08:03 am
غلامی کشمیر اور تار یخ کا بی جے پی استعمال

غلامی کشمیر اور تار یخ کا بی جے پی استعمال

08:03 am

ممبئی (انڈیا) مین مقیم مسلمان دانشور‘ اے جی نورانی‘ ایک انگریزی  روزنامے کے لئے ہر ہفتہ کالم لکھتے ہیں۔ حال ہی میں ان کا بہت عمدہ کالم ’’سیاسیات اور تاریخ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے اس کالم کی روشنی میں آئیے آپ کو تاریخ کی اہمیت اور اس کے منفی و مثبت اثرات کی جھلک میں شریک کروں۔
 
کشمیریوں کی نفسیات کیا ہے؟ کہ وہ ہر بیرونی آقا سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ بیرونی آقا برصغیر کو سیکولر ازم اور لبرل ازم کی نعمت دیکر ملت واحدہ جیسی عظیم ریاست ہی کیوں نہ بناتا ہو‘ مثلاً جلال الدین اکبر‘ مغل اعظم اکبر پہلا حکمران تھا جس نے اہل  کشمیر سے ان کی آزادی چھینی تھی‘ آخری کشمیری آزاد منشی حکمران یوسف شاہ چاک (1574-1586)کو اکبر مغل اعظم نے معزول کیا‘ جون 1986ء میں جموں وکشمیری مسلمانوں کی آزادی کو سلب کرتے ہوئے اقلیتی ہندو پنڈتوں کو اقتدار مسند پر مدبراجمان کیا۔ طاہر محی الدین ایڈیٹر چٹان نے بھی اے۔ جی نورانی کو بتایا کہ اہل کشمیر  ہر بیرونی حکمرانی سے شدید نفرت جو کرتے ہیں اس  میں پہلا حکمران نام اکبر مغل اعظم کا آتا ہے مگر جلال الدین اکبر کیا خود بخود کشمیر پر مسلط ہوگیا تھا؟ میرے اس سوال کا جواب کالم میں موجود ہے کہ یوسف شاہ چاک کی حکومت بہت کمزور ہوگئی تھی اور کشمیریوں میں اس کی حکومت کی ناپسندیدگی در آئی تھی‘ لہٰذا ناراض کشمیریوں نے یوسف شاہ چاک سے نجات کے لئے جلال الدین اکبر کو دعوت دی کہ وہ کشمیر میں آئے اور یوسف شاہ اقتدار کا خاتمہ کرے‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا معزول یوسف شاہ کو وفات کے بعد قبر بھی کشمیر میں نصیب نہ ہوئی بلکہ وہ بہار مین دفن ہوا۔ اکبر مغل اعظم کے جابرانہ مگر ہندو پنڈتوں پر استوار کئے ہوئے کشمیری اقتدار کا ظلم افغان و سکھ اقتدار میں بھی بدستور موجود رہا اور ڈوگرہ خاندان  نے اس ظلم و جبر میں نئی داستان رقم۔ 
اہل کشمیر 1925ء سے 1930ء کے درمیان بھی ڈوگرہ راج سے نجات کی جدوجہد کرتے رہے تھے دلچسپ بات لکھتا جائوں کہ حکیم نورالدین قادیانی بہت ماہر حکیم تھے۔ ڈوگرہ  حکمران کے ذاتی معالج اور دوست۔ اس ذاتی تعلق نے اہل قادیان کو موقع‘ سہولت اور جرات دی کہ وہ ڈوگرہ کشمیر کی حکمرانی کو قادیانی اقتدار میں تبدیل کریں۔ مرزا بشیر الدین (مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور نام نہاد  خلیفہ) کی زیر قیادت کشمیر کمیٹی بنائی گئی جس میں علامہ محمد اقبال کو بھی کشمیری دانشور کے طور پر ممبر بنایا گیا۔ مگر جونہی ان پر مرزا بشیر الدین کی نجی زندگی سے وابستہ اخلاقی رزا فاش ہوئے اور یہ بھی کہ کشمیر کمیٹی اصل میں کشمیر میں ڈوگرہ راج کی جگہ انگریزوں کے تعاون سے قادیانی اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے تو علامہ اقبال نہ صرف اس کشمیر کمیٹی سے مستعفی ہوئے بلکہ انہوں نے قادیانی ریاست منصوبہ کشمیر کا راز فاش کرکے مرزا بشیر الدین کے خلاف محاذ کھولا بلکہ قادیانیت کے غیر مسلم ہونے کی انتہا تک چلے گئے۔ یوں علامہ اقبال کے باغی ہونے کے سبب مرزا بشیر الدین نے کشمیر کمیٹی کو مجبوراً ختم کیا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اکبر خود بخود تو کشمیر میں نہیں چلا آیا تھا۔ اسے کچھ ہوس  اقتدار میں مبتلا ان کشمیریوں نے دعوت دی جن کا یوسف شاہ اقتدار میں حصہ  نہیں تھا۔ ذرا اسی عمل کو شیخ عبداللہ کے اس عمل سے بھی ملا کر دیکھیں کہ جب شیخ عبداللہ نے محض ذاتی ہوس اقتدار کے لئے پاکستان  کی بجائے خود کو نہرو کی جھولی میں ڈال دیا اور یوں  جب شیخ عبداللہ نے امریکہ سے کھسر پھسر کرتے ہوئے ’’آزادکشمیر‘‘ کا منصوبہ بنایا تو نہرو نے فوراً شیخ عبداللہ کو جیل میں ڈال دیا ۔وہ گیارہ سال جیل میں رہے تھے اگر مغل اعظم  کو یوسف شاہ اقتدار سے ناراض ہونے والے نہ بلواتے تو  کیا کشمیر آزادی سے محروم ہوتا؟ تاریخ کی طویل ترین غلامی کا پہلا زینہ ’’خود غرض‘‘ کچھ کشمیری بنے تھے جیسے تقسیم برصغیر کے وقت شیخ عبداللہ  کشمیری غلامی کا دوسرا راستہ بنے تھے۔
اندرا گاندھی نے کشمیر میں کانگرس پارٹی کو الیکشن جتوانے کے لئے جب سیاسی یلغار کی تو جو کانگرسی رہنما انڈیا سے کشمیر جاتے وہ اہل کشمیر کو سیکولر ازم ‘ لبرل ازم کے بانی  مغل اعظم جلال الدین اکبر کا حوالہ دیتے کہ کانگرس تو اکبر کی سیاسی وارث ہے لہٰذا اہل کشمیر کو کانگرسی اقتدار کے لئے ووٹ دینا چاہیے۔ بقول اے جی نورانی چونکہ انڈیا سے انتخابی جنگ لڑنے اور انتخابی فتح کے لئے ایسے کانگرسی رہنما مقبوضہ کشمیر میں آتے رہے جنہیں اہل کشمیر کی مغل اعظم سے نفسیاتی نفرت اور شدید دشمنی کا علم  ہی نہ تھا‘ لہٰذا اندرا گاندھی کا خواب ادھورا رہا اور صرف تین سیٹیں کانگرس جیتیں  باقی سب کانگرس مخالفین نے لے لیں۔ نورانی نے کشمیر غلامی کی تاریخ لکھتے ہوئے ساتھ بتلایا کہ تاریخ کے سیاسی استعمال کا جہاں نفع ہوتا ہے وہاں تاریخ کے غلط حوالے اور غلط استعمال سے شدید نقصان بھی ہو جاتا ہے۔
نورانی نے   بی جے پی اقتدار کی طرف سے ٹیکسٹ بکس کی تیاری کے ذریعے ہندوستانی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کے عمل کو بھی کالم میں جگہ دی ہے‘ ماضی کی لکھی ہوئی تایخ میں مغل مسلمان بادشاہوں کی انسانی خدمات کے ہندو مسلم سماج میں روادری اور ہندوئوں کے ساتھ حسن سلوک کے اکثر واقعات درج ہیں جبکہ شیواجی مہاراج جیسے انتہا پسند اور مسلمان دشمن کا ذکر بطور ہیرو نہیں بلکہ بطور رولن ہوتا ہے‘ لہٰذا بی جے پی اقتدار میں اپنی زیر تسلط ریاستوں میں جہاں اس کا اقتدار موجود ہے۔ انڈیا کی نئی تاریخ لکھوائی گئی ہے۔ اس نئی تاریخ میں خاص طور پر شیوا جی مہاراج‘ شنکراچاریہ‘ رانی لکشمی بائی کو عظیم ہندو ہیروز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ ہندو مئورخین جو کیمونسٹ ہیں اور ہندو ازم کی وہ تاریخ لکھنے پر آمادہ نہیں ہیں جو بی جے پی چاہتی ہے بلکہ وہ ماضی کے مسلمان بادشاہوں کے حوالے سے منفی کی بجائے حقیقی تاریخ لکھتے ہیں۔ وہ اب زیر عتاب ہیں۔ ’’رومیلا تھا پر‘‘ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی عالمی طور پر مشہور اور مسلمہ پروفیسر ہیں چونکہ وہ انتہا پسند ہندو نہیں بلکہ سیکولر‘ لبرل‘ کمیونسٹ ہیں لہٰذا ان سے مطالبہ ہوا کہ وہ اپنے تعلیمی کوائف پیش کرکے ثابت کرے کہ اسے یونیورسٹی میں پروفیسر تاریخ کے منصب پر برقرار رہنا چاہیے۔ ظاہر ہے سیکولر‘ لبرل‘ کمیونسٹ تو انتہا پسند ہندو ازم پر یقین نہیں رکھتے‘  لہٰذا پروفیسر رومیلا تھاپر کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ نئے نصاب میں آر ایس ایس کی نظریاتی تاریخ لکھی جارہی ہے اور اس حوالے سے وی ڈی سوار کرکا 1925ء  میں شائع ہونے والا مقالہ ’’ہندوتوا‘‘ ہندو بائبل کی حیثیت رکھتا ہے جس کے مطابق مسلمان اور عیسائی بیرونی اقوام ہیں اور وہ ہندوستانی نہیں لہٰذا وہ ملک چھوڑ دیں یا ہندو بن جائیں مگر وہ بھی بہت نچلی ذات کے۔
 

تازہ ترین خبریں