ 27 اکتوبر 1962ء کو دنیا میں دوسری ایٹمی جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی جب روسی آبدوز کے کمانڈر ’’آرفی پوف‘‘ نے امریکہ کے بحری جنگی جہاز پر ایٹمی تارپیڈو چلانے سے انکار کر دیا۔ 
یہ تو تاریخ کے واقعات ہیں۔ اب ذرااسلام آباد کے لاک آئوٹ (آزادی مارچ) کا جائزہ! اس بارے میں متعدد تبصرے سامنے آئے ہیں۔ ابھی تک اسلام آباد پر 15 لاکھ افراد کی لشکر کشی کا صرف ایک مقصد بیان کیا جا رہا ہے کہ نئے انتخابات کرائے جائیں۔ مولانا فضل الرحمان ایک عرصے تک اسمبلی میں رہنے کے بعد 2018ء کے جنرل انتخابات میں اپنے ڈیرہ اسماعیل خاں کے دو خاندانی حلقوں سے ہار گئے تھے۔ ایک حلقے سے تحریک انصاف کے علی امین گنڈا پور نے تقریباً 30 ہزار ووٹوں سے اور دوسرے حلقے سے یعقوب شیخ نے 30 ہزار سے بھی زائد ووٹوں سے ہرایا۔ مولانا نے اپنی شکست کو تسلیم نہ کیا اور اسے دھاندلی قرار دے دیا جب کہ ان کا بیٹا اپنے حلقے سے کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچ گیا، اب تک موجود ہے اور اسمبلی کی رکنیت کی تنخواہ، تمام الائونس اور ہر قسم کی سہولتیں حاصل کر رہا ہے۔ مولانا نے بیٹے کی کامیابی کو درست قرار دیا۔ ان کی پارٹی کے دوسرے متعدد ارکان بھی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہیں، ان میں سے کسی کے الیکشن پر دھاندلی کا الزام نہیں لگا۔ گویا ان سب کا الیکشن درست تھا۔ مولانا نے اسمبلیوں کے انتخابات کے فوراً بعد ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر زور دیا کہ وہ اسمبلیوں کا حلف نہ اٹھائیں۔ ان پارٹیوں نے بات نہ مانی تو مولانا نے اپنی پارٹی کے تمام ارکان کو حلف اٹھانے کی اجازت دے دی! (ایک شخص کی بھرپور انتخابی مہم پر 5 سے 10 کروڑ روپے کے اخراجات ہوتے ہیں۔ انتخابی عمل تقریباً چار سے چھ ماہ میں مکمل ہوتا ہے) مولانا نے نئے انتخابات کیلئے جماعت اسلامی کے ساتھ ’’مجلس عمل‘‘ کے اتحاد کو دوبارہ زندہ کیا۔ خود صدر اور جماعت اسلامی کو اپنے ماتحت نائب صدر بنا لیا۔  یوں جماعت اسلامی مولانا کے احکام اور پالیسیوں کے تابع مہمل بن کر رہ گئی۔ یہ سنجوگ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ جماعت اسلامی نے الگ ہو کر اپنی شناخت بحال کی اور فضل الرحمان کا مزید ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد مولانا نے ملک میں ہلہ گلہ کرنے کے لئے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو آلہ کار بنانا چاہا۔ پیپلزپارٹی نے اخلاقی حمائت کا اعلان کیا مگر دھرنے میں شرکت سے صاف انکارکر دیا۔ ن لیگ میں البتہ پھوٹ پڑ گئی ہے۔ نوازشریف ہر حالت میں، ہر قیمت پر، جیل سے باہر آنا چاہتے ہیں چاہے اس کے لئے ملک میں طوفانی ہل چل مچانی پڑے۔ شہباز شریف اس سوچ کے مخالف ہیں۔ وہ حکومت کو صرف اسمبلی میں تبدیل کرنے کے حامی ہیں، سڑکوں پر آ کر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور قید و بند کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ نوازشریف نے انہیں مولانا کے زیر سایہ آزادی مارچ میں شرکت کا حکم دیا تو انہوں نے معذرت کر لی کہ ریڑھ کی تکلیف کے باعث شرکت نہیں کر سکتے۔ اس پر نوازشریف نے ان کی جگہ احسن اقبال کو ن لیگ کا نمائندہ مقرر کر دیا ہے یوں دس ٹکڑوں میں تقسیم مسلم لیگ کا گیارہواں ایڈیشن بھی احسن اقبال لیگ کے نام سے سامنے آگیا ہے۔
آزادی مارچ کا ذکر زیادہ ہو گیا صرف چند تبصرہ نگاروں کے تبصرے! ایک تبصرہ: ایسے موقع پر کہ بھارت سرحدوں پر فوجیں جمع کر کے جنگ کے طبل بجا رہا ہے، بھارتی آرمی چیف واضح الفاظ میں سرحد عبور کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، مولانا کا حکومت کے خلاف ملک کے اندر شدید ہنگامہ آرائی کا منصوبہ خالی از علت نہیں۔ ملک میں لاٹھی چارج، آنسو گیس، وسیع پیمانوں پر گرفتاریوں سے جو انتشار پھیلے گا اس کا صریح فائدہ بھارت کو پہنچے گا! (اب بھی پہنچ رہا ہے) اسے سرحد پار کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ دوسرا تبصرہ: مولانا کا 27 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملہ کے روز بھارت میں دیوالی کا بھرپور چراغاں وغیرہ کا جشن منایا جائے گا۔ عین اسی روز مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد پر قبضے کے اعلان سے کیا مقصد حاصل کیا جائے گا؟ تیسرا تبصرہ: پنجاب اور پختونخوا کی حکومتوں نے آزادی مارچ کو سختی سے روکنے اور ابتدا میں دبا دینے کے جو اعلانات کئے ہیں ان کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے ساتھ کھلی لڑائی ہو سکتی ہے جس کا نتیجہ توڑ پھوڑ اور خونریزی تک پہنچ سکتا ہے۔ تیسرا تبصرہ کہ محض نئے انتخابات کا مطالبہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، مقاصد کچھ اور دکھائی دے رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا آزادی مارچ، کو معنی خیز انداز میں اچھال رہا ہے۔ مزید یہ کہ انتخابات پھر یہی الیکشن کمیشن کرائے گا، یہی پولیس، یہی فوج ہو گی تو پہلے سے مختلف نتائج کیسے حاصل ہو سکیں گے؟ ایک تبصرہ غیر معینہ عرصہ تک اسلام آباد کی تالہ بندی کے دوران 15 لاکھ حملہ آور افراد کے کھانے پینے، رہائش، علاج معالجہ، بیت الخلائوں وغیرہ کے بارے میں ہے۔ اس بارے میں راوی نامہ میں ایک عبوری جائزہ آ چکا ہے، ایک وقت میں چاول یا سالن کی 30 ہزار دیگیں، 15 لاکھ تھالیاں، پیالیاں، ہزاروں دربان وغیرہ!! کروڑوں بلکہ اربوں کے اخراجات! ان ساری باتوں کے بعد ایک آخری تبصرہ کہ بھارت سرحدوں پر جنگ کے للکارے مار رہا ہے آئینی طور پر مسلح افواج کے فرائض میں سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ اندرونی سلامتی کا تحفظ بھی شامل ہے۔ ایسے ماحول میں کہ ملک کی سلامتی خطرے میں ہے، فوج اس قسم کی ’’پِک نِک‘‘ کو کس طرح برداشت کر سکے گی؟ 
٭کچھ دوسری باتیں: پاکستان کی کوشش سے اسلام آباد میںطالبان اور امریکہ میں مذاکرات بحال ہو گئے جو دوحہ میں ایک معاہدہ کے قریب پہنچ کر رک گئے تھے۔اس پر افغانستان کا چند روز مزید بھارتی کٹھ پتلی صدر اشرف غنی بہت مشتعل ہوا ہے۔ مذاکرات پر تو کچھ نہ کر سکا، اس بات پر غصہ نکالا ہے کہ اسلام آباد میں طالبان کے وفد کو حفاظتی پروٹوکول کیوں دیا گیا ہے؟ ایک واقعہ یاد آ گیا کہ ایک سردار نے دیواریں بنانے والے ایک معمار سے پوچھا کہ اس نے اپنے بال کس طرح سیاہ کئے ہیں؟ معمار نے اسے ایک بال صفا سفوف (پائوڈر) کا نام بتا دیا۔ سردار نے پائوڈر لگایا تو سارے بال اتر گئے۔ سخت مشتعل ہوا۔ سر پر رومال رکھ کر باہر آیا۔ وہ معمار ایک دیوار بنا رہا تھا۔ اسے دیکھ کر گالیاں دینے لگا کہ دیوار ٹیڑھی بنا رہا ہے، یہ گر پڑے گی، اس کے نیچے کوئی آ جائے گا۔ ایک گالی دے کر بولا، ’’الو کا…روندا حکیم گیری نُوں‘‘ (حکیم بنا پھرتا ہے)…!
٭مظفر آباد معروف نوجوان کے ادب دوست، محقق شاعر اور اردو کے استاد ’’فرہاد فگار‘‘ ایم فل نے ادبی تحقیق میں بہت نمایاں کام کیا ہے۔انہوں نے پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں 75 فیصد نمبروں سے کامیابی حاصل کی ہے اور باقاعدہ سرکاری لیکچرار مقرر ہو گئے ہیں۔ فرہاد فگار کو بے حد مبارکباد، ایسی مبارکبادوں کے لئے کسی اچھی مٹھائی کے منیجر کی دکان کی تصدیق ضروری ہوتی ہے مگر مظفر آباد بہت دور ہے!! خدا تعالیٰ مزید کامیابیاں عطا فرمائے!

تازہ ترین خبریں