09:38 am
حکومت گزیدہ

حکومت گزیدہ

09:38 am

کتے انسان کے دوست رہے ہیں، وفادار، فرض شناس، اردو ادب میں جگہ جگہ کتوں کا تذکرہ نظر آتا ہے، شاعری میں کم کم لیکن نثر میں اس جانور پر کافی کچھ لکھا گیا۔ خیر آجکل تو سوشل میڈیا پر امپورٹڈ، خوبصورت کتوں کی تصاویر بھی مقبول عام ہیں جن کا شجرہ ساتویں لڑی تک موجود ہوتا ہے۔ پطرس کہتے ہیں انسانوں کی طرح کتوں کی  بھی اقسام ہوتی ہیں، شریف، منچلے، رعب دار، ڈرپوک، کٹکھنے، کتوں پر سرسید کی بھی شاندار تحریر موجود ہے، چہار درویش کے خواجہ سگ پرست کا کردار ایک عکس ہے، مگر ایمانداری کی بات ہے غالب کا ایک شعر سب پر بھاری ہے
 
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں
پاگل کتے کے کاٹا شخص نہ صرف پاگل ہو جاتا ہے  بلکہ پانی سے خوف کھاتا ہے اور بڑی تکلیف سے مرتا ہے، پہلے زمانے میں اسکا کوئی علاج نہ ہوا کرتا تھا جانے کتنے انسان پاگل کتوں کے کاٹنے کی بنا پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے۔ آج صرف ایک انجکشن اس موذی مرض کیلئے کافی ہے، جدید دنیا میں یہ تصور موجود نہیں کہ کوئی شخص اس بنا پر جان سے جائے، خیر اب تو انتہائی زہر آلود سانپ کے کاٹے کا ویکسین بھی موجود ہے۔ خیر میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں، ہمارا حافظہ کمزور ہے ابھی چند ہفتوں پہلے کی بات ہے کہ لاڑکانہ میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے پر دس سالہ میر حسن ماں کی گود میں دم توڑ گیا تھا، وجہ یہ تھی کہ اسپتال میں اینٹی ریبییز انجکشن دستیاب نہ تھا، یہ زیادہ مہنگا انجکشن نہیں 750 سے 1100 روپے تک مل جاتا ہے۔ یہ تو اتفاق ہے کہ بچے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، میڈیا چیخ اٹھا، اخبارات میں ہیڈ لائنز لگیں، سوال اٹھے ورنہ نجانے اب تک کتنے گمنام میر حسن پاگل کتوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہونگے۔
بہرحال جناب اب حکومت سندھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال کے دوران ایک لاکھ 32 ہزار شہری کتوں کا شکار بنے۔ متاثرہ افراد میں سے صرف 55 ہزار افراد کو انجکشن لگایا گیا باقی 77 ہزار افراد علاج سے محروم رہے۔ کراچی جیسے شہر میں یومیہ 100 افراد کتوں کا شکار بنتے ہیں، ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر قائد میں 20 لاکھ سے زائد آوارہ کتے موجود ہیں، گزشتہ چار ماہ کے دوران شہر میں 6 شہری کتوں کے کاٹنے سے مر چکے ہیں۔ کراچی بڑا شہر ہے اندروں سندھ حالت کہیں زیادہ بدتر ہے، اینٹی ریبیز محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی ملاحظہ فرما لیں، حیدرآباد میں 3 ہزار، بدین میں 3487، دادو میں 8358، گھوٹکی میں5077، قمبر میں 9021، لاڑکانہ میں 3932، میر پور خاص میں 3298، نوشہروفیرز میں 7572، شکار پور میں 4918، شہید بے نظیرآباد میں 4000 اور عمرکوٹ میں 3966 کتے کے کاٹنے کے واقعات پیش آئے۔ یہ ہے بلاول کا سندھ، یہ ہے حکومت سندھ کی کارکردگی اور یہ ہیں موروثی سیاست کے نتائج الحمداللہ سندھ کی وزیر صحت بلاول کے پھوپھی محترمہ ڈاکٹر عذرا پیچوہو صاحبہ ہیں سو ان کا فرمان ہے کہ کتا کاٹنے کی ویکسین بہت مہنگی ہے ہر کسی کو نہیں لگائی جا سکتی، کتا کاٹے تو چیک کرنا چاہیئے کہ پاگل ہے یا نہیں، ہنسیے گا نہیں، ماشااللہ محترمہ خود بھی ڈاکٹر ہیں، ویسے بھی محکمہ سندھ عرصہ دراز انکے شوہر افضل اللہ پیچوہو کی سلطنت رہا ہے، آصف زرداری صاحب کی ہمشیرہ ہونے کے ناطے سندھ پر انکا پورا پورا حق ہے، بلاول کی پھوپی ہونے کے باعث سیاسی بزرگوں میں شمار ہے، اللہ نہ کرے کہ انکے خاندان میں کوئی پاگل کتے کا شکار بنے ورنہ پاگل ہے یا نہیں اسکا فیصلہ انہیں خود ہی کرنا پڑیگا۔ بھلا سندھ میں کس کی مجال ہے کہ ان سے سوال کر سکے، مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، خلق خدا کی بد دعائیں اثر دکھاتی ہیں، جو کرو گے بھگتنا تو پڑتا ہے۔ سرکار یہ صرف ایک محکمہ ہے حال ساری وزارتوں کا کم و بیش یہی ہے، سیاسی نوٹنکی جاری ہے، حالات حاضرہ کو کئی سال ہو گئے۔
چلیں صاحب، سندھ کی ابتر حالت زار اور بد انتظامی کو تو موروثی سیاست کا شاخسانہ قرار دیکر دل کو تسلی دے لیں مگر کیا پنجاب میں صورتحال قابو میں ہے۔ ڈینگی نے پورے ملک پر پنجے گاڑ رکھے ہیں، سب سے زیادہ تباہی پنجاب میں ہوئی، 30 سے زائد افرادجاں بحق ہو چکے ہیں، مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، پنڈی، لاہور،  پوٹھوہار سب سے زیادہ متاثر ہے۔ چند روز پہلے وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی پریس کانفرنس سن رہا تھا، فرما رہے تھے کہ پرائمری ہیلتھ کیئر حکومت کی اولین ترجیح ہے، دل چاہا، خیر چھوڑیں کچھ باتیں نہ کرنا ہی بہتر ہے، موصوف نے ملک بھر میں ڈینگی الرٹ بھی جاری کیا۔ تحریک انصاف حکومت کو کس طرح سمجھایا جائے کہ ہولناک صورتحال کو بھاشن، لفاظی اور پر جوش تقریروں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ لوگ مر رہے ہیں، سیاستدانوں کی نااہلی عوام کوقتل کر رہی ہے اور آپ لفظوں کے طوطے اڑا رہے ہیں، ترجیحات اور الرٹ کی باتیں بے معنی اور عوام کیساتھ مذاق ہیں۔ کیا گزشتہ حکومتوں نے ڈینگی ہلاکتیں بھی مصنوعی طریقے سے روکی ہوئی تھیں، خدارا کام کریں اور اگر اہلیت نہیں ہے تو گھر بیٹھیں، پاکستانی کب تک حکومتوں کی نااہلی کی سزا بھگتیں گے؟
پولیو ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے، 1988 میں پولیو مریضوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ تھی جو 2014 میں 306 تک محدود ہو گئی تھی مگر اب ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیو مریضوں میں اضافہ ایک المیہ ہے، پوری دنیا سے پولیو ختم ہو چکا ہے پاکستان ان تین ملکوں میں شامل ہے جہاں اب تک پولیو پر قابو نہیں پایا جا سکا، باقی دو ممالک افغانستان اور نائجیریا ہیں، بلکہ شاید نائجیریا بھی جلد اس فہرست سے نکلے والا ہے، تو افغانستان اور پاکستان رہ جائینگے، کیا اسے بھی گزشتہ حکومتوں کی نااہلی اور کرپشن سمجھا جائے؟
پاکستان کا المیہ ہے کہ کہ آمر ہو یا سیاستدان، حکومت میں آ کر اوقات بھول جاتے ہیں، جو حکومت عوام  کا تحفط نہ کر سکے، صحت، تعلیم، خوراک، صاف پانی نہ دے سکے۔ ایسی حکومت سیاسی ہو یا فوجی، کس کام کی، 72 سال گزر گئے مگر ہم حکومت کرنا نہ سیکھ سکے، درحقیقت پاکستان کے عوام حکومت گزیدہ ہیں۔ 

تازہ ترین خبریں