09:37 am
کچھ آزاد منش جنوبی ہندوستان کے بارے میں

کچھ آزاد منش جنوبی ہندوستان کے بارے میں

09:37 am

گزشتہ ایک نشست میں برصغیر میں انگریز عہد کی565 آزاد و خودمختار ریاستوں کا ہم نے ذکر کیا تھا۔ ان میں مسلمان تو چند ایک تھی جبکہ ہندو زیادہ۔ مثلاً آسام، تامل، ناگالینڈ ، تری پورہ وغیرہ (جنوبی ہندوستان) یہ ہندو فکر پر مبنی بہت  قدیم ریاستیں تھیں، بہاولپور، سوات، قلات کی ریاستیں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئی تھیں۔ تاریخ فرشتہ میں یہ زیر مطالعہ رہا ہے۔ جے پور قدیم ترین ہندو ریاست تھی جس کی تاریخ مرہٹہ ہندو فکر سے جاملتی ہے۔
 
جے پور کا ہندی قدیم فکر مسلمان مغل بادشاہت کے مدمقابل تھا۔ حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ صرف انسان دوست مسلمان مغل (ترک) عہد حکمرانی میں واحد تاریخی رویہ ہے جس نے برصغیر کی سرکشی و باغی انفرادی ریاستوں کو ان کی رضامندی  سے منظم و مرتب ہندوستان نام کی  عظیم ریاست کا روپ دیا مگر مسلمان مغل (ترک) اور افغان جیسے شیر شاہ سوری اور ابراہیم لودھی، ان سب نے ہندوئوں کو اپنی راج نیتی میں بنیادی کردار دیا تھا۔ جے پور کا ہندو فلسفہ اپنے دامن میں جارح اور سفاکیت کا مزاج رکھتا ہے۔ اس کی نمائندگی آج کی بی جے پی ، امیت شاہ ، نریندر مودی اور سیکورٹی ایڈائزر کرتے ہیں۔ اس جے پور کے قدیم جارح و سفاک عہد فکر کے سامنے حیدر آباد دکن کا مسلمان شیعہ وسیع المشربی اور وسیع الظرفی کا وجود ہے جس کی بنیاد ایک ترک شہزادے نے اٹھائی تھی کیونکہ ترکی میں سلطنت عثمانیہ کی خاصیت تھی کہ جو حکمران بھی ہوتا وہ اپنے سب بھائیوں کو قتل کراتا تاکہ اس کے اقتدار کو خطرہ لاحق نہ ہو جیسے داراشکوہ کو اورنگزیب نے ملیامیٹ کیا۔ استنبول سے ایک ترک شہزادہ چھپ چھپا کر عہد معصومیت میں ایران پہنچا اور وہاں سے بہت  عرصے بعد حیدر آباد دکن چھپ کر ایران میں رہنے کے باعث وہ  اثنا عشری ہوگیا۔  اس عہد میں ترک خلافت عثمانیہ اور ایرانی بادشاہ آپس میں دشمن تھے ۔اصل بات یہ ہے کہ پیار، محبت، خدمت ، شفقت وہ نفسیاتی احسان عظیم ہوتا ہے جو کسی بھی انسان اور فرد کا گرویدہ کر دیا کرتا ہے۔ یہی کچھ ایرانی سرزمین نے اس معصوم و بے بس ترک شہزادے کو دیا۔ جواب میں جب خدا نے اسے اقتدار دیا تو وہ حیدر آباددکن کا بانی قرار  پایا۔ مسلمان حیدر آباد دکن اور ہندو جے پور برصغیر میں ہندو متشدد فکر اور مسلمان رحمدل، فیاض، انسان دوست رویئے کے درمیان فرق کا نام ہے۔ اسی کا ذرا نام بدلیں تو پاکستان اور ہندوستان کہا جاسکتا ہے۔ گزشتہ نشست میں ، میں نے توجہ دلائی تھی کہ پاکستان کا ظہور ،تاسیس، بنیاد مورخہ14,15 اگست کو اٹھی تھی جبکہ ہندوستان تو ہزاروں سال پہلے سے ہے۔ لہٰذا 15 اگست  کا ہندوستان نئی تخلیق و تاسیس و بنیاد کی بجائے صرف آزاد ہوا تھا مگر اس آزادی نے بھی اسے ابتداء ہی سے فوجی استعمار اور فوجی استحصال کا راستہ اپنانے کی فکر دی تھی۔ ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر داخلہ و سرحدی امور اور ریاستیں سردار پٹیل نے ان تمام ہندو ریاستوں اور مسلمان ریاستوں کو انضمام کے نام پر بھرپور فوجی طاقت سے کچل دیا تھا۔
میں دوبارہ توجہ دلاتا ہوں کہ تامل ناڈو، تری پورا، میزرورام ، ناگالینڈ، آسام یعنی جنوبی ہندوستان کی یہ سب آزاد خودمختار ہندو ریاستیں تھیں۔ ان کا الحاق نظریاتی طور پر خودبخود ہندوستان سے فطری طور پر ہو جانا تھا مگر سردار پٹیل جو کہ بی جے پی کے سیاسی فکری عظیم ترین رہنما ہیں اور جن کا بلند قامت مجسمہ چینی مجسمہ سازوں کے ذریعے گجرات کے احمد آباد میں نصب ہے ، گجرات سے ہی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کا تعلق ہے۔
اب ماضی بعید کا جنوبی ہندوستان یعنی آسام، ناگالینڈ، میزورام وغیرہ مقبوضہ کشمیر میں5 اگست کو اٹھائے گئے اقدامات کے سبب بی جے پی اقتدار  سے سخت مایوس ہوکر جدوجہد آزادی ،جدوجہد ذاتی شناخت کی طرف تیزی سے لوٹ گیا ہے۔ اگر مسئلہ صرف مذہب و دین کا ہو تو جنوبی ہندوستان کی آزادی طلب کرتی ، ذاتی شناخت طلب کرتی ریاستوں  کو ہرگز بی جے پی اقتدار والے ہندوستان سے الگ ہوکر اپنی ذات ، اپنی شناخت کی بات نہیں سوچنی چاہیے مگر وہ عملاً ایسا ہی سوچ رہے ہیں کیونکہ5 اگست کے کشمیر کے حوالے سے اٹھائے گئے مودی سرکار کے اقدامات نے انہیں خصوصی حیثیت ملی ہوئی شناخت کو مشکوک اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ان جنوبی ہند کی ریاستوں کا جھکائو چین کی طرف ہے۔ نیپال، سری لنکا ہندو ریاستیں ہیں مگر دونوں بھی بطور خاص نیپال ہندوستان کی استحصالی حکمرانی کا شکوہ کیا کرتی ہیں اسی کے سبب نیپال نے اپنے کچھ معاملات عملاً چین کی طرف موڑ رکھے ہیں۔ 
میرے مطالعے کے مطابق ہندوستان کو مقبوضہ کشمیر کے الگ ہو جانے سے وہ خطرہ ہرگز نہیں جس کا وہ شور مچاتے ہیں  کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی سے اس کے وفاق کے بکھر جانے کا اندیشہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر تو جغرافیائی وہ اکائی ہے جس کا تعلق صرف پاکستان کے  راولپنڈی سے ملتا ہے۔ ہندوستانی جغرافیے اور وحدت کو اصل خطرہ تو جنوبی ہندوستان کی ہندو ریاستوں کی تیزی سے آزادی طلب جدوجہد سے پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ ان ہندو ریاستوں میں آزادی اور شناخت کی جدوجہد تو بہت پرانی ہے بلکہ یہ ردعمل جدوجہد ہے اس غیر فطری ظالمانہ انضمام کی جو جبریہ طور پر سردار پٹیل نے کیا تھا اس موضوع کو فی الحال اس جگہ چھوڑتے ہیں۔ اب آئیے ذرا پاکستان کی طرف، پاکستان کی تخلیق14,15  اگست1947 ء کی درمیانی شب کو ہوئی تھی۔ علمائے نجوم و افلاک کے مطابق اس تخلیق میں فوج کا بنیادی کردار بھی ریاست کی تخلیق کا اساسی حصہ ہے۔ جب تک پاکستان ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ رہے گا تو اس میں فوج کاکردار واضح، مضبوط اور فعال  رہے گا۔ میرے خیال میں اس کی وجہ شاید برصغیر میں مرہٹہ  سفاک راج کا لوٹنا   تھا۔ یاد رہے ہندوستان میں مرہٹہ ہندو سفاک  راج کے سدباب کے لئے ہی امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے افغانستان کے احمد شاہ ابدالی کو خط لکھ کر بے بس مسلمانوں کی حالت زار کی دہائی دیکر مدد کیلئے بلوایا تھا۔ برصغیر میںکمزور مسلمانوں کے لئے نریندر مودی، امیت شاہ، اجیت اور بی جے پی کی صورت میں مسلمانوں کیلئے پھر سے سفاک و بے رحم انسان دشمن ہندو انتہا پسند راج عہد لوٹ آیا ہے۔ اسی سبب اللہ تعالیٰ نے تاسیس پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان میں فوج کے مضبوط اور فعال کردار کی تخلیق بھی کر دی تھی تاکہ وہ پڑوسی دشمنوں کی سازشی اور مکار چالبازیوں سے پاکستان کو بچاتے رہے۔
پس تحریر: ہندوستان میں بسنے والے مسلمان بہت ہی مجبور و بے بس ہیں۔ خواہ یہ عام مسلمان ہوں یا دینی و مذہبی شخصیات، بھارتی مذہبی شخصیات کے بی جے پی اقتدار کی حمایت میں ، کشمیر کے حوالے سے اور پاکستان مخالف آنے والے موقف اور بیانات پر ہمیں ہرگز منفی ردعمل نہیں دینا چاہیے بلکہ  ان کی مجبوریوں کو سامنے رکھ کر خاموشی اختیار ہونی چاہیے۔

تازہ ترین خبریں