08:21 am
حلوے کے جلوے، ’’بوتل‘‘ اور دڑکیاں؟

حلوے کے جلوے، ’’بوتل‘‘ اور دڑکیاں؟

08:21 am

انہوں نے مجھے پوچھا کہ آپ کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ لسبیلہ چوک میں ہوں، فرمانے لگے کہ میرے پاس آسکتے ہیں؟ عرض کیا حاضر ہو جاتا ہوں اور پھر یہ خاکسار چارہ پانچ گھنٹے بعد ان کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ وہ بہت پریشان لگ رہے تھے‘ میں نے عرض کیا حضرت،خیریت تو ہے، فرمانے لگے ملک کی اندرونی صورتحال میں بہتری آنے کی بجائے مزید ابتری بڑھتی چلی جارہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر تو ہاتھ سے چلا گیا‘ مگر یہود و نصاریٰ اور منافقین کی نظر میں اب آزادکشمیر کے ساتھ ساتھ  بقیہ پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ملک کے اندر مختلف الخیال گروہوں میں نفرتوں کو ابھارا جارہا ہے‘ جان بوجھ کر علماء کرام کو بے توقیر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ گنڈا پوری جیسے لوگ میڈیا پر بیٹھ کر اعلانیہ مولانا فضل الرحمن کہ جن کے علمی تجر اور شاندار اسلامی ویژن کی وجہ سے صرف پاکستان یا خطے کے ممالک  میں ہی نہیں بلکہ جامعتہ الازہر سے لے کر مدینہ یونیورسٹی تک کے علماء اور اہل علم میں اک نمایاں مقام پایا جاتا ہے‘ کی توہین کر رہے ہیں‘ علماء کو علماء سے لڑانے کی سازشیں عروج پر پہنچ چکی ہیں‘ دینی مدارس کے مظلوم طلباء کا  ’’ہوا‘‘ کھڑا کرکے جان بوجھ کر طاغوتی طاقتوں کو اس طرف متوجہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں بیٹا۔ میں پاکستان کے ہر مسلمان کو مذہبی سمجھتا ہوں‘ وہ کالج کا طالب علم ہو ‘ یونیورسٹی یا دینی مدرسے کا‘ دوکان پہ بیٹھا ہوا مسلمان ہو‘ بازار میں پھرنے والا مسلمان ہو یا مسجد میں بیٹھنے والا میرے نزدیک یہ سب مذہبی مسلمان ہیں‘ کیوں کہ مذہب اسلام سے ہر کسی کو پیار ہوتا ہے اس لئے میرا پیغام سب مسلمانوں تک پہنچا دو کہ وہ فتنوں کے اس دور میں دین اسلام اور علماء حق کے دامن کو مزید مضبوطی سے تھام لیں‘ ہم نے یہودیوں کی سازشوں کو سمجھ کر ان کا توڑ بھی کرنا ہے‘ جو شخص قول و فعل کے تضاد کا استعارہ بن جائے‘ اس شخص سے ریاست مدینہ بنانے کی توقع رکھنا جہالت ہی جہالت ہے‘ نمازوں کی باجماعت پابندی کی  نصیحت قوم تک پہنچا دو‘ نمازوں میں خشوع خضوع پیدا کرنا بھی لازمی ہوتا ہے‘ اللہ پاک سب کی سنتا ہے اس لئے قوم کے ہر ہر فرد کو توبہ کرکے اللہ سے ہدایت  کی دولت طلب کرنی چاہیے‘ میڈیا والوں سے کہہ دو کہ اس قوم کو مدارس اور کالجز کی رٹ لگا کر تقسیم مت کرو ہنود و یہود کی تو سازش ہی یہ ہے‘ مدارس کے طلباء ہوں یا کالجز کے طلباء‘ یہ سب آپس میں بھائی بھائی ہیں‘ یہ سب ایک اللہ‘ ایک رسولؐ‘ ایک کتاب اللہ کے ماننے والے ایک قوم ہیں‘ یہ سب کہتے ہوئے وہ نامور اللہ والے بزرگ محترم‘ زار و قطار رو پڑے‘ میں اشکبار آنکھوں کے ساتھ خانقاہ سے باہر نکلا تو میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ کیا مولانا فضل الرحمن نے کسی بیان‘ کسی انٹرویو‘ کسی تقریر  میں کبھی یہ کہا ہے کہ ’’وہ مدارس کے طلباء کو لے اسلام آباد آزادی مارچ کے لئے آرہے ہیں‘ میرے دوست سندھ کے باخبر صحافی ہیں ان کا جواب تھا کہ نہیں۔ ’’مولانا‘‘ کا نہ تو ایسا کوئی بیان نظروں سے گزرا اور نہ ہی کانوں سے سنا‘ ہاں البتہ تحریک انصاف اور بعض ملحدین کا گروہ ان پر یہ الزام ضرور لگا رہا ہے کہ ’’مولانا‘‘ مدرسوں کے بچوں کو لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کر رہے ہیں۔
افسوس صد افسوس‘ وزیراعظم! ایک  طرف مدارس کے بچوں کو اسلام آباد بلوا کر انعامات تقسیم کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے  وفاقی اور صوبائی وزراء دینی مدارس کے بچوں کو آزادی مارچ کے حوالے سے بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ آزادی مارچ کہ جو ابھی 18دن بعد ہونا ہے اس کا نام لے کر مدارس کے طلباء کو ٹارگٹ کرنا‘ کیا حکومت یا پی ٹی آئی کا اپنا ایجنڈا ہے یا پھر یہ ایجنڈا بھی انہیں باہر والوں نے تفویض کیا ہے؟
وفاق المدارس کے تحت ہزاروں مدارس میں تقریباً30لاکھ کے لگ بھگ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں‘ وفاق المدارس ایک مکمل بااختیار ایسا تعلیمی بورڈ ہے کہ جس میں نامور ایسے علماء کرام موجود ہیں کہ جو نہ کسی سے دبتے ہیں‘ نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہی کسی کے مرہون منت ہیں‘ وفاق المدارس  نے ابھی تک نہ تو آزادی مارچ میں طلباء کو شامل کرنے کا اعلان کیا اور نہ ہی مدارس میں اس قسم کی کوئی سیاسی  سرگرمی نظر آرہی ہے‘ لیکن اس کے باوجود عمران خان حکومت کا مدارس کے خلاف کمپیئن چلانا سمجھ سے بالاتر ہے؟
کون نہیں جانتا کہ ہندوستان میں ’’مسٹر‘‘ اور ’’ملا‘‘ کی سب سے پہلے تفریق انگریز نے پیدا کی تھی‘ انگریز مسلمانوں کو مسٹر اور ملا کے علیحدہ علیحدہ خانوں میں بانٹ کر نفرتوں کو ابھارنا چاہتا تھا‘ آج ایک دفعہ پھر متوقع آزادی مارچ کی آڑ میں جس طرح مدارس اور ان کے طلباء کو زیر بحث لایا جارہا ہے اس نے فرنگی دور کی یاد تازہ کر دی ہے۔
حکومت اور میڈیا کے اس روئیے سے قومی  اتحاد وحدت کو شدید نقصان پہنچنے کے خطرات لاحق ہوچکے ہیں‘ جاننے والے جانتے ہیں کہ آج کے وزیراعظم عمران خان‘ پرویز مشرف دور میں پنجاب یونیورسٹی کے طلباء میں اپنی جماعت کی دعوت لے کر جب پہنچے تو مخالف طلباء کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بھی بنے۔عمران خان نے اپنے سیاسی قد کاٹھ میں اضافے کے لئے ہمیشہ کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات کو استعمال کیا‘ 126دن کے دھرنے میں کالج اور یونیورسٹیز کے بڑے طلباء اور طالبات ہی نہیں بلکہ شیر خوار بچے بھی شریک رہے۔
عمران خان اپنی تقریروں  میں نوجوان طلباء و طالبات کو اپنے سیاسی سفر میں شریک ہونے کی کھلے عام دعوت دیتے رہے‘ لیکن  مولانا فضل الرحمن نے کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات کو بنیاد بنا کر نہ ان پر کبھی تنقید کی اور نہ ہی کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کو رسوا کرنے کی کوششیں کیں‘ کیوں؟ شاید اس لئے کہ ’’مولانا‘‘ قومی اتحاد اور وحدت کو اپنی سیاست سے بلند و بالا سمجھتے ہیں۔
ملین ڈالرز کا سوال یہ ہے کہ آخر دینی مدارس کے طلباء کو کالجز کے طلباء سے کم تر خیال کرنے والا مخصوص مائنڈ سیٹ کہاں سے در آیا ہے؟ مدارس کے طلباء میں کالجز کے طلباء سے کون سی چیز کم پائی جاتی ہے؟
دینی مدارس کے شناختی کارڈ رکھنے والے طلباء پر سیاسی سرگرمیوں پر اگر گورا انگریز پابندی نہیں لگا سکا تو کالے انگریز کیسے پابندی لگا سکتے ہیں؟ رہ گئی بات گنڈا پورکی‘ تو یہ وہی صاحب ہیں کہ جن سے اسلام آباد  پولیس نے جب ’’بوتل‘‘ برآمد کی تو اسے شہد کی بوتل قرار دیکر پولیس کے آگے ’’دڑکی‘‘ لگاگئے تھے‘ ان کی اس ’’دڑکی‘‘ کو چینلز نے لائیو نشر کیا تھا‘ حلوہ میٹھا ہوتا ہے ‘ حلوے کے جلوے تو مشہور زمانہ ہیں‘ ہاں البتہ ’’بوتل‘‘ کو شہد قرار دیکر بھاگ جانا اگر بہادری کی علامت ہے تو پھر اس بہادری پر گنڈا پور کو ایوارڈ ملنا چاہیے۔

 

تازہ ترین خبریں