07:15 am
جعلی جمہوری پروانے اور مولانا کا آزادی مارچ

جعلی جمہوری پروانے اور مولانا کا آزادی مارچ

07:15 am

شمع جمہوریت کے نام نہاد پروانے اور مذہبی دیوانے ایک ایک کرکے بے نقاب ہو رہے ہیں
شمع جمہوریت کے نام نہاد پروانے اور مذہبی دیوانے ایک ایک کرکے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ ثابت ہو رہا ہے کہ اصول اور نظریات بس اسی وقت مقدم ومحترم ہوتے ہیں جب وہ آپ کی ضروریات کی تکمیل میں مددگار ہوں اور جہاں آپ کے مفادات کا تقاضا مختلف ہو وہاں ابن الوقتی کی پالیسی ہی چلتی ہے۔ یہ نام نہاد جمہوری شمع کے پروانے آج سے پانچ برس قبل لشکرکشی کے ذریعے حکومتیں گرانے کیخلاف کیسی تبلیغ کیا کرتے تھے مگر آج مولانا فضل الرحمان حکومت گرانے کیلئے آزادی مارچ کا اعلان کرتے ہیں تو کیا مسلم لیگ ن اور کیا پیپلز پارٹی دونوں کی قیادت اس مارچ کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بیان داغ رہی ہے۔ اگر تحریک انصاف کا لانگ مارچ 2014 میں غلط تھا تو جمعیت علما اسلام کا آزادی مارچ آج 2019 میں درست کیسے ہوگیا؟ ایک جیسی صورتحال میں اور ایک جیسے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے دو اصول تو ہو نہیں سکتے جوکل غلط تھا وہ آج بھی غلط ہوگا کہ یہی اصول کی بات ہے اور اصول پرستی اسی کا نام ہے۔ یہ لوگ کل پارلیمنٹ میں لانگ مارچ کرنے والوں کو برابھلا کہتے تھے آج وہی کام یہ خود کر رہے ہیں تو اس میں انہیں کوئی برائی اور قباحت دکھائی نہیں دے رہی۔ پس اس طرح  کی سیاست کا نام پاور پالیٹکس ہے جس میں دشمن کو گرانے کیلئے جو حربہ بھی بروئے کار لانا پڑے وہ آزمایا جاتا ہے۔
 مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے 90 کی دہائی میں ایک دوسرے کیساتھ یہی کھیل کھیلا بعد ازاں میثاقِ جمہوریت میں طے کیا کہ پاور پالیٹکس کا راستہ اختیار کر کے حکومتوں کو نہیں گرایا جائے گا۔ دونوں نے گزشتہ دس سال اس کام سے اجتناب کیا مگر تحریک انصاف کی حکومت کو پاور پالیٹکس کے ذریعے گرانے کی کوششوں کا یہ دونوں جماعتیں اب حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہیں یعنی میثاق جمہوریت پر لگنے والا الزام درست ثابت ہو رہا ہے کہ یہ دستاویز درحقیقت دونوں جماعتوں کے مابین مک مکا پر مبنی دستاویز ہے۔ اصول تو وہ ہوتے ہیں جن کا اطلاق یونیورسل ہوتا ہے اگر یہ میثاق فقط دو جماعتوں کے درمیان تھا تو اس کا نام میثاق مابین مسلم لیگ ن وپیپلز پارٹی رکھا جانا چاہئے تھا مگر اس کا نام میثاق جمہوریت رکھا گیا اور قوم کو تاثر دیا گیا کہ دونوں جماعتوں نے ماضی کی غلطی سے سبق سیکھ کر وطن عزیز میں جمہوریت کی سربلندی اور جمہوری روایات کی مضبوطی کیلئے رہنما اصول طے کئے ہیں چنانچہ اب نئے عہد کا آغاز ہوگا۔ 
آج جمہوریت کیساتھ ان دونوں جماعتوں کی کمٹمنٹ عوام کے سامنے عیاں ہوگئی ہے اور ان کے چہروں سے نقاب اتر گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے، مولانا اس طرح جمہوریت کے چمپئن بننے کی کوشش نہیں کرتے جس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کرتی ہے۔ مولانا جمہوریت سے زیادہ مذہبی کارڈ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا انہیں خاطرخواہ فائدہ ہوتا رہا ہے۔ مذہبی سیاست اور کتاب کے انتخابی نشان کی بدولت متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے انہیں صوبائی حکومت بھی ملی تھی، مولانا فضل الرحمان اور ان کے رفقا کار کی سوچ یہ ہے کہ سیاست اقتدار میں آنے کیلئے کی جاتی ہے چنانچہ اس سوچ کے تحت مولانا اور ان کے ساتھی تقریباً ہر حکومت میں شامل رہے۔ مولانا کو اسلام آباد آنے سے روکنے کا حکومت کے پاس ایک ہی طریقہ ہے اور یہ دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت مولانا اور ان کے رفقا کے جارحانہ بیانات کو بنیاد بنا کر آزادی مارچ سے ایک دو روز قبل مولانا فضل الرحمان اور ان کے قریبی ساتھیوں کو حفاظتی حراست میں لینے کا طریقہ اختیار کرے گی۔ یوں مولانا کو فیس سیونگ بھی مل جائے گی اور آزادی مارچ کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی۔
 ویسے مولانا نے 27اکتوبر کی تاریخ رکھ کر تحریک کشمیر سے بڑی زیادتی کی ہے۔ 27اکتوبر کو کشمیری یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور اس بار اس دن کی اہمیت اہل کشمیر اور اہلیان پاکستان کیلئے اور بھی زیادہ ہے۔ الحاق کی دستاویز پر جس دن دستخط ہوئے تھے اس دن خصوصی طور پر آرٹیکل370 کے خاتمے کی بابت کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کیلئے خصوصی پروگرام تشکیل دینے کی ضرورت ہے مگر مولانا کا آزادی مارچ بھارتی حکومت کو دبائو سے نکالنے میں خدانخواستہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کی قیادت نے مارچ کیلئے اس تاریخ کا انتخاب کیوں کیا ہے یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے کہ برسہابرس کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے والے مولانا فضل الرحمان کو کشمیر سے کمٹمنٹ کسی دوسرے شخص کی نسبت زیادہ ہونی چاہئے تھی، یہ باتیں مگر مولانا کے اب پیشِ نظر نہیں ہیں۔ ان کی نظر پاکستان اور اسلام سے زیادہ اسلام آباد پر ہے مگر یہ مشق لاحاصل ہے۔
 حکومت لشکرکشی سے ماضی میں گری ہیں اور نہ اب گریں گی ہوگا یہ کہ اس مشق کے نتیجے میں مولانا اپنا بھرم بھی کھو دیں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے بارے میں عام تاثر ہے کہ ان میں عوام کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ مولانا مدارس کے طلبہ کے بل بوتے پر البتہ بڑے اجتماعات کا انعقاد کرتے آئے ہیں لیکن حکومت مدارس میں جو اصلاحات لارہی ہے اس کے نتیجے میں مدارس اور حکومت کے مابین پہلی مرتبہ قربت کی فضا بن رہی ہے۔ دینی مدارس کے منتظمین اور طلبہ میں یہ بات راسخ ہو رہی ہے کہ یہ پہلی حکومت ہے جو ان کی تکالیف کا درد رکھتی ہے چنانچہ غالب امکان ہے کہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ پر بضد رہے تو انہیں مدارس کی جانب سے وہ حمایت نہیں ملے گی جس کی وہ توقع کر رہے ہیں۔ لہذا اگر یہ مارچ ہوا بھی تو یہ ایک ناکام مارچ ہوگا جو مولانا کے سیاسی مستقبل پر بڑا سوالیہ نشان چھوڑ جائے گا۔

 

تازہ ترین خبریں