08:15 am
بھارت کا مشن کشمیر

بھارت کا مشن کشمیر

08:15 am

مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک دائون،کرفیو اور سخت پابندیوں کے 67ویں روز بھی نظام زندگی مفلوج ہے۔ بھارت پابندیوں کے خاتمے اور سب ٹھیک ہے ،کے مسلسل دعوے کر رہا ہے اور ان دعوئوں کے دوران شمال کشمیر ، وسطی کشمیر کے بعد جنوبی کشمیر کا آپریشن تیز کیا گیا ہے۔ ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں کئی رہائشی مکانات کو بارودی دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ گھروں کو زمین بوس کرنے سے پہلے فرضی جھڑپ کاڈرامہ رچایا گیا۔ایک مکان سے ملبے سے کشمیری نوجوان کی سوختہ نعش بر آمد کی گئی۔ قابض فورسز نے دو کشمیریوںکو شہید کرنے کے بعد ان کا تعلق لشکر طیبہ سے جتلایاتا کہ دنیا کو مزید گمراہ کیا جا سکےکیوں کہ بھارت پروفیسر حافظ سعید کے بارے میں دنیا میں چیخ و پکار کر چکا ہے۔ لاک ڈائون کے دوران بھارتی فورسز نے نصف درجن کے قریب جعلی جھڑپیں کیں۔ اس سے پہلے گاندربل کے جنگلات میں جاری آپریشن میں دو کشمیریوں کو 28ستمبر کے روز شہید کیا گیا جن کی شناخت 12روز گزرنے کے باوجود ظاہر نہیں کی جا سکی۔ خدشہ ہے کہ بھارت ماضی کی منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کو گھروں سے حراست میں لینے کے بعد انہیں جنگلوں اور بیابانوں یا جنگ بندی لائن پر پہنچا کر فرضی معرکوں میں شہید کر رہا ہے۔ موجودہ لاک ڈائون کے بعد اس طرح کی فرضی جھڑپ بارہمولہ کے قدیم محلہ میں20اگست کو کی گئی جس میں محسن گجری نامی کشمیری نوجوان کو شہید کیا گیا۔ اس کے چند دن بعد ایک کشمیری کو سوپور میں شہید کیا گیاجبکہ نصف درجن سے زیادہ کشمیریوں کو وادی چناب اور پیر پنچال میں شہید کیا گیا۔ 
 آج کی دنیا میں کئی ممالک انسان کی آسانی کے لئے اپنے وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ سائنسدان اسی لئے تسخیر کائینات کے لئے ریسرچ میں مصروف ہیں۔ انھوں نے زحل سیارے کے گرد مزید 20چاند دریافت کئے۔ اب زحل کے کل 82چاند ہو گئے ہیں مگر بھارت کا چاند پر قدم رکھنے کا مشن چندریان مسلسل ناکام ہو رہا ہے کیونکہ بھارتی فوج کی طرح اس کے سائنسدان بھی کرپشن میں مصروف ہیں ۔ میڈیا نے کی داستانیں سنا رہا ہے ۔بی جے پی کے دور حکومت میں بھارت کی فوج نے کرگل جنگ کے دوران اپنے ہلاک فوجیوں کے لئے500 تابوت امریکی کمپنیوں سے خریدے۔ کمپٹرولر اینڈ آدیٹر جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس خریداری میں فراڈ کیا گیا۔ ایک تابوت 1999میں 2500ڈالرز میں خریدا گیا جو کہ اصل رقم سے 13گنا زیادہ تھا۔ بھارتی سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی)نے کرپشن ثابت ہونے پر فوجی افسران کے خلاف 2009میں چارج شیٹ فائل کی مگر بعد میں اس کیس کو دبا دیا گیا۔ جو فوج تابوتوں کی خریداری میں بھی کرپشن کرے ، وہ بو فورس توپوں اور دیگر خریداری اور کشمیر میں پیسے کمانے کے لئے کرپشن میں کیسے پیچھے رہ سکتی ہے۔ بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں اسی لئے نام نہاد فرضی آپریشنز کرتے ہیں تا کہ وہ بھاری رقم کما سکیں۔ یہی فوج کشمیریوں پر سخت پابندیاں اور لاک ڈائون کے تحت ہونے والے آپریشن میں بھی کیسے گھوٹالوں سے پاک ہو گی۔ مستقبل میں بھی یہ حقائق سامنے آسکتے ہیں کہ بھارت میں مودی حکومت نے فرانس سے رافیل طیاروں ی خریداری میں بھاری کرپشن کی۔پہلے رافیل طیارے کی بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دیکھتے ہی پوجا پاٹھ کی مگر مودی مئی 2020میں ہی اس کی پوجا کر سکیں گے کیوں کہ اس کی پہلے کھیپ آئندہ برس ہی بھارت پہنچے گی۔ رسمی طور پر پہلا طیارہ فرانس میں ہی بھارت کو دیا گیا ہے۔بھارت رافیل طیاروںکو اپنی فضائیہ کے لئے گیم چینجر کے طور پر پیش کر رہا ہے مگر یہ ایف 16اور جے ایف تھنڈرز کے مقابلے میں صفر ہے۔ بھارتی اہلکار اگر بزدل ہوں اور صرف پیسے کے لئے نوکری کر رہے ہوں تو وہ جذبہ اور ایمان پر لڑنے والی فوج سے کیسے مقابلہ کر سکتے ہیںجس فوج کا مشن جذبہ جہاد اور شوق شہادت ہو اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی فوج اور ٹیکنالوجی نہیںکر سکتی۔ بھارت نے اس خطے میں صرف اسلحہ کی دوڑ شروع کی ہے۔ اپنے عوام کو غربت اور مفلسی کا شکار بنا کر بھارتی حکمران فراڈ اور کرپشن کے لئے اسلحہ خرید رہے ہیں تا کہ عوام کو پاکستان اور مجاہدین سے ڈرا کر اور خوف و دہشت پھیلا کر بجٹ کی زیادہ رقم دفاع پر خرچ کر سکیں۔ مودی حکومت اسرائیل ، روس، امریکہ ، فرانس سمیت کئی ممالک سے جنگی ساز و سامان خریدنے میں اسی لئے تیزی لائی ہے تا کہ وہ جنگی جنون کو تیز کرے، اپنے عوام کو خوفزدہ کرے، انہیں جنگ سے خوف دلائے، پھرآزادی سے گھوٹالے کرے۔ بھارتی حکمران جہالت اور غربت کو ختم کرنے کے بجائے اپنی تجوریوں کو بھر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر بھی دہلی کے حکمرانوں کا کاروباری مرکز بنا ہو اہے۔ یہ سب لاک ڈائون، ریاستی دہشت گردی، مظالم، آپریشن مودی کو آکسیجن فراہم کرنے کے لئے ہیں۔ وہ نفرت پھیلا رہے ہیں۔ کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کے ردعمل کو بھی کیش کرنے کا کوئی منصوبہ تیار ہو گا۔ 
کشمیر ی بھی مودی کی نفرت کے شکار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں 67دن سے ویرانی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق تین ہزار ہوٹل اور جھیل ڈل میں ایک ہزار ہائوس بوٹ بند ہیں۔ 4لاکھ لوگ وادی کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ سیاحتی کاروبار بند ہونے سے 7لاکھ لوگوں کا روزگار ختم ہو چکا ہے۔ کشمیر چیمبر کے مطابق شٹ ڈائون کی وجہ سے کاروبار کی مد میں 1.4ارب ڈالر کا نقسان ہو چکا ہے۔ کشمیر کے مشہور سیب یا تو سڑ رہے ہیں یا درختوں پر لٹک رہے ہیں۔رواں ماہ بھی اگر درختوں سے اتارا نہ گیا تو صرف اس مد میں کشمیر کی20فیصد معیشت کو نقصان ہو گا۔ہینڈی کرافٹ دستکاری صنعت بھی تباہ کر دی گئی ہے۔ بھارتی حکومت ترقی اور نوکریوں کے فرضی اعلانات کر رہی ہے جبکہ قابض حکومت نےکشمیریوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ یہی بھارت کا مشن کشمیر ہے۔


 

تازہ ترین خبریں