07:19 am
  ایک اور’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘

  ایک اور’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘

07:19 am

 میرپور، پھر زلزلہ، ایک شخص جاں بحقO آج 2005ء کے زلزلہ کی یاد منائی جا رہی ہے، 86 ہزار جاں بحق،
٭وزیراعظم عمران خان چین روانہO پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشقیںOآزادی مارچ روکنے پر ملک بھر میں جنگ ہو گی: فضل الرحمنO میرپور، پھر زلزلہ، ایک شخص جاں بحقO آج 2005ء کے زلزلہ کی یاد منائی جا رہی ہے، 86 ہزار جاں بحق، 69 ہزار زخمی، زبردست تباہیO لاہور: کرکٹ میچ، صبح سے ہی پورے شہر میں ٹریفک جام!O سعودی طیارے کی واپسی، حکومت کی وضاحت۔
٭میرپور میں ایک اور زلزلہ آ گیا، ایک اور شہری جاں بحق، کچھ زخمی۔ ایک بڑے زلزلے کے بعد بار بار جھٹکے لگ رہے ہیں۔ خدا خیر کرے! آج پوری قوم ویسے بھی 2005ء کے خوفناک زلزلے کی یاد منا رہی ہے۔ 8 اکتوبر! ساڑھے آٹھ بجے صبح ہولناک زلزلہ! 86 ہزار افراد جاں بحق، 69 ہزار زخمی ہو گئے، مظفر آباد اور دوسرے شہر مکمل تباہ ہو گئے، 1600 تعلیمی ادارے ملبے کے ڈھیر بن گئے۔ آج بھی سینکڑوں تعلیمی ادارے اسی حالت میں ہیں۔ بہت سے اداروں کو دیواریںاورچھت بھی نہ مل سکی۔ بہت سے بچے آج بھی خیموں میں پڑھتے ہیں۔ اس تباہ کن زلزلہ کے متاثرین کی بحالی کے لئے فوری طور پر اربوں کی امداد آئی۔ اس کا زیادہ حصہ آزاد کشمیر کی سرحد عبور نہ کر سکا، نجی تجوریاں بھر گئیں، اور جو امداد سرحد پار کر گئی اس سے آزاد کشمیر کی نجی تجوریاں لبریز ہو گئیں۔ لٹے پٹے عوام روتے پیٹتے رہ گئے، 14 برسوں کے بعد آج بھی اپنی بحالی کے منتظر ہیں۔ اوپر سے مزید زلزلے شروع ہو گئے ہیں۔ تقریباً پانچ سال پہلے باغ شہر سے ایک بچی کا فون آیا کہ انکل ہمارے سکول کی چھت بنوا دیں، کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی لگتی ہے۔ میں کسی تقریب کے سلسلے میں راولا کوٹ گیا۔ وہاں بھی یہی عالم تھا۔ معلوم ہوا کہ 1600 سکول چھتوں اور دیواروں کے بغیر چل رہے ہیں۔ انہیں 10 برسوں سے دوبارہ چھت نصیب نہیں ہو سکی تھی۔ ڈاکٹر محمد صغیر صاحب کی کتاب کی تعارفی تقریب تھی۔ آزاد کشمیر کے صدر سردار محمد یعقوب خان تقریب کے صدر تھے۔ ہم دونوں اکٹھے بیٹھے تھے میں نے پوچھا کہ 1600 سکول دیواروں اور چھتوں کے بغیر کیوں چل رہے ہیں؟ کہنے لگے کہ چھتوں اور دیواروں کا کام شروع ہوا تھا مگر ٹھیکیدار بھاگ گئے! ان کی ادائیگیوں کے لئے فنڈزمیسر نہیںتھے۔ میں نے پوچھا کہ اربوں کی امداد کہاں گئی؟ اس پر سردار صاحب کو یاد آ گیا کہ انہوں نے جلد واپس جانا ہے! اور اب! 14 برسوں کے بعد بھی مجھے بتایا جا رہا ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی کس مپرسی کے عالم میں امداد کے منتظر ہیں! ہاں ایک بار پھر یاد آ گیا۔ ترکی کے وزیراعظم (اب صدر) اردوان کی بیگم نے زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے کروڑوں کی مالیت کا ذاتی جڑائوہار بھیج دیا۔ یہ ہار وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو پسند آ گیا اور اسے ملتان میں اپنے گھر لے گئے! کسی طرح میڈیا میںبات آ گئی تو ہار واپس کرنا پڑا! قومی سرمائے کو ذاتی جاگیر سمجھنے والے قوم کے ’’درد مند، خیرخواہ‘‘ لوگ! میں کچھ کہہ نہیں سکتا، حالیہ زلزلہ کے متاثرین کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے؟
٭وزیراعظم عمران خان نے کنٹرول لائن عبور کرنے کے عمل کو روک دیا ہے۔ وزیراعظم نے درست کہا ہے کہ اس سے بھارت کو فائدہ پہنچے گا وہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف مہم چلائے گا۔ اس طرح سرحد عبور کرنے کا کوئی مثبت فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ معاملہ یہ ہے کہ بھارتی فوج پہلے ہی کنٹرول لائن پر گولہ باری کر رہی ہے، سرحد عبور کرنے کی کسی کوشش پر پوری کنٹرول لائن بھارتی فائرنگ کی زد میں آ جائے گی۔ بھارت نے پوری کنٹرول لائن پر بہت سی چھائونیاں بنا رکھی ہیں، پورے مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ مسلح فوج گشت کر رہی ہے۔ کرفیو کو 64 دن ہو گئے ہیں۔ سڑکوں پر مورچے بنے ہوئے ہیں، ایسے میںسرحد کو توڑنا دانش مندی نہیں تاہم کنٹرول لائن کی طرف بڑھنے والے ہزاروں افراد کے بھرپور ولولوں اور پرخلوص جذبوں کی ستائش بھی ضروری ہے۔ شدید جذبوں کے سامنے سیاسی مصلحتیں آڑے نہیں آتیں، پھر بھی بہت تدبر اور دانش مندی سے کام لینا پڑتا ہے!
٭اب تک پراسرار معمہ حل نہ ہو سکا کہ وزیراعظم عمران خان کو امریکہ سے واپس لانے والے سعودی ولی عہد کے طیارے کو سمندر کے اوپر سے نیویارک واپس کیوں لے جایا گیا تھا؟ افواہیں پھیل گئیں کہ سعودی ولی عہد نے کسی بات پر ناراض ہو کر، بلکہ یہ کہ بھارت کے مطالبے پر، وزیراعظم پاکستان سے طیارہ واپس لینے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ایک خبر یہ بھی تھی کہ امریکی صدر ٹرمپ، عمران خان سے کوئی اہم ضروری خفیہ بات کرنا چاہتے تھے انہوں نے واپس بلا لیا۔ ایک تیسری بات کہ وزیراعظم عمران خان سعودی طیارہ واپس کرنے کے بعد پاکستان واپسی تک پورا ایک دن کیا کرتے رہے؟ واپسی کا یہ جوازناقابل تسلیم ٹھہرا کہ طیارے کا برقی نظام فیل ہو گیا تھا! ایسی حالت میں ڈھائی گھنٹے واپس کیسے پرواز کرتا رہا؟ (معذرت! ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا ہے کہ ایک سردار صاحب اپنی گاڑی پر کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں گاڑی رک گئی۔ ڈرائیور نے بتایا کہ تیل ختم ہو گیا ہے گاڑی آگے نہیں جا سکتی۔ سردار بولا کہ تو پھر واپس لے چلو!) مختلف قیاس آرائیوں کے بعد کئی روز کے بعد حکومت نے سعودی ولی عہد کی ناراضی کی تردید اور وضاحت کی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں بے مثال خوش گوار تعلقات قائم ہیں۔ یہ وضاحت پھر نہیں کی کہ طیارہ واپس کیوں گیا تھا؟ اور وزیراعظم کسی مقررہ شیڈول کے بغیر نیویارک میں ایک دن کیا کرتے رہے؟ اصل سوال اسی طرح موجود ہے۔
٭مولانا فضل الرحمان اب کھلی دھمکیوں پر آ گئے ہیں کہ 27 اکتوبر کو ملک بھر سے ان کے کارکنوں کا سیلاب آئے گا جو عمران خان کی حکومت کو تنکے کی طرح بہا کر لے جائے گا۔ مولانا کا بیانیہ یہاں رک جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ پھر کیا ہو گا؟ نئے انتخابات بھی ہو جائیںتو صورت حال میں کیا تبدیلی آئے گی؟ ان کے کیمپ سے جنگی قسم کے اعلانات آ جا رہے ہیں، ’’گاجر مولی کی طرح کاٹ دیں گے…ملک بھر کالاک ڈائون (گھیرائو) کر دیا جائے گا سارا نظام جام ہو جائے گا (بھارت کے لئے خوش خبری) یہ بات بیان نہیں کی جاتی کہ شدید خونریزی اور انتشار کے بعد ملک میں کیا نئے حالات سامنے آئیں گے؟ یہی حکومت پھر آ گئی تو کیا ہو گا؟ مولانا کی حکومت قائم نہ ہوئی تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ ویسے ماضی کے کچھ نتائج کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ 1958ء میں مشرقی پاکستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر (غالباً شمس الحق نام تھا) کو کرسی مار کر مار دیا گیا۔ کانگریس کے صرف بارہ ارکان نے تین دنوں میں پانچ حکومتیں بنوائیں اور گرائیں (بھارت کا اشارا)۔ جنرل ایوب خان  نے موقع غنیمت جانا، ملک میں مارشل لا لگایا، حکومت، جمہوریت، اسمبلیاں سب دریا برد اور ریڈیو پر آواز گونجی ’’میرے ’’عزیز ہم وطنو!‘‘۔ ایوب خان کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد کی تحریک چلی۔ گیارہ سال کے بعد ایوب خان آئوٹ، یحییٰ خاں اِن، وہی آواز، میرے ہم وطنو!ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔ یحییٰ خان اپنے مارشل لا سمیت قید اور گھر میں نظر بند ہو گیا۔ تاریخ میں پہلی ایک سول شہری، ذوالفقار علی بھٹو نے مارشل لا لگایا، چھ سال کے دوران جمہوریت اور اپوزیشن کی کمر توڑ دی (بلدیات کے الیکشن نہ ہونے دیئے) پھر جنرل ضیاء الحق کی آواز گونجی، ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ ضیاء الحق نذر آتش ہوئے، چند سال لنگڑی لولی جمہوریت ڈولتی رہی۔ سپریم کورٹ پر حملے، چیف جسٹس اور جرنیلوں کے ساتھ بدسلوکی اور پھر جنرل پرویز مشرف کی آواز ’’عزیز ہم وطنو!‘‘ اب پھر وہی سماں ہے! سرحد پر بھارت کی گولہ باری ہو رہی ہے۔ سرحدی علاقوں میں روزانہ شہری شہید ہو رہے ہیں، بھارتی کمانڈر پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جنگ کے کھلے چلینج دیئے جا رہے ہیں۔ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، ’’دو نشستیں ہارنے کے انتقام میں ملک کے اندر دارالحکومت اور پھر پورے ملک کا نظام ختم کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ واضح طور پر ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کی آواز کی توقع پرلاکھوں کے حملے کی ’بشارتیں‘ دی جا رہی ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں