08:14 am
ریلوے! رلتے مسافر بے بس ملازمین اور تاریخی گھڑیال؟

ریلوے! رلتے مسافر بے بس ملازمین اور تاریخی گھڑیال؟

08:14 am

 جس تبدیلی مارکہ دور میں تاجروں کی نہیں سنی جارہی‘ عوام کی نہیں سنی جارہی‘ اس دور میں ’’ریلوے‘‘ کی کون سنے گا؟ گزشتہ روز مہمانوں کو چھوڑنے کراچی  کینٹ اسٹیشن گیا تو پتہ چلا کہ ساڑھے چار بجے روانہ ہونے والی کراچی ایکسپریس شام 6بجے روانہ ہوگی۔ ایک قلی سے پوچھا کہ بھائی اس تاخیر کی وجہ؟ اس نے میری طرف دیکھ کر حیرت سے الٹا مجھ پر ہی  سوال داغ دیا کہ صاحب! کیا آپ ’’چاند‘‘ پر رہتے ہیں کہ  جو زمینی صورتحال سے اس قدر ناواقف ہیں؟ کیا مطلب؟
 صاحب گاڑی لیٹ ہونا تو اب معمول بن چکا ہے۔غلام احمد بلور کے دور وزارت میں ریلوے جب آخری ہچکیاں لے رہی تھی تو خواجہ سعد رفیق بہرحال ’’ریلوے‘‘ کو دوبارہ زندہ کرنے والے ایک مسیحا ثابت ہوئے‘ خواجہ سعد رفیق کے دور میں نہ  صرف یہ کہ ٹرینوں کی حالت زار کی طرف توجہ دی گئی بلکہ ٹرینوں کی روانگی اور آمد کی ٹائمنگ کو بھی بہت بہتر کیا گیا‘ اسٹیشنوں کو خوبصورت بنانے کی بھی مقدور بھر کوششیں کی گئیں‘ ریلوے کی زمینوں کو بھی قبضہ مافیا سے چھڑانے  کے لئے  جرات مندانہ اقدامات بھی کئے گئے۔ اور‘ اور پھر تبدیلی مارکہ دور کی برکت سے ریلوے کی بھاری بھر کم ذمہ داری ’’ اپنے‘‘ شیخ رشید کے ناتواں کندھوں پر   ڈال دی گئی‘ شیخ رشید کی آنیاں‘ جانیاں‘ پریس کانفرنسیں‘ بیانات‘ تقریریں اور نئی نئی ٹرینوں کے افتتاح کی تقریبات دیکھ دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے ’’ترقی‘‘ نے خواجہ سعدرفیق دور کو بھی دولتی مار دی ہے‘ لیکن عملاً صورتحال چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہی ہے کہ ’’ریلوے‘‘ ترقی کرتے کرتے ایک دفعہ پھر حاجی غلام احمد   بلور شیخ رشید کی زبان والی کےدور میں پہنچ چکی ہے... ترقی ریلوے میں تو کہیں نظر نہیں   آرہی‘ بلکہ  جو منصوبے خواجہ سعد رفیق کے دور میں شروع ہوئے تھے وہ بھی فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک بند پڑے ہیں‘ جناب ’’شیخ‘‘ ریلوے کے وزیر ہونے کی حیثیت سے اربوں روپے کمانے کے دعوے کرتے ہیں مگر وہ ’’آمدن‘‘ جاتی کدھر ہے؟ یہ بتانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے‘ اگر ریلوے کی آمدن ہے تو  اس آمدن سے کراچی ڈویژن کے وہ ریلوے ملازمین کہ جو ریٹائرڈ ہوچکے‘ انہیں پنشن اور دیگر واجبات سے محروم کیوں رکھا جارہا ہے؟فوت شدہ ملازمین کی بیوگان جن کے واجبات کے چیک بھی بنے ہوئے ہیں وہ چیک انہیں کیوں نہیں دئیے جارہے؟ چیک کی ’’اتھرائزیشن‘‘ کا چکر چلا کر ریٹائر ملازمین اور بیوگان کو ادائیگی کروانے کے لئے بیس پرسنٹ رشوت کیوں طلب کی جاتی ہے؟ شیخ رشید دس ارب روپے منافع کی بات کرتے ہیں جبکہ کراچی ڈویژن کے ملازمین کے رکے ہوئے واجبات کی مالیت ایک ارب کے  لگ بھگ ہے‘ حکومت ریٹائر ملازمین‘ بیوگان اور یتیم بچوں کو اپنے جائز حق کے حصول  کے لئے کتنا تڑپانا اور رلانا چاہتی ہے؟ ’’ریلوے‘‘ کو نہ تو سیاست دان چلاتے ہیں اور نہ ہی جنات بلکہ یہی غریب ملازمین ہوتے ہیں کہ  جن کی محنتوں اور مشقتوں سے ریل کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔جب غریب ملازمین کو ہی ان کے جائز حق سے محروم رکھا جائے گا یا انہیں رلا‘ رلا اور ترسا‘ ترسا کر رشوت لے کر ان کے واجبات ادا کے جائیں گے تو اس کا انجام ریلوے کی تباہی کی صورت میں ہی سامنے آئے گا۔نئی‘نئی پٹریاں بچھانے کے خواب بہت سہانے ہیں‘ نئی نئی گاڑیاں چلانے کا شوق بھی پرانا ہے۔ جب آپ پہلے سے موجود ٹرینوں کی ٹائمنگ ہی درست نہیں کر سکتے‘ سخت گرمی میں کئی کئی گھنٹے مسافروں کو اسٹیشنوں پر رلنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے...ریلوے ملازمین اپنے جائز حق کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں تو پھر مان لیجئے کہ یہ ریلوے کی ترقی نہیں بلکہ مزید تنزلی اور تباہی کے سائن ہیں۔ ریلوے کے نچلے درجے کے ملازمین کی بے بسی‘ کسمپرسی اور ریلوے افسران کی شاہانہ زندگیوں کے حوالے میں آئندہ کسی کالم میں بحث کروں گا‘ آج کے کالم میں بس اتنا ہی کہ اگر فرزند لال حویلی کی تقریروں سے ریلوے میں تبدیلی نہیں آسکی‘ تو عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کا کیا خاک اثر ہوگا؟ یہ تقریریں بس ایویں تقریریں ہی رہتی ہیں‘ مزہ تو جب ہے کہ عمل میں بھی تبدیلی نظر آئے۔کراچی سٹی اسٹیشن کے کانفرنس ہال میں سینکڑوں سال پرانا ایک خوبصورت گھڑیال لگا ہوا ہے‘ تقریباً تین سو سال پرانا وہ گھڑیال آج بھی نہ صرف یہ کہ ٹائم درست دیتا ہے بلکہ اس کی جاذبیت اور خوبصورتی بھی دیکھنے والے کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی ہے‘ سنا ہے کہ لاکھوں روپے مالیت والے اس گھڑیال جیسے دس گھڑیال اسٹیشن کی خوبصورتی کو بڑھا  رہےتھے‘ مگر اب 3  رہ گئے‘ باقی سات قیمتی اور تاریخی گھڑیال کدھر چلے گئے؟ شیخ رشید اگر یہ کیس بھی نیب کے سپرد کر دیں تو بات بنے‘ راوی بتاتا ہے کہ سات میں سے ایک گھڑیال خواجہ سعدرفیق کے حسن ذوق کا نشانہ بنا‘ دیگر چھ تاریخی گھڑیال کس کس صاحب بہادر کے گھر کی زینت بنے ہوئے ہیں کوئی نہیں جانتا‘ اگر جانتا بھی ہے تو تحفظ نہ ہونے کے سبب بولنے پر آمادہ نہیں ہے‘ اللہ ہم سب کے حال پہ رحم فرمائے۔ (آمین)
 

تازہ ترین خبریں