08:12 am
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

08:12 am

کئی دن سے اسلام آباد میں ہوں یہاں آیاتواس لے تھاکہ بھائی وسیم احمد کے بڑے صاحبز ا د ے دانیال وسیم جواس جہان فانی سے نوعمری میں ہی کوچ کرگئے میں  بھائی وسیم سے تعزیت کے لئے آیاہوں ان کے دکھ کا تومداوانہیں کوئی ان کادکھ نہیں سمجھ سکتا جوان جہان بیٹا یوں دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھوں سے پھسل گیا اپنے تمام چاہنے والوں کوروتابلکتا چھوڑ گیا یہی اللہ کی رضا ہوگی یقینا اس میں اس خاندان کیلئے کوئی ناکوئی بہتری ہوگی۔ اللہ جوستر مائوں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتاہے وہ کیسے اپنے بندے کودکھ دے سکتاہے ‘وہ اس کابہترین مداوا کر یگا   ان شاء اللہ ۔
 
آ ج میرا اسلام آباد میں تیسرا روز ہے یہاں کاسیاسی سماجی ماحول محسوس کرنے کیلئے میں مختلف لوگوں سے ملا۔ان کے خیالات جانے کیلئے بہت سی باتیں سنیں اسلام آباد میں سرکاری اور غیر سرکاری سب طرح کے لوگوں میںعجب بے چینی بے یقینی کا عالم ہے۔ ہرطرف ایک خوف کی فضاطاری ہے ۔ہر لمحہ کروٹ بدلتا بیانیہ سنائی دے رہاہے ۔ہاں کچھ ایسے بھی لوگ ملے جواس افوا ہی فضاسے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ شرطیں لگائی جارہی ہیں۔ کچھ کے خیال میں مولانا فضل الرحمن اپنی مہم جوئی میں کامیاب ہوجائیں گے اور حکومت اور حکمرانوں کاڈھرن تختہ ہوکررہے گا۔ کچھ کاکہناہے کہ حکومت تودراصل کہیں اور سے کی جارہی ہے‘ پی ٹی آئی تو دِکھاوے کی حکمرانی کررہی ہے ورنہ اصل حکمران جب چاہیں گے مولانا منہ کے بل گرے نظر آئیں گے۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم لیڈر تو پہلے ہی بند ہیں اور دوچاردنوں میں رہے سہے بھی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دئیے جائیں  گے ۔مولانااکیلے کردئیے جائیں گے۔
 آج ہی کے اخبار ات میں اکرم درانی صاحب کابیان آیاہے کہ ہم دھرنادینے نہیں جارہے‘ ہم توکشمیر سے یک جہتی کیلئے مارچ کررہے ہیں ۔معلوم ایسا ہورہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کیلئے بلکہ انہیں دھرنے کیلئے خلائی مخلوق اسلام آباد اترنے کی تیاری کررہی ہوگی۔ اگر واقعی کوئی خلائی مخلوق ہے اور اس کااسلام آباد کی سمت رخ ہورہا ہے تو پھر دھرنے شریف کاکیابنے گا ؟مولانا کی آواز پر جو لوگ گھروں سے نکلنے کی تیاری کررہے تھے ان کی روزی روٹی کاکیا ہوگا۔ و ہ بیروزگاری کے مارے پہلے ہی روزگار کیلئے پریشان پھررہے تھے ۔اب ان کی امیدوں پر پھر یہ خلائی مخلوق پانی پھیر نے کوہے ۔ بہرحال اللہ بڑا مسب الاسباب ہے وہ کوئی ناکوئی ان بیچارے بے روزگاروں کے روزگار کابندوبست ضرور کردے گا ۔
مولاناکواگر منظر سے ہٹابھی  دیاگیاتو پیپلز پارٹی بھی میدان میں اتر سکتی ہے۔ اگر تھوڑی سی ہمت کرے تو ن لیگ بھی ‘لیکن اس سے نقصان یہ ہوگا کہ سیاسی جماعتیں نہ گھر کی رہیں گی ناگھاٹ کی ۔الگ الگ کوششوں کانتیجہ کئی باردیکھ چکے ہیں ۔سب سے پہلے قائد ایوان کے انتخاب کے وقت جب تمام کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار کھڑا کردیاتھا حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ کامیابی ممکن نہیں ہوگی لیکن  شائد خلائی مخلوق کے زیر اثر ایسا کیاہو۔دوسری بار سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے وقت ایسا ہی کیا محسوس یوں ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں سیاست نہیں تجارت کی جاتی ہے یاسیاست کے نام پر  بٹہ لگایا جاتاہے ۔اگر آج کے تمام ہی سیاست دانوں کودیکھا جائے ‘سمجھا جائے ان میں سے ایک بھی سیاست کے میزان پر پورا تو کیاادھورا بھی بمشکل ہی اترے یایہ کہ جوسیاستدان جاتے ہیں ان کے منہ میں زبان ہی نہیں ہے یاوہ بولنے کے قابل ہی نہیں رہتے  ۔ یا وہ  اتنے نیچے یاپیچھے رہ جاتے ہیں کہ ان کی آواز کسی کوسنائی ہی نہیں دیتی کیونکہ صف اول میں رہنے والے جو سیاست دانی کاطوق گلے میں ڈالے ہوئے ہیں‘ وہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے کسی کواپنے سے آگے آنے ہی  نہیں دیتے۔ اسلام آباد  میں اہل سیاست سے بھی ملاقاتیں رہیں ۔حکمران جماعت کے لوگوں کی زبان ولہجہ تکبرانہ ہے اور ان کاانداز شاہانہ ہے۔
 حزب اختلاف کی جماعتوں کاانداز کہیں مصالحانہ ہے تو کہیں خلائی مخلوق کی مداخلت کاخوف بولنے سے روک رہاہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ اگر یوں کہاجائے کہ اسلام آباد کی فضاء غیر یقینی لئے ہوئے ہے تو غلط نہیں ہوگا۔جیسے جیسے وقت قریب آرہاہے تینوں طرف بے چینی بے کلی بڑھ رہی ہے۔ مولانافضل الرحمن پرطرح طرح کی تہمتیں لگائی جارہی ہیں ‘الزامات لگائے جارہے ہیں‘ نیب کاخوف دلایا جارہا ہے جبکہ چیئرمین نیب نے دوٹوک انداز میں کہہ دیاہے مولانا پر کسی طرح کاکوئی الزام نہیں ہے۔ بقول کچھ اہل سیاست اور کارکنان سیاست کے حکمرانوں نے حزب اختلاف کولگام ڈالنے کیلئے اور مولاناکوٹھکانے لگانے کیلئے ایک ماسی مصیبت چھوڑ رکھی ہے جس کا کام ہی لوگوں پر اپنی زبان درازی یازبان دانی کاجادو چلاکرلوگوں کو رسوا کرناہے۔ اس طرح کے اور بھی کئی کردار ہیں جو د و سر وں کیلئے گڑھے کھودنے میں سردھڑکی بازی لگاتے نظر آرہے ہیں۔
 اکتوبر کی 27اب کون سی دور رہ گئی ہے۔ آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔  پل پل کروٹ بدلتی سیاست کے رنگ کیا کہہ رہے ہیں‘ خودسیاستدانوں  کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا دونوں بڑی اہم جماعتوں کے اصل رہنما توسرکاری تحویل میں بند ہیں‘ ایسے میں رہنمائی کافقدان بھی ہے۔ اصل رہنما اگر کچھ کہتے بھی ہونگے توبات باہرآتے آتے کچھ کی کچھ ہوجاتی ہوگی۔ جیسے میاں صاحب نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں شامل ہونے کامشورہ یاحکم دیا ہوگا تو باہر کی قیادت اپنی سوچ یاکسی ناکسی دبائو کومدنظر رکھنے پرمجبور ہوتی ہوگی ورنہ مولانا کواتنے پاپڑ نابیلنے پڑتے۔ مولانا کی سیاست گومگو کاشکار نظر آرہی ہے۔ بظاہر مولاناصاحب بڑے پرامید نظر آرہے ہیں۔ حکمرانوں کوخوف ہے کہ کہیں مولانا مدارس کے طلباء کو میدان میں نالے آئیں کیونکہ یہی طلباء تھے جو طالبان کہلائے جارہے ہیں اور یہی مولانااور ان کے ساتھی ہی تو تھے جنہوںنے روس کیخلاف مدارس اسلامیہ کے طلباء کو میدان کار زار میں اتارا تھا کیاطالبان دھرنے کے حوالے سے ایک بار پھر سامنے لائے جارہے ہیں؟وطن عزیز میں وہ صورت حال نہیں ۔ اس بار ملکی سیاسی جماعتیں بھی جدید طلباء کی پشت پر کھڑی ہونے کوتیار دکھائی دے رہی ہیں۔ سونے پہ  سہاگہ کریلا نیم چڑھا ہونے جارہاہے جوکچھ ناکچھ کرکے رہے گا۔اگر ایسا ہوگیا توشاید خلائی مخلوق بھی پیچھے ہٹ جائے اور میدان مولانا اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ آجائے اللہ کرے وطن عزیز اس کھینچا تانی سے کسی نئی مصیبت میں ناپھنس جائے ۔

 

تازہ ترین خبریں