07:11 am
ہم اور ہمارا دین

ہم اور ہمارا دین

07:11 am

کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ اللہ رب العزت نے نبی آخرالزماں رحمۃ اللعالمین ﷺ کے ذریعے
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ اللہ رب العزت نے نبی آخرالزماں رحمۃ اللعالمین ﷺ کے ذریعے ہمیں دین و شریعت جیسی عظیم نعمت عطا کی تاکہ ہم اللہ کے دین کو قائم اور اس کی شریعت کو نافذ کریں تاکہ اس عادلانہ نظام کی برکات و ثمرات سے پوری نوع انسانی بہرہ مند ہوسکے۔کیا ہمیں اس ذمہ داری کی ادائیگی کی فکر ہے؟رب العزت کی دھرتی پر آج طاغوتی اور ابلیسی نظام رائج ہے۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عطا کردہ نظام عدل اجتماعی کو قدموں تلے روندا جارہا ہے۔کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے وفاداری کا یہ تقاضا نہیں کہ ہم اس طاغوتی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کریں اور اسے جڑ سے اکھاڑکر اللہ کے دین کو قائم و غالب کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادیں۔
ہم مسلمان اللہ کے فضل و کرم سے صاحب ایمان ہیں۔ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ، اس کی کتاب پر اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ۔اللہ نے اپنی کتاب میں مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ ’’اے مسلمانو! تم ہی غالب اور سربلند رہوگے اگر تم صاحب ایمان و یقین ہوئے‘‘تو کیا وجہ ہے کہ ہم دنیا میں ذلیل و خوار ہیں اور ہماری کمزوری اور بے بسی کا یہ عالم ہے کہ آج ہم امریکہ کے غلام اور محکوم بن چکے ہیں؟کیا اس کا سبب یہ نہیں کہ آج ہم ایمان کی حقیقت سے ناآشنا اور اس کے عملی تقاضوں سے غافل ہیں یعنی اللہ کے دین کو قائم و غالب کرنے کی ذمہ داری سے گریزاں ہیں۔
ہم سب مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ اللہ کا یہ دین جسے نظام مصطفی ﷺ بھی کہا جاتا ہے ،دنیا کا اعلیٰ ترین نظام ہے جو سماجی ، معاشی اور سیاسی سطح پر کامل عدل و انصاف کا ضامن ہے۔اس نظام کی برکت سے عام خوشحالی آتی ہے، لوگوں کو ان کے تمام حقوق میسر آتے ہیں ، تعلیم،علاج اور انصاف کا حصول یقینی ہوجاتا ہے۔اس کی درخشاں مثال دور خلافت راشدہ ہے جو انسانی تاریخ کا سہانہ ترین دور تھا۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس بہترین دین کو غالب اور نظام خلافت کو قائم کرنے کی بجائے بدترین استحصالی اور طاغوتی نظام کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں؟کیا اس بہترین نظام کی برکات اور عدل و انصاف سے خود کو اور پوری دنیا کو محروم کرکے ہم اللہ کے غضب کو بھڑکانے کا موجب نہیں بن رہے؟ کیا یہ اللہ کی عظیم نعمت کی ناقدری اور کفران نعمت نہیں ہے جس کی سزا آج ہم بھگت رہے ہیں؟
سورئہ مائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ ہدایت یعنی دین و شریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی تو ہیں جو کافر ہیں اور جو لوگ اللہ کی نازل کردہ ہدایت یعنی دین و شریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی تو ہیں جو ظالم ہیں اور جو لوگ اللہ کی نازل کردہ ہدایت یعنی دین وشریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی تو ہیں جو فاسق ہیں۔‘‘غو ر طلب بات یہ ہے کہ کیاہمارے ملک میں تمام ریاستی امور اللہ کے دین کے مطابق طے پاتے ہیں اور کیاہماری عدالتوں میں سب فیصلے آج اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق ہورہے ہیں؟اگر نہیں اور یقیناً  نہیں تو پھر کیا ہم مسلمانان پاکستان اللہ کی نگاہ میں ایک اعتبار سے کافر، ظالم اور فاسق نہیں ٹھہرتے ؟ ایسی حالت میں اللہ کی رحمت کے مستحق کیونکر بن سکتے ہیں؟
سیدھی سی بات یہ ہے کہ دنیا میں ہماری ذلت ورسوائی اور زوال و پستی کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے دین کو نظر انداز کرکے باطل نظام کی بالادستی کو ذہنی و عملی طور پر قبول کرلیا ہے۔ذاتی زندگی میں بھی ہم اللہ کے دین اور اس کے رسول ﷺ کی سنت سے کوسوں دور ہیں۔ہم مغربی تہذیب اور ہندوانہ ثقافت کو خوش آمدید کہنے میں پیش پیش ہیں۔لیکن اسوئہ رسول ﷺ کو اپنانے، احکام شریعت پر عمل کرنے اور اللہ کے دین کو قائم و نافذ کرنے کے لئے تو ہرگز آمادہ اور تیار نہیں۔ ہمارے انہی قومی جرائم کی سزا آج ہم پر مسلط ہے جس کے مظاہر قتل و غارت گری ، بدامنی، ہوشربا مہنگائی ، ظلم و جبر، بے انصافی، سیاسی حقوق سے محرومی ، بدترین ریاستی جبر ،افلاس ، بیروزگاری ، افراط زر، کرپشن ، شعائر اسلامی کی بے حرمتی ،دینی اخلاق و اقدار کی پامالی ،ملکی آزادی اور خودمختاری سے محرومی ، کشمیر پالیسی اور خارجہ پالیسی کی ناکامی ،ملکی امور میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
ان تمام مسائل کا حل ، علاج ‘ اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی کے مصداق ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ہم بحیثیت امتی اپنی ذمہ داری اداکرنے کے لئے خو د بھی پورے کے پورے دین میں داخل ہوجائیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عطاکردہ اس دین حق کو ملک میں قائم و غالب کرنے کے لئے اجتماعی طور پر سرگرم عمل ہوجائیں یعنی اللہ کی حاکمیت کو قائم کرنے اور تمام ریاستی اور حکومتی معاملات کو قرآن وسنت کے تابع کرنے ، بالفاظ دیگر خلافت راشدہ کے نظام کو قائم کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادیں۔اگر ایسا ہوگیا تو اللہ کی رحمت ونصرت ہمارے شامل حال ہوجائے گی اور یہ مملکت خداداد پاکستان جو گزشتہ اکہتر سال سے مسلسل بحرانی کیفیت سے دوچار ہے اور اب امریکہ جیسی طاغوتی قوت کی غلامی کے شکنجے میں ہے ،دین حق کی برکت سے حقیقی آزادی و خوشحالی کی دولت سے مالامال اور امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاے گااور امت کی سربلندی کا وعدئہ الٰہی ہمارے حق میں پورا ہوکر رہے گا۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔



 

تازہ ترین خبریں