09:43 am
ٹرمپ کا یوٹرن اور طالبان کا استقبال

ٹرمپ کا یوٹرن اور طالبان کا استقبال

09:43 am

تقریباً18 سال بعد2 اکتوبر بدھ کے دن ملا محمد عمر مجاہد کے افغان طالبان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچا تو اس وفد  کا حکومتی سطح پر شاندار استقبال کیا گیا۔
طالبان کے سینئر رہنما ملا برادر اخوند طالبان کے اس وفد کی سربراہی کررہے ہیں  کہ جس کو اسلام آباد میں ملنے والے سرکاری پروٹوکول پر افغان صدر اشرف غنی کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور اس نے پروٹوکول پر اعتراض بھی کیا ہے۔
بے چارہ اشرف غنی کہ جس کی اپنی حیثیت امریکی کٹھ پتلی کے سوا کچھ بھی نہیں ، وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ ملا محمد عمر کے طالبان افغانستان کی وہ حقیقی قوت ہیں کہ جسے دنیا تسلیم کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ پاکستان سے قبل طالبان کا وفد جب چین کے دورے پر پہنچا تھا تو وہاں بھی انہیں زبردست پروٹوکول دیا گیا تھا۔ اشرف غنی کا یہ کہنا کہ طالبان ایک شدت پسند گروہ ہیں … کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے، اس خطے میں پائے جانے والے اشرف غنیوں کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنی طرح کا کٹھ پتلی بنانا چاہتے ہیں۔ انہیں افغان طالبان جیسے آزاد منش خدا پرست ایک آنکھ نہیں بھاتے، لیکن ان ’’بندگان امریکہ‘‘ کو کوئی بتائے کہ افغان طالبان نے عیاری و مکاری  یا کسی سیاسی کے ذریعے اپنا آپ نہیں منوایا نہ انہوں نے امریکہ یا دنیا کے کسی اور ملک سے عزت اور پروٹوکول کی بھیک مانگی ہے بلکہ طالبان  نے افغانستان میں جو جہاد کیا ہے یہ اس ’’جہاد‘‘ کی زندہ کرامت ہے کہ جس ملا برادر اخوند کو رسوا کن حکمرانوں کے دور میں ذلت آمیز انداز میں گرفتار کیا گیا تھا ، اسی ملا برادر اخوند کی قیادت میں آنے والے وفد کی راہوں میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آنکھیں بچھائے کھڑے تھے۔ بے شک عزتوں اور ذلتوں کا مالک پروردگار عالم ہے۔ افغان جہاد کی کرامات کا سورج پوری آ ب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے لیکن جن کے دلوں پر مہریں اور آنکھوں پر ڈالروں کے پردے تنے ہوئے ہوں وہ تو سرے سے فلسفہ جہاد کے ہی مخالف  ہیں ۔ افغان ’’جہاد‘ کو وہ کیا خاک تسلیم کریں گے؟ اگر افغان جہاد امریکی جنگ ہوتی یا مجاہدین افغانستان نے یہ جہاد ڈالروں کے شوق میں لڑا ہوتا تو کیا  نصرت خداوندی کے ایسے مناظر دیکھے جاسکتے تھے؟
کبھی نہیں، شاید کبھی بھی نہیں، لیکن مشرکین اور مستشرقین کی طرح مسلمانوں کی صفوں میں گھسا ہوا جہاد سے خوفزدہ منافقین کا گروہ افغان جہاد میں نصرت خداوندی کے مناظر دیکھ کر بھی چمکاڈروں کی طرح اس لئے آنکھیں بند کرلے گا کیونکہ وہ حق کی روشنی کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا، افغان طالبان تو بوریہ نشین تھے مگر آج مہذب ممالک ان کا ریڈ کارپٹڈ استقبال کررہے ہیں، افغان طالبان کو تو امریکہ، اس کے حواری نیٹو ممالک اور سیکولر دنیا کے کم ظرف ’’ارسطو‘‘ اور ’’افلاطون‘‘ دہشت گرد قرار دیا کرتے تھے مگر آج وہ سارے مل کر منتیں اور ترلے کرکے ان سے مذاکرات پر مجبور ہیں تو کیوں؟ آخر افغان طالبان نے کون سے کارخانے لگائے ہیں ،یونیورسٹیاں قائم کی ہیں؟ کون سی معیشت کو  مضبوط کیا ہے؟ کس اقوام متحدہ، ایف اے ٹی اے ایف کو راضی کرنے کی کوششیں کی ہیں؟ کہ آج ان کے خون کے پیاسے ان سے دوستی کے متمنی ہیں؟ 
غامدی فکر کے بعض مریض افغان جہاد اور طالبان کی کامیابی کا سہرا مختلف ایجنسیوں کے سر باندھنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ اصل میں  فتنہ منکرین جہاد کے پیادوں کا یہی وہ آخری حربہ ہوتاہے کہ جس کے ذریعے وہ ہر ممکن طریقے پر جہادی ثمرات اور کرامات کو نہ ماننے کے مشن پر گامزن رہتے ہیں اور اگر معاملہ افغان طالبان کی بے مثال کامیابی اور باطل قوتوں کی شرمناک ناکامی کی صورت میں ظاہر ہو تو یہ جان بوجھ کر اسے بھی ایجنسیوں کے سر تھونپ کر مجاہدین کی کامیابی کو اس لئے گہنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے جہاد مقدس پر اعتماد کو متزلزل کیا جاسکے۔ افغانستان پرامریکی جارحانہ حملوں کے بعد افغانوں کا ایک گروہ امریکہ کا کٹھ پتلی بن کر اپنے افغانوں کا ہی قتل عام کرتا رہا جبکہ طالبان  ، امریکہ اور نیٹو ممالک کے سامنے ڈٹ گئے۔ جب اشرف غنی جیسے امریکیوں کی حفاظت میں امریکہ کی طاقت کا سکہ جمانے کیلئے محنت کررہے تھے تب  بھی افغان طالبان امریکیوں کے ساتھ برسر پیکار رہے۔ آج جب طالبان کے وفود کاکبھی دوحہ میں کبھی روس، کبھی چین اور کبھی پاکستان میں استقبال کیا جارہا ہے تو امریکی صفوں میں شامل گروہ اور امریکہ کو شکست سے دوچار کرنے والے طالبان برابر کیسے ہوگئے؟ اور پھر امریکہ افغانستان میں اپنا فوجی اڈہ کیوں رکھنا چاہتا ہے؟ ایک شکست خوردہ ملک کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ مذاکرات کے بہانے افغانستان سے محفوظ راستے کی بھیک مانگنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں اپنا فوجی اڈہ رکھنے پر بھی اصرار کرے؟
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صرف چار برس میں امریکی اتحادی فورسز نے فضائی حملوں اور دیگر آپریشنز کے ذریعے3500 بچوں کو شہید کر دیا ہے۔ یادش بخیر تقریباً3 ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑی رعونت کے ساتھ طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پھر ٹرمپ کو اپنے اس فیصلے پر یوٹرن لیتے ہوئے امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کو اسلام  آباد بھیجنا پڑا۔قصرکے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان تقریباً ایک سال تک مذاکرات کے دور ہوتے رہے لیکن پھر امریکی صدر نے یکلخت طالبان سے مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب ایک دفعہ پھر امریکی بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے طالبان کو ایک دفعہ پھر مذاکرا ت کی میز پر لانے پر مجبور ہوئے، طالبان نے ہر بار مذاکرات کی میز پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف میدانوں اور برفیلے پہاڑوں کی جنگ ہی نہیں بلکہ مذاکرات کی جنگ بھی جیتنا جانتے ہیں لیکن وہ کسی سے مرعوب ہوکر یا خوفزدہ ہوکر نہ تو افغانستان میں  امریکی اڈے کو قائم رکھنے کی اجازت دیں گے اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بغیر جنگ بندی کریں گے۔
بوریہ نشین طالبان کے مدمقابل عالمی طاقتوں کے کھلاڑی مذاکرات کی آڑ میں اگر کوئی کھیل کھیلنے کی کوشش کریں گے  تو مجھے یقین ہے کہ انہیں پہلے کی طرح ہی رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (ان شاء اللہ)

تازہ ترین خبریں