09:41 am
یا الٰہی یہ ماجرہ کیا ہے؟

یا الٰہی یہ ماجرہ کیا ہے؟

09:41 am

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نئی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ مولانا کوئی مارچ نہیں کریں گے وہ محض کسی کے اشارے پر مارچ کا غچہ دے کر اپوزیشن پارٹیوں کی بے عزتی کروانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ مولانا کی ذہانت اور فراست سے کسی کو انکار نہیں وہ کسی اور کے ساتھ مخلص ہوں نہ ہوں اپنے ساتھ ہمیشہ مخلص رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی کچی گولیاں نہیںکھیلیں۔ بقول شخصے وہ کبھی گیلی زمین پر اپنا قدم نہیں رکھتے ، لہٰذا مارچ کرنے میں انہیں ضرور کوئی فائدہ نظر آرہا ہوگا ورنہ وہ اتنی بھاری تیاری اور اتنے بولڈ بیانات نہ جاری فرما رہے ہوتے۔
 
اگر ہم تھوڑا سا بھی غور کریں تو دو باتیں تو فوراً نظر آجاتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا کے مارچ یا دھرنے سے عمران خان کی حکومت نہیں گرسکتی۔ عمران کے 126 دن کے دھرنے سے بھی نواز شریف کی حکومت صرف کمزور ہوئی تھی گری نہیں تھی ۔ عمران کی حکومت کو کمزور کرنے والی اسٹرٹیجی کم از کم مجھ ناقص العقل کی سمجھ سے تو باہر ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر بالفرض محال عمران خان کی حکومت گر بھی جائے تو بھی مولانا کو کیا ملے گا۔ اگر نئے انتخابات کا اعلان ہو بھی جائے تو بھی مولانا کو سوائے چند سیٹوں کے کچھ نہیں ملے گا۔ وہ وزیراعظم تو نہیں بن سکتے۔ زیادہ سے زیادہ وہ پھر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن جائیں گے۔ ایسے بے وقعت عہدے کی خاطر مولانا کیوں اتنا بڑا قدم اٹھا رہے ہیں۔ کیوں اپنی جان اتنے بڑے عذاب میں ڈال رہے ہیں۔
مندرجہ بالا کے تناظر میں صرف یہی قرین قیاس لگتا ہے کہ آزادی مار چ مولانا کا اپنا ایجنڈا نہیں ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی  دونوں نے مارچ میں گرم جوشی سے شرکت کا عندیہ نہیں دیا ہے۔ بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں فضل الرحمن پر بھروسہ نہیں کرتیں۔ ان کو بھی یہی ڈر ہے کہ مولانا انہیں مارچ پر اکسا کر خود عین وقت پر پتلی گلی سے نکل جائیں گے مگر بوجوہ وہ مولانا کی اعلانیہ مخالفت بھی نہیں کرسکتے۔ وہ انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ مولانا جیسے زیرک سیاستدان کو تو یہ بات بہت جلد سمجھ میں آجانی چاہیے تھی کہ پرند ے ان کے پھینکے ہوئے جال میں نہیں آرہے۔ اب اگر اس احساس کے باوجود مولانا کی تقاریر کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی جماعت کے دیگر اکابرین بہت سخت بیانی پر اتر آئے ہیں تو پھر ضرور کوئی وجہ ہوگی۔ اگر مولانا اور ان کی پارٹی کو اس آزادی مارچ اور دھرنے سے کچھ نہیں ملتا تو  ہر گزرنے دن کے ساتھ ان کے لہجے میں تنائو کیوں بڑھتا جارہا ہے؟ حکومتی وزراء یہ کہتے سنے گئے ہیں  مولانا کو اصل میں یہ خوف ہے کہ حکومت جو مدرسوں میں اصلاحات لارہی ہے اس سے مولانا کے ہاتھ سے یہ مدرسے نکل جائیں گے اور ان کا حلقہ اثر محدود ہو جائے گا لیکن یہ الزام بچگانہ ہی ہے کیونکہ محض اس خوف کی وجہ سے حکومت گرانے کی کوشش کر گزرنا قابل یقین محسوس نہیں ہوتا۔ اب عمران خان نے اپنے ماتحتوں اور وزراء کو کہا ہے کہ وہ پتہ کریں کہ مولانا فضل الرحمن کا اصل مقصد کیا ہے؟ گویا کہ وہ یہ اعتراف کررہے ہیں کہ انہیں بھی یہ علم نہیں ہے کہ مولانا نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا ہے۔
ایک بات کچھ لوگ سرگوشیوں میں کہتے ہیں کہ مولانا کی سپورٹ کوئی بڑی ہی اہم شخصیت یا ادارہ کررہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ شخصیت یا ادارہ کون ہے اور وہ کیوں مولانا کو اس کام کیلئے تیار کررہا ہے۔ اب جبکہ آرمی چیف نے ملک بھر کے اہم بزنس مینوں کو واضح پیغام  دے دیا ہے کہ وہ سب موجودہ حکومت کے ہاتھ مضبو ط کریں تو یہ تاثر تو بالکل کافور ہوگیا کہ فوج کسی طرح بھی مولانا کو مارچ اور دھرنے کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ تو پھر کیا بات ہے۔ یہ کون ہے جو مولانا کے مارچ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔اب آئیں ایک اور اہم نکتے کی طرف۔ مولانا سے استدعا کی گئی کہ دھرے کو ایک یا ڈیڑھ ماہ کیلئے ملتوی کریں مگر وہ اس پر تیار نہیں ہوئے حالانکہ ان کی ضد کی وجہ سے یہ واضح خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ نون لیگ ان کے مار چ میں شامل نہیں ہوگی۔ مولانا کو کس بات کی جلدی ہے؟ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ناکام ہوچکی ہے اور غالباً اس سال کے آخر تک یا اگلے سال کے اوائل میں خود ہی گر جائے گی تو پھر مولانا کیوں اتنی جلد میں ہیں؟ کچھ تو ہے جو عوام کے سامنے نہیں آرہا! 
مجھے ذاتی طور پر تو آج بھی یقین ہے کہ یہ مارچ نہیں ہوگا مگر آپ ایک بار پھر ایک بار نکات کی ترتیب دیکھ لیں اور خود فیصلہ کریں۔
٭ مولانا کو یا ان کی جماعت کو مارچ سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ٭ مارچ عمران خان کی حکومت کو کمزور تو کرسکتا ہے گرا نہیں سکتا۔٭ اگر عمران کی حکومت گر بھی جائے تو بھی مولانا کو کچھ نہیں ملے گا۔٭ ن لیگ اور پی پی پی مولانا کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں ہیں۔ ٭ نواز شریف اور شہباز شریف مل کر گیم کھیل رہے ہیں ایک اچھا سپاہی ہوا دوسرا برا سپاہی ہوا ہے مگر اندر سے دونوں ایک ہیں۔ ٭ زرداری کبھی مولانا پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ ٭ فوج تو موجودہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اوروہ نہیں چاہے گی کہ مولانا کا مارچ تھوڑا سا بھی کامیاب ہو۔ ٭ یہ آزادی مارچ پہلے سے تباہ شدہ معیشت کو مزید نقصان پہنچائے گا۔ ٭ اس دھرنے سے صرف عمران خان  پر پریشر بڑھے گا۔ کون چاہتا ہے کہ عمران پر پریشر بڑھے؟٭ مولانا کے سامنے کوئی واضح ایجنڈا نہیں ہے مگر پھر بھی وہ اکتوبر میں ہی مارچ کرنے پر مصر ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے وہ نون لیگ کی حمایت سے محروم ہو جائیں گے۔
مندرجہ بالا تمام نکات کے باوجود مولانا فضل الرحمن اپنی تمام ذہانت کے ساتھ آزادی مارچ پر اپنا سار ا سیاسی کیریئر دائو پر لگانے کو تیار ہیں۔ اب حکومتی وزراء نے بھی ان پر زبانی حملے شروع کر دیئے ہیں گویا یہ وزراء اب اس مارچ کو آتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اس کے جواب میں مولانا کی جماعت کے عمائدین بھی بڑھ چڑھ کر تیز و تند بیانات دے رہے ہیں۔ یا الٰہی یہ ماجرہ کیا ہے؟

تازہ ترین خبریں