08:10 am
  ایک  اچھی  خبر! 

  ایک  اچھی  خبر! 

08:10 am

 کیا ہی اچھی خبر سننے کو ملی کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان غیر اعلانیہ مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے۔ خدا کرے یہ خبر درست ہو ! مذاکرات کا آغاز واضح کرتا ہے کہ دونوں فریق جنگ سے گریز چاہتے ہیں۔ ریاستی مزاج میں پیدا ہونے والی یہ جوہری تبدیلی نہایت خوشگوا ر ہے۔ ماضی میں مسلم ممالک کی باہمی کشیدگی کا فائدہ بیرونی عناصر نے اُٹھایا ۔ آٹھ برس کے لگ بھگ جاری رہنے والی ایران عراق جنگ سے فریقین کو جانی و مالی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ پڑوسی کو زیر کرنے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے مغربی دنیا پر انحصار کرنے کی روش نے خطے کو مستحکم نہیں ہونے دیا ۔ عراق کی بربادی میں عقل مند قوموں کے لیے بہت سے سبق موجود ہیں ۔ سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بیرونی قوتوں پر انحصار سے گریز کرتے ہوئے علاقائی تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ 
 
ستر کی دہائی میں ایران میں ابھرنے والے انقلاب کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والے عرب ممالک نے اپنی بقاء کے لیے مغربی دنیا پر انحصار کی جو حکمت عملی اپنائی وہ آج غلط ثابت ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے ایران نے بھی مغرب اور پڑوسی عرب ممالک سے مخاصمت کو گھٹانے اور باہمی اعتماد کو بڑھانے کے لیے قابل ذکر پیش رفت سے گریز کیا ۔ بنظر غائر دیکھا جائے تو تمام فریقین پر اپنی بقاء کا خوف طاری رہا ہے۔ مغربی ممالک اس خوف کو نہایت عیاری سے اپنے حق میں استعمال کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ایک دوسرے کے خوف میں مبتلا مسلم ممالک رفتہ رفتہ مغرب میں بننے والے مہلک تباہ کن ہتھیاروں کی منڈی میں تبدیل ہوتے چلے گئے۔ صرف مشرق وسطیٰ کے چھوٹے چھوٹے ممالک جدید جنگی طیاروں‘ ریڈار سسٹمز ، ٹینکو ں اور میزائلوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ 
مستقبل میں اپنے ہی کسی پڑوسی ملک سے ہونے والی جنگ کے خوف میں مبتلا عرب ممالک ہتھیاروں پر جو بھاری اخراجات کرتے ہیں اُن کی ہوش رُبا تفصیلات دستیاب ہیں ۔ تیل جیسی نعمت سے مالا مال ممالک علم ‘ تحقیق ، دریافت اور ایجاد کے میدانوں میں دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے‘ البتہ تن آسانی اور سامانِ تعیش کی فراوانی میں ان ممالک کا کوئی ثانی نہیں ۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک ہاتھ سے وصول کر کے دوسرے ہاتھ مغربی ممالک کو ہتھیاروں اور اشیائے تعیش کی ادائیگی کی صورت میں لوٹا دی جاتی ہے۔ اسی سرمائے کا بڑا حصہ مغربی ممالک کی معاشی رگوں میں لہو بن کر دوڑتا ہے۔ عقل تقاضا کرتی ہے کہ اس روش کو بدل دیا جائے۔ مسلم امہ، جو کہ صرف کہنے کی حد تک ہی امہ ہے، اب اپنے وسائل کو بے دریغ لٹانے کی تباہ کُن عادت سے نجات پانے کی تدبیر کرے۔ جنگی جنون کا علاج کیے بغیر معاملات کا سدھرنا ممکن نہیں ۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو باہمی خوف کا علاج ڈھونڈنا ہو گا ۔ یہ کوئی دانش مندی نہیں کہ چھوٹے چھوٹے ممالک ایک دوسرے سے جنگ کے خدشات میں مبتلا ہو کر اپنی دولت اغیار کی جیب میں ڈال کر وہ مہلک ہتھیار خرید رہے ہیں جنہیں شائد کبھی استعمال کر نے کی نوبت ہی نہ آئے۔ باہمی اختلافات دور کرنے کے لیے او آئی سی کا پلیٹ فارم استعمال کیا جانا چاہیے۔ 
جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم نے مسلم دنیا کے مسائل سے اقوام متحدہ کی مجموعی بے رخی کی جو شکایت کی کچھ ایسی ہی شکایت او آئی سی سے بھی کی جاسکتی ہے۔ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات سلجھانے میں اس تنظیم نے کوئی فعال کردار تاحال ادا نہیں کیا ۔ بدقسمتی سے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا الائو مسلسل دہک رہا ہے۔ شام میں عالمی طاقتوں کی چھتری تلے مسلم ممالک اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں ۔ ایران عرب تنازعہ بحرین ، یمن اور شام سمیت پورے مشرق وسطیٰ پر اثرانداز ہوتا آیا ہے۔ اپنے مسلک اور سیاسی نظریات کی عصبیت کو ترک کرنے کا وقت آچکا ہے۔ اگر مسلم ممالک اپنے دیگر معاملات میں غیر مسلم ممالک پر بھروسا کر کے امور مملکت چلا سکتے ہیں تو مسلکی اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر باہمی تنازعات کو کیوں حل نہیں کر سکتے؟ 
 مشرق وسطیٰ سمیت تمام مسلم ممالک کو مغربی ہتھیاروں اور مصنوعات کی منڈی بنانے کے بجائے علم و دانش کے مراکز میں تبدیل کیا جانا چاہئے ۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کی خبر تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ خدا کرے یہ خبر سچ ہو! یہ امر بھی دل خوش کن ہے کہ پاکستان ان دو متحارب ممالک کے درمیان ثالثی کی کاوش کر رہا ہے۔ اس کاوش کی کامیابی خطے میں استحکام کے نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مسلم دنیا کے وسائل کو علم ، تحقیق اور ایجادات کے لیے استعمال کر کے ہی اقوام عالم میں باعزت مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 
 


 


 

تازہ ترین خبریں