07:10 am
   ہندو  راشٹر  کے  نادان  حمایتی  

   ہندو  راشٹر  کے  نادان  حمایتی  

07:10 am

 انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ڈنکے
 انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہا ہے کہ بھارت ایک ہندو راشٹر ہے۔ ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں موہن بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان ہم نے یعنی ہندووں نے بنایا اور جب تک یہاں ایک بھی ہندو ہے یہ ایک ہندو راشٹر ہی رہے گا ۔ نظریہ پاکستان پر کامل یقین رکھنے والوں کے لیے موہن بھاگوت کا یہ بیان کوئی نیا انکشاف نہیں بلکہ اُن خدشات کی نا قابل تردید تصدیق ہے جن کی بنیاد پر ہمارے اکابرین نے قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا تھا ۔ دو قومی نظریئے کا تمسخر اڑانے والے دانش ور اس ننگی مذہبی جنونیت پر کیوں مہر بہ لب ہیں ؟ کیا فرماتے ہیں وہ علمائے کرام بیچ اس مسئلے کے جن کی اکابر پرستی کی روش انہیں آج بھی مودی سرکار کی حمایت پر اکساتی رہتی ہے؟ کیا سانحہ ہے کہ ارون دھتی رائے اور ریٹائرڈ جسٹس مرکنڈے کاٹجو جیسے انصاف پسند ہندو تو مودی سرکار کی ننگی جارحیت پر تنقید کرتے ہوئے کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی دہائی دے رہے ہیں جبکہ بھارتی مسلمانوں کی نمائندگی کے دعوے دار بعض اصحاب جبہ و دستار کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر مودی سرکار کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانیاں کروا رہے ہیں۔ 
باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری
اے کشتئہ سلطانی و ملائی و پیری
موہن بھاگوت نے ہندو راشٹر کا ذکر کیا ۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بی جے پی کے اہم راہنما نے چند روز قبل دھمکی نما ارادے کا اظہار یہ کہتے ہوئے کیا کہ بھارت سے ہر مسلمان کا صفایا کر کے ہی دم لیں گے! مسلمانوں اور عیسائیوں کو دوبارہ ہندو بنائیں گے۔ آسام میں لاکھوں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کی جاچکی ہے۔ جب مودی سرکار نے لاکھوں آسامی مسلمانوں کو بیک جنبش قلم بے وطن کیا تو بھارتی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنطیم کے سربراہ ہونے کے دعویدار چپ کا روزہ رکھ کے بیٹھے رہے۔ بیچارے کہہ بھی کیا سکتے ہیں اور کر بھی کیا سکتے ہیں ۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ مصلحت سے کام لیا جائے ! لیکن پھر بھی لوگ اکبر الدین اویسی جیسے جری بھارتی مسلمان سے مصلحتوں کے مارے اصحاب جبہ و دستار اور مشائخ عظام کا موازنہ کر ہی دیتے ہیں ۔ دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کی مخالفت میں اکابر شخصیات نے فکری و علمی دلائل کے انبار لگا دئیے۔ اختلاف رائے کے باوجود اُن اکابر کا احترام واجب ہے۔ کوئی عقل کا اندھا ہی اُن اکابر کی نیک نیتی پر شک کر سکتا ہے ۔ 
سطحی ذہنیت کے حامل افراد اور غیرسنجیدہ شعلہ بیاں حضرات گاہے اکابرین کے بارے غیر محتاط تبصرے اور جملہ بازی کرتے ہیں جو کہ ایک ناپسندیدہ روش ہے۔ بھارت میں تیزی سے پھیلتے شدت پسندی اور مسلم دشمنی کے عفریت کو نظرانداز کرنا ایک سنگین حماقت ہو گی گو کہ پاکستان مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم ہوا اور ہندوستان میں بسنے والے لگ بھگ اٹھارہ سے بیس کروڑ مسلمانوں کا مفاد و مستقبل بھارت سے ہی وابستہ ہے لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر چند سوالات پوچھنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ کیا بھارت میں مسلمان ایک اقلیت کے طور پر ہر گزرتے دن کے ساتھ غیر محفوظ نہیں ہوتے چلے جا رہے؟ کیا بھارت کے آئین درج سیکولرازم ہر گزرتے دن کے ساتھ غیرموثر نہیں ہوتا چلا گیا ؟ کیا بھارت کے مسلمان سے ہندو شدت پسندوں کی نفرت کا سبب قیام پاکستان اور مذہبِ اسلام نہیں ؟ کیا مقبوضہ کشمیر کے شکار گاہ میں شدت پسند ہندو طبقہ کشمیریوں سے پاکستان بننے کا بدلہ نہیں لے رہا ؟
 یاد رکھیے قیام پاکستان کی صورت بھارت ٹوٹا تھا ۔ بھارت ٹوٹنے کا زخم اُن شدت پسندوں کے دلوں میں آج بھی تازہ ہے جو اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا نظرئیے پر یقین رکھتے ہیں ۔ اولیاء کرام نے بھارتی معاشرے میں اپنے کردار اور دعوت سے اسلام کے جو بیج کاشت کئے تھے وہ آج تن آور شجر بن چکے ہیں۔ دیوبند ، بریلوی اور اہلحدیث مسالک سے وابستہ تمام مساجد، مدارس اور خانقاہیں ان بوریہ نشیں درویشوں کی بدولت قائم ہیں جن کی محبت بھری بے لوث کاوشوں سے برصغیر میں اسلام اور مسلمان ایک بھرپور قوت کی صورت موجود ہیں ۔ ماضی کے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کی بقا کے لیے سوچ بچار کا وقت آن پہنچا ہے۔ پاکستان کو محض مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ بھارت میں بسنے والے تمام مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے صدا بلند کرنی چاہئیے ۔ شدت پسند ہندو محض مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں ۔ 
عسکری ، سفارتی ، معاشی اور سیاسی محاذوں پر پاکستان کی مکمل بربادی کا سپنا دیکھنے والا بھارت کبھی پرامن انداز میں دو طرفہ مسائل حل کرنے پر راضی نہیں ہو گا ۔ بھارت کبھی بھی سیکولر جمہوریہ نہیں تھا یہ کل بھی ہندو راشٹر تھا ! یہ آج بھی ہندو راشٹر ہے اور یہ کل بھی ہندو راشٹر ہی رہے گا۔ کانگریسی نیتائوں میں چھپا سچ آج موہن بھاگوت جیسے شدت پسندوں کے قول و فعل سے سچ ثابت ہو رہا ہے۔ ہمارے اکابرین نے یہ بات بہت پہلے ہی بھانپ لی تھی کہ ہندو اکثریت پر مبنی معاشرہ اسلام اور مسلمانوں کا وجود کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ جناح ، اقبال سمیت دیگر اکابرین ملت کے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں ۔ دو قومی نظرئیے کی صداقت پر گواہی بھارت سے آرہی ہے۔ تہتر کے متفقہ آئین کے تحت ریاست ِ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے ۔ اسلامی جمہوریہ اقلیتوں کے حقوق کی محافظ و ضامن ہوتی ہے۔ بھارت کی سیکولر جمہوریہ کی طرح اقلیتوں کی قاتل نہیں ہوتی ۔ کشمیر کی آزادی سمیت بھارت کے مسلمانوں ، سکھوں ، عیسائیوں اور پسے ہوئے دلتوں کے حقوق کے لیے پاکستان کو آواز بلند کرنی چاہئیے ۔
 افسوس کہ پاکستان ابھی تک حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت نہیں بن پایا ۔ خطے میں تیزی سے ابھرتی ہندو راشٹر کی جارحانہ پیش قدمی روکنے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا استحکام کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ ہندوستان میں مصلحتوں کے مارے اصحابِ جبہ و دستار ماضی سے آزاد ہو کر آج کے زمینی حقائق کی روشنی میں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے شدت پسند مودی کی اندھا دھند حمایت کی روش ترک کر دیں ۔ حقیقت یہی ہے کہ سیاسی میدان میں کل جو اکابرینِ ملت تاریخ کی غلط جانب کھڑے تھے اُن کے جانشین اور صاحبزدگان آج تک وہیں کھڑے ہیں ۔ ویسے بھی ایک باعمل مسلمان شدت پسند مسلم دشمن ہندو راشٹر کا معاون و حامی کیسے ہو سکتا ہے؟ 

 


 



 

تازہ ترین خبریں