09:43 am
خدا خیر کرے!

خدا خیر کرے!

09:43 am

منگول افواج نے پچھلے تیرہ دِنوں سے بغداد کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ جب مزاحمت کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں تو دس فروری  1258 ء کو فصیل کے دروازے کھل گئے۔ 37 ویں عباسی خلیفہ معتصم باللہ اپنے وزرا ء اور امرا ء کے ہمراہ مرکزی دروازے سے برآمد ہوئے اور ہلاکو خان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ہلاکو نے وہی کیا جو اس کے دادا چنگیز خان پچھلی نصف صدی سے کرتے چلے آئے تھے۔ اس نے خلیفہ کے علاوہ تمام اشرافیہ کو وہیں تلوار کے گھاٹ اتار دیا اور منگول دستے ام البلاد بغداد میں داخل ہو گئے۔وہ شہر میں بھوکے گدھوں کی طرح پھِر گئے، اس طرح جیسے غضبناک بھیڑیے بھیڑوں پر ہِلہ بول دیتے ہیں۔ بستر اور تکیے چاقوئوں سے پھاڑ دیے گئے۔ حرم کی عورتیں گلیوں میں گھسیٹی گئیں اور ان میں سے ہر ایک تاتاریوں کا کھلونا بن کر رہ گئی۔دریائے دجلہ کے دونوں کناروں پر آباد بغداد، الف لیلہ کی شہرزاد کا شہر، خلیفہ ہارون الرشید اور مامون کے قائم کردہ دارالترجمہ کا شہر تھا۔ یہ وہ شہر تھا جہاں مترجموں کو کتابیں تول کر سونا بطور معاوضہ دیا جاتا تھا۔ یہ دلکشا مسجدوں، وسیع کتب خانوں، عالیشان محلات، سرسبز باغات، لبالب بازاروں، علم افروز مدرسوں اور پرتعیش حماموں کا شہر تھا۔اس بات کا درست تخمینہ لگانا مشکل ہے کہ کتنے لوگ اس قتلِ عام کا شکار ہوئے۔ مورخین کا اندازہ ہے کہ دو لاکھ سے لے کر دس لاکھ لوگ تلوار، تیر یا بھالے کے گھاٹ اتار دیے گئے۔تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ بغداد کی گلیاں لاشوں سے اٹی پڑی تھیں۔ چند دن کے اندر اندر ان سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے ہلاکو خان کو شہر سے باہر خیمہ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔اسی دوران جب عظیم الشان شاہی محل کو آگ لگائی گئی تو اس میں استعمال ہونے والے آبنوس اور صندل کی قیمتی لکڑی کی خوشبو آس پاس کے علاقے کی فضائوں میں پھیلی بدبو میں مدغم ہو گئی ہو گی۔
 
کچھ اسی طرح کا ادغام دجلہ میں بھی دیکھنے میں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس اساطیری دریا کا مٹیالا پانی پہلے چند دن سرخ بہتا رہا اور پھر سیاہ پڑ گیا۔ سرخی کی وجہ وہ خون تھا جو گلیوں سے بہہ بہہ کر دریا میں شامل ہوتا رہا اور سیاہی اس وجہ سے کہ شہر کے سینکڑوں کتب خانوں میں محفوظ نادر نسخے دریا میں پھینک دیے گئے تھے اور ان کی سیاہی نے گھل گھل کر دریا کی سرخی کو ماند کر دیا۔
ہلاکو خان نے 29 جنوری1257ء کو بغداد کے محاصرے کا آغاز کیا تھا۔ حملے سے پہلے اس نے خلیفہ معتصم کو لکھا: لوہے کے سوئے کو مکہ مارنے کی کوشش نہ کرو۔ سورج کو بجھی ہوئی موم بتی سمجھنے کی غلطی نہ کرو۔ بغداد کی دیواریں فوراً گرا دو۔ اس کی خندقیں پاٹ دو، حکومت چھوڑ دو اور ہمارے پاس آ جائو۔ اگر ہم نے بغداد پر چڑھائی کی تو تمھیں گہری ترین پاتال میں پناہ ملے گی نہ بلند ترین آسمان میں۔37 ویں عباسی خلیفہ معتصم باللہ کی وہ شان و شوکت تو نہیں تھی جو ان کے عظیم الشان اجداد کے حصے میں آئی تھی، لیکن پھر بھی مسلم دنیا کے بیشتر حصے پر ان کا سکہ چلتا تھا اور خلیفہ کو زعم تھا کہ اس پر حملے کی خبر سن کر مراکش سے لے کر ایران تک کے سبھی مسلمان ان کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں گے۔
چنانچہ خلیفہ نے ہلاکو کو جواب میں لکھا: 'نوجوان، دس دن کی خوش قسمتی سے تم خود کو کائنات کا مالک سمجھنے لگے ہو۔ جان لو کہ مشرق تا مغرب خدا کے ماننے والے اہلِ ایمان میری رعایا ہیں۔ سلامتی سے لوٹ جائو۔ہلاکو خان کو اپنے منگول سپاہیوں کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد تھا۔ وہ پچھلے چار عشروں کے دوران اپنے آبائی وطن منگولیا سے نکل کر چار ہزار میل دور تک آ پہنچے تھے اور اس دوران معلوم دنیا کے بڑے حصے کو اپنا مطیع بنا چکے تھے۔بغداد پر حملے کی تیاریوں کے دوران نہ صرف ہلاکو خان کے بھائی منگوخان نے تازہ دم دستے بھجوائے تھے بلکہ آرمینیا اور جارجیا سے خاصی تعداد میں مسیحی فوجی بھی آن ملے تھے جو مسلمانوں سے صلیبی جنگوں میں یورپ کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے بیتاب تھے۔یہی نہیں، منگول فوج تکنیکی لحاظ سے بھی کہیں زیادہ برتر اور جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ ور تھی۔ منگول فوج میں چینی انجینئروں کا یونٹ تھا جو منجنیقوں کی تیاری اور باردو کے استعمال میں مہارت رکھتا تھا۔ بغداد کے شہری آتش گیر مادے نفتا سے واقف تھے، جسے تیروں سے باندھ کر پھینکا جاتا تھا، لیکن بارود سے ان کا کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔اس زمانے کا بارود آہستگی سے جلتا تھا، منگولوں نے اس میں یہ جدت پیدا کی کہ اسے لوہے یا پکائی گئی مٹی کی ٹیوبوں میں رکھ دیتے تھے جس سے وہ دھماکے سے پھٹ جاتا تھا۔ اس کے علاوہ منگولوں نے دھویں کے بم بنانے میں بھی مہارت حاصل کر لی تھی۔ان کی منجنیقوں نے شہر پر آتشی بارش برسانا شروع کر دی۔ یہی نہیں، منگولوں نے فصیل کے نیچے باردو لگا کر اسے بھی جگہ جگہ سے توڑنا شروع کر دیا۔بغداد کے باسیوں نے یہ آفت اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ابھی محاصرے کو ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ خلیفہ نے ہلاکو خان کو بھاری تاوان ادا کرنے اور اپنی سلطنت میں جمعے کے خطبے میں اس کا نام پڑھنے کی شرط پر صلح کی پیشکش کی، لیکن ہلاکو کو فتح سامنے نظر آ رہی تھی، اس نے یہ پیشکش فوراً ہی ٹھکرا دی۔
آخر دس فروری کا دن آیا جب خلیفہ نے شہر کے دروازے منگولوں کے لیے کھول دیے۔منگول مذہب میں کسی بادشاہ کا زمین پر خون بہانا بدشگونی سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ہلاکو شروع میں خلیفہ کو یہ باور کرواتا رہا جیسے وہ بغداد میں اس کا مہمان بن کر آیا ہے۔خلیفہ کی ہلاکت کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں تاہم زیادہ قرینِ قیاس ہلاکو کے وزیر نصیر الدین طوسی کا بیان ہے جو اس موقعے پر موجود تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ کو چند دن بھوکا رکھنے کے بعد ان کے سامنے ایک ڈھکا ہوا خوان لایا گیا۔ بھوکے خلیفہ نے بے تابی سے ڈھکن اٹھایا تو دیکھا کہ برتن ہیرے جواہرات سے بھرا ہوا ہے۔ ہلاکو نے کہا،’’کھائو‘‘۔
معتصم باللہ نے کہا: 'ہیرے کیسے کھائوں؟ ہلاکو نے جواب دیا: 'اگر تم ان ہیروں سے اپنے سپاہیوں کے لیے تلواریں اور تیر بنا لیتے تو میں دریا عبور نہ کر پاتا۔عباسی خلیفہ نے جواب دیا’’خدا کی یہی مرضی تھی‘‘ہلاکو نے کہا’’اچھا، تو اب میں جو تمہارے ساتھ کرنے جا رہا ہوں وہ بھی خدا کی مرضی ہے‘‘ اس نے خلیفہ کو نمدوں میں لپیٹ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑا دیے تاکہ زمین پر خون نہ بہے۔
آج سے ٹھیک 760 برس قبل بغداد پر چلنے والی اس ناگہانی منگول آندھی نے میسوپوٹیمیا کی ہزاروں سالہ تہذیب کے قدم ایسے اکھاڑے کہ وہ آج تک سنبھل نہیں پائی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد سے آج تک کوئی مسلم شہر بغداد کی شان و شوکت کے عشرِ عشیر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔بعض ماہرین نے لکھا ہے کہ مغربی تہذیب صرف اسی وجہ سے پھل پھول سکی کہ منگولوں نے اس وقت کی برتر مسلم تہذیب کو تباہ کر کے مغرب کے لیے راستہ ہموار کر دیا تھا۔یہ سب کیوں ہوا؟
میں اپنے قارئین کو بتلاتا چلوں کہ یہ اُس موسیقی کا خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑا جس موسیقی کے بارے میں کسی سادہ لوح اِنسان نے ایک دانا سے پوچھا تھا کہ موسیقی کی کون سی قسم حرام ہے تو دانا نے جواب دیا تھا وہ موسیقی حرام ہے جو امیروں کے مہنگے برتنوں میں کھانا کھاتے وقت چمچ چلانے سے پیدا ہوتی ہے جس موسیقی سے غریبوں اور بھوکوں کے کانوں میں پڑنے والی آواز اُنہیں آزردہ کر دیتی ہے۔ قارئین! آج وہی موسیقی امیر شہر کے گھر کی فیصلوں سے غربت کے جھونپڑوں میں سنائی دے رہی ہے۔ خدا خیر کرے۔ 

تازہ ترین خبریں