08:13 am
تاجروں کے کام کی باتیں

تاجروں کے کام کی باتیں

08:13 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی طرح موبائل فون، کمپیوٹر و دیگر ٹیکنالوجی کی چیزوں میں صریح غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے مثلاً مرمت کئے ہوئے فون کو یہ کہہ کر بیچنا کہ یہ مرمت شدہ نہیں۔ پرانے کمپیوٹر و لیپ ٹاپ کو نیا کہہ کر اسکا معیار بہتر بتا کر کم معیاری بیچ دینا، اچھا سیمپل دکھا کر گھٹیا مال پیک کر دینا۔ یاد رہے یہ سب حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔ امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مومن کو ضرر پہنچائے یا اس کیساتھ مکر اور دھوکہ بازی کرے وہ ملعون ہے۔
دھوکہ دہی انتہائی نقصان دہ چیز ہے، دھوکے باز کو کہیں بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، ایسے شخص سے لوگ اپنے کسی بھی قسم کے معاملات کرنے سے کتراتے ہیں۔ مروی ہے کہ مکروفریب جہنم میں لے جانے والے ہیں۔ دغاباز داخل جنت نہ ہو گا۔ 
سود: تجارت میں پائی جانیوالی برائیوں میں سے سود ایسی خبیث برائی ہے جس نے ہمیشہ معیشت کو تباہ و برباد ہی کیا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی مذمت کو انتہائی شدت سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ سودخوروں کو اللہ پاک اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعلانِ جنگ کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔ پارہ 3، سورۃ البقرہ کی آیت 278 اور 279 میں ارشادِ خداوندی ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا‘‘۔ 
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ عالی وقار، ہم بے کسوں کے مددگار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شب معراج میرا گزر ایسی قوم پر ہوا جسکے پیٹ گھر کی طرح (بڑے بڑے) تھے، ان پیٹوں میں سانپ موجود تھے جو باہر سے دکھائی دیتے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل، یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ سودخور ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سودی نظام کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، طرح طرح کے حیلے بہانوں سے سود لینے دینے پر اُکسایا جاتا ہے۔ دین سے اس قدر دُوری ہے کہ جب بھی کوئی مالی پریشانی ہوتی ہے تو فوراً سود پر قرضہ لینے کا خیال ذہن میں آتا ہے، اگر کسی سے اپنی پریشانی کا حل پوچھا جائے تو وہ بھی سودی قرضہ لینے کا ہی مشورہ دیتا ہے حالانکہ سودی لین دین کے بہت سے نقصانات ہیں۔ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: جس قوم میں سود پھیلتا ہے اس قوم میں پاگل پن پھیلتا ہے۔
سود ایک صریح ناانصافی ہے، اسکے سبب تجارتوں میں کمی آتی، باہمی محبت کو نقصان پہنچتا اور خیرخواہی کا جذبہ مفقود ہو جاتا ہے۔ سودخور کسی کی بھی قرضِ حسنہ سے مدد کرنا گوارہ نہیں کرتا۔ انسانی طبیعت میں اس قدر درندگی و بے رحمی آ جاتی ہے کہ سودخور ہر وقت اپنے مقروض کی تباہی و بربادی کا خواہشمند رہتا ہے۔ سود کے سبب انسان دوسروں سے حسد کرنے لگ جاتا ہے۔ مال کا اس قدر حریص ہو جاتا ہے کہ کنجوسی کرنے پر اُتر آتا ہے، خود اپنی ذات پر بھی خرچ نہیں کرتا کہ کہیں مال کم نہ ہو جائے۔ سودخور چاہے جتنا بھی مال کما لے درحقیقت دُنیا و آخرت میں نقصان ہی اُٹھاتا ہے۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: سود اگرچہ (ظاہری طور پر) زیادہ ہی ہو آخرکار اسکا انجام کمی پر ہوتا ہے۔
وعدہ خلافی: وعدہ نبھانے کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں، اسکے ذریعے اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے اور تجارتی معاملات میں اعتماد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسکے باوجود آج کل حالت یہ ہے کہ وعدہ صرف وقت گزاری کیلئے کیا جاتا ہے، مقررہ تاریخ پر رقم وغیرہ کی ادائیگی کی سرے سے ہی کوئی نیت نہیں ہوتی، جان بوجھ کر ٹرخاتے ہیں۔ بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ رقم پاس ہونے کے باوجود کہہ دیتے ہیں، شام کو آنا، کل لے لینا، پرسوں ملیں گے یعنی خواہ مخواہ دوسروں کو بار بار آنے پر مجبور اور ذلیل کرتے ہیں۔ یاد رکھئے! وعدہ پورا نہ کرنے کی نیت سے اور فقط ٹالنے کیلئے جھوٹ موٹ کا وعدہ کرنا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے، جو کسی مسلمان سے عہدشکنی کرے، اس پر اللہ پاک، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اُس کا کوئی فرض قبول نہ ہو گا نہ نفل۔
ایک موقع پر ارشاد فرمایا: جو قوم بدعہدی (وعدہ خلافی) کرتی ہے اللہ پاک اُن کے دشمنوں کو ان پر مسلط کر دیتا ہے، اسکے علاوہ بھی وعدہ خلافی کے بہت سے نقصانات ہیں۔ بدعہد شخص لوگوں میں اپنا اعتماد کھو دیتا ہے، وعدہ خلافی باہمی تعلقات کو کمزور کرتی ہے، اُخوت و محبت اور ایثار و ہمدردی کے جذبات کو مجروح کرتی ہے، اسکے سبب باہمی تعلقات میں بے اطمینانی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، بدعہدی منافقت کی علامت ہے، وعدہ توڑنے والا دُنیا میں تو ذلیل و رسوا ہوتا ہی ہے، آخرت میں بھی رسوائی اسکا مقدر ہو گی۔ حدیث پاک میں ہے: اللہ رب العزت جب (قیامت کے دن) اولین و آخرین کو جمع فرمائے گا تو ہر عہد توڑنے والے کیلئے ایک جھنڈا بلند کیا جائیگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہدشکنی ہے۔
قسطوں پر کاروبار: فی نفسہٖ قسطوں پر کاروبار کرنا بالکل جائز ہے کہ یہ ادھار فروخت کی ایک صورت ہے اور کسی چیز کو بیچتے وقت باہمی رضامندی سے جتنی قیمت چاہیں مقرر کر لیں اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں جب تک کوئی ایسی صورت نہ پائی جائے جو اسلامی اُصولوں کیخلاف ہو۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھائو مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو‘‘۔ (پ5، سورۃ النساء29)مگر افسوس ہمارے زمانے میں اس کاروبار کی کئی ایسی صورتیں رائج ہو چکی ہیں جو ناجائز و حرام ہیں مثلاً (۱)معاہدہ (ایگریمنٹ) کرتے ہوئے یہ شرط لگانا کہ اگر وقت پر قسط ادا نہ کی گئی تو جرمانہ ادا کرنا پڑیگا۔ یہ ظلم و زیادتی اور تعزیز بالمال (مالی جرمانہ) ہے جو اسلام میں جائز نہیں۔ ردالمختار میں ہے، تعزیر بالمال ابتدائے اسلام میں تھی پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا، اور منسوخ کا حکم یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا حرام ہے۔ (۲) قسطوں پر شے بیچی مگر ساتھ یہ کہہ دیا کہ جب تک تمام قسطیں ادا نہیں ہو جاتیں آپ اس شے کے مالک نہیں، یہ شرط ناجائز ہے کیونکہ شریعت کے اعتبار سے جب کئی چیز پر ایجاب و قبول ہو جائے اور شے خریدار کے قبضے میں چلی جائے تو وہ مالک ہو جاتا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے، بیع کا حکم یہ ہے کہ مشتری مبیع (خریدی ہوئی چیز) کا مالک ہو جائے اور بائع ثمن (قیمت) کا۔ (۳) کرایہ اور چیز کی قیمت کو جمع کرنا، یعنی کسی چیز کی اس طرح قسطیں کرنا جوکہ اسکی قیمت اور کرایہ دونوں پر مشتمل ہوں، اسکی صورت یوں بنے گی، ایک موٹر سائیکل دوہزار ماہانہ قسط پر بیچی۔    ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں