09:37 am
 بحرانوں کے بھنور 

 بحرانوں کے بھنور 

09:37 am

 افغان مذاکرات نہ ہوئے بجلی کا آنا جانا ہوا ! اچانک ہی معطل ہوئے اور اب اچانک ہی بحال ہوگئے! مذاکرات کے نو دور ہوئے ۔ ہر مرتبہ مختلف خبریں موصول ہوئیں ۔ معاہدہ ہو چکا ہے بس حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ افغان حکومت کو طالبان کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ امریکہ بہادر بوریہ بستر باندھے بیٹھا ہے اور بچی کچھی عزت بچا کے واپس لوٹنا چاہتا ہے۔ طالبان کی فتح کا پھریرا پورے افغانستان پر لہرانے والا ہے۔ بھارت کی خواہشات کے بر عکس پاکستان ایک مرتبہ پھر افغان امن کی بحالی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ القصہ مختصر متضاد خبروں کی بھرمار میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں ۔ بقول شاعر 
 
کس کا یقین کیجیے کس کا یقیںنہ کیجیے
لائے ہیں بزمِ ناز سے یار خبر الگ الگ 
زلمے خلیل زاد یکا یک پاکستان آئے ۔ افغان طالبان کا وفد پہلے ہی آچکا تھا ۔ ملاقات ہو چکی ہے ۔ بعض احباب اس ملاقات کو مذاکرات کی بحالی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض محتاط حلقے اسے بحالی نہیں بلکہ صرف ملاقات ہی قرار دے رہے ہیں ۔ یہ بھی خوب رہی کہ ملاقات تو ہو چکی لیکن مذاکرات بحال نہیں ہوئے ۔ گویا امریکی ایلچی زلمے خیل زاد یونہی چلتے چلتے افغان طالبان سے ملاقات کر بیٹھے۔ 
مجھے کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے!
 اگر مذاکرات بحال نہ ہونے کا دعویٰ درست مان لیا جائے تو طالبان اور امریکی نمائندے کی ملاقات دل پشوری ہی قرار دی جاسکتی ہے۔ طالبان نے کہا بھئی ہم تو حکومت پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد آئے تھے ۔ زلمے صاحب کہئیے آپ کا کیسے آنا ہوا ۔ زلمے خلیل زاد نے بتایا ہو گا کہ صاحبوبس حسن اتفاق ہے کہ میں بھی کسی کام سے نکلا تھا ۔ بس تھکاوٹ دور کرنے اور چائے پینے کے لیے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اتر گیا ۔ یہاں پتا چلا کہ بھائی لوگ بھی اسلام آباد میں آئے ہوئے ہیں تو سوچا چلو حال احوال معلوم کریں ، مل کر چائے قہوہ پئیں اور تھوڑی دل پشوری کریں ۔ اس کے بعد فریقین نے قہوہ نوش کیا ، کچھ گپ شپ کی ، کچھ دل پشوری کی اور اپنی اپنی راہ لی ۔ گمان غالب یہی ہے کہ یہ ملاقات قہوے کی پیالی پر کی جانے والے روایتی دل پشوری سے کہیں زیادہ سنجیدگی کی حامل رہی ہوگی۔ جس طرح زلمے صاحب امریکی صدر کے ایک اشارہ ابرو پر مذاکرات معطل کر کے الٹی قلابازی لگا کر امریکہ لوٹ گئے تھے بالکل اسی طرح اب سرکاری اشارہ ملتے ہی سیدھی قلابازی لگا کر طالبان سے حال احوال دریافت فرمانے اور الجھے ہوئے مسائل کو سلجھانے اسلام آباد آن پہنچے ہیں ۔ 
بقول حفیظ ہوشیار پوری
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی 
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
 الجھنیں سب کی اپنی اپنی ہیں ! افغانیوں کو امن درکار ہے۔ معاشی خوشحالی درکار ہے ۔ ایسی خود مختاری جو بیرونی قوتوں کے عمل دخل سے پاک ہو ۔ اسلام آباد کے فیصلہ سازوں کی بھی خواہش یہی ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور وہاں کے حکمراں کسی سازشی کے بہکاوے میں آ کر پاکستان جیسے برادر ملک کی جڑیں کاٹنے کے عمل کا حصہ نہ بنیں ۔ یہ الجھن بھی بے حد اہمیت کی حامل ہے کہ مغربی سرحد پر ازلی دشمن بھارت جارحیت کے لیے کرائے کے دہشت گردوں کو افغان حکومت کی فراہم کی گئی پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا سلسلہ ترک کرتا دکھائی نہیں دے رہا ۔ افغانستان کے مخصوص قبائلی اور لسانی منظر نامے میں بھانت بھانت کے گروہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں ۔ نوے کی دہائی میں سویت یونین کی پسپائی اور امریکہ بہادر کی پراسرار رخصتی کے بعد افغانیوں کی ناتفاقی اور باہمی کشیدگی کی بدولت طویل خوں ریزی ہوئی ۔ پاکستان ہر اعتبار سے افغانستان کی بدامنی کا متاثرہ فریق ہے۔ افغان اکھاڑے میں عالمی پہلوانوں کا دنگل جاری ہے ۔ چین اور روس بھی اس دنگل میں شریک ہیں ۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ بہادر اس خطے میں دہشت گردی ختم کرنے اور افغانستان کو فلاحی جمہوری ریاست بنانے کے لیے سترہ برس سے مصروف عمل ہے تو وہ اپنی غلط فہمی دور کر لے اور جو ارباب فکر و دانش اس زعم میں مبتلا ہیں کہ امریکہ بہادر کو افغانستان میں مکمل شکست ہو چکی ہے اور وہ باعزت واپسی کی راہیں تلاش کر رہا ہے تو وہ بھی اپنی خوش فہمی پر نظرثانی فرمائیں۔ خطے پر بالا دستی کی کشمکش جاری ہے۔ وسط ایشیا کی منڈیوں تک رسائی اور معاشی بالا دستی کے لیے کشمکش جاری ہے۔ افغانستان کا جغرافیائی محل وقوع اس ملک کے لیے تمام مصائب کا باعث بنا ہوا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پاکستان کے ساتھ بھی ہے۔ کشمیر اور افغانستان میں سر اٹھاتے بحرانوں سے نمٹنے کا تقاضہ یہی ہے کہ پاکستان خود مستحکم ہو۔ معاشی ، سیاسی اور انتظامی بحرانوں کے بھنور سے بچ نکلنے کے بعد ہی ہم خارجی محاذ پر موثر کردار ادا کرنے کے قابل ہوپائیں گے۔

تازہ ترین خبریں