08:16 am
چین کے ساتھ نیا دفاعی معاہدہ!

چین کے ساتھ نیا دفاعی معاہدہ!

08:16 am

٭500 افراد کو جیل بھیج دوں تو مسائل حل ہو جائیںگے: عمران خانOمہاتیر محمد وزیراعظم ملائیشیا ،  بھارت کی کھلی مذمتO چین کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون کا نیا معاہدہO اپوزیشن کا آزادی مارچ کی حمائت کا اعلان، دھرنے میں شریک نہیں ہوں گےO لاہور، کرکٹ کا عذاب ختم، کروڑوں کے اخراجاتO لاہور میں مسلسل گھنٹوں لوڈ شیڈنگO غیر ملکی ایئرلائنز باسی کھانے!O مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید دو کشمیری شہیدO کوئی مائی کا لال حکومت نہیں گرا سکتا، وزیرداخلہ۔
٭صبح سے بجلی بند ہے۔ رات بھی یہی حال رہا۔ اعلان ہوا تھا کہ آئندہ دس بجے رات سے صبح چار بجے تک لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ رات کو عین دس بجتے ہی بجلی بند ہو گئی۔ بجلی کے مقامی دفتر سے رابطہ کیا۔ جواب آیا کہ ہم تو خود اندھیرے میں بیٹھے ہیں۔ کافی دیر کے بعد بجلی آئی۔ صبح پھر بند! دوپہر تک نہیں آئی مگر سٹیڈیم میں رات کو کرکٹ میچ کے وقت پورا وقت بجلی برقرار رہتی ہے…! اس بار بارشیں زیادہ ہوئی ہیں، ندی نالوں میں سیلاب آ رہے ہیں، دریا اُبل رہے ہیں اور پہلے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ شروع ہوگئی ہے!!
٭وزیراعظم پاکستان عمران خان نے چین میں دوستی اور تعاون کے نئے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ان میں دفاعی تعاون کا معاہدہ سب سے اہم ہے۔ اس معاہدہ کا سیدھا ساوا مطلب یہ ہے کہ چین پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کے لئے پہلے سے زیادہ تعاون کرے گا۔ یہ نہیں کہ فوج بھیج دے گا، بلکہ بالواسطہ اخلاقی مدد میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ بھی عملی تعاون ہی ہوتا ہے۔
٭وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کاش میں پاکستان میں 500 کرپٹ افراد کو جیل بھیج سکتا تو عوام کے مسائل حل ہو جاتے۔ چین میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بات دہرائی کہ چین میں چار سو (400) وزیروں کو جیل بھیج دیا گیا تھا تو مسئلہ حل ہو گیا تھا۔ پتہ نہیں وزیراعظم کو کس نے بتایا کہ پاکستان میں صرف 500 کرپٹ افراد ہیں۔ 500 افراد تو بہت کم ہیں۔ قدم قدم پر کرپشن بکھری ہوئی ہے۔ پانامہ لیکس رپورٹ میںتو یہ تعداد ہزاروں میں تھی۔ ویسے ایک سال گزر گیا، کتنے کرپٹ لوگوں کو کیا سزاملی؟ چند افراد کی گرفتاریاں اور طویل وقفوں والی پیشیاں، کرپشن کے سنگین الزامات اور جیلوں میں وی آئی پی قسم کی فائیو سٹار سہولتیں!ہسپتالوں میں اعلیٰ سہولتوں والے داخلے! محاسبے کا سب زبانی جمع خرچ! عدالتیں کسی نتیجے پر پہنچنے لگتی ہیں تو اکٹھے تین جج تبدیل کر دیئے جاتے ہیں۔ پھر یہ کہ احتساب صرف مخالفین کا! حکومتی پارٹی کا کوئی ایک اہم بلکہ عام نام بتائیں جو اس وقت کسی جیل میں ہو! اورپھر چین میں بھی کون سا سب اچھاہے؟ جہاں 400 وزیر کرپٹ ہوں وہاں عام حال کیا ہو گا؟ ایک رپورٹ کے مطابق چین میں اب بھی وسیع پیمانہ پر کرپشن پھیلی ہوئی ہے۔ چینی کمپنیاں پاکستان میں کیا کر رہی ہیں۔؟ صرف ملتان بس سروس کی ایک مثال ہی کافی ہے! ویسے کرپشن تو امریکہ میںبھی پھیلی ہوئی ہے۔ سینٹ نے ناجائز ٹی اے ڈی اے وصول کرنے پر نائب صدر جانسن کا محاسبہ کر لیا تھا۔ اس نے مشکل سے جان چھڑائی۔ بھارت کا چائے فروش نریندر مودی وزیراعظم بنا تو فرانس سے طیاروں کی خریداری میں اربوں کے کمیشن کی رشوت میں ملوث ہو گیا۔ بھارت کو پہلا فرانسیسی طیارہ ملا ہے تو بھارتی میڈیا میں مودی کی تین ارب روپے کی کرپشن کا ذکر پھر ابھر آیا ہے!
٭ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ ’’مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ بھارت کے مطالبہ پر پاکستان کی حمائت کا بیان واپس نہیں لوں گا چاہے اس پر بھارت کے ساتھ تجارت خطرے میں پڑ جائے!‘‘ زندہ باد! یہ حق پرستی ہے۔ ترکی کے بعد ملائیشیا دوسرا ملک ہے جس نے کھل کر مقبوضہ کشمیر پر بھارتی جبر و ستم کی کھل کر مذمت کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے مخالفت کی کوئی پروا نہیں کی جائے گی۔ بھارتی وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر پر کرفیو نافذ کرنے سے پہلے ملائیشیا کا خصوصی دورہ کیا اور اس کے ساتھ اربوں کی تجارت اور ٹیکنالوجی کے تعاون کے متعدد معاہدے کئے۔ مگر علامہ اقبال کے مطابق ’’آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی! اللہ کے بندوں کو آتی نہیں روباہی!‘‘ اور دوسری طرف: کسی ایک عرب ملک بلکہ 53 اسلامی ملکوں میں سے کسی نے بھی بھارت کی مذمت کی جرأت نہیں کی! مہاتیر محمد کی جرأت مندی ان کی سوانح عمری سے ظاہر ہوتی ہے جب ان کے سابق دور اقتدار میں امریکی مالیاتی ماہرین کی فریب دہی سے دنیا بھر کے سٹاک ایکس چینج دھڑام سے گر گئے تھے اور بے شمار ملک امریکی مالی تعاون کے محتاج ہو گئے تھے مگر ملائیشیا واحد ملک تھا جس نے جھکنے سے انکار کر دیا، انتہائی سخت تکالیف کو برداشت کیا اور عوام کے تعاون سے ملک کو نہ صرف شدید بحران سے نکالا بلکہ ملائیشیا کو دنیا بھر کے مالی طور پر مضبوط ترین ملکو ںکی فہرست میں شامل کر دیا۔ میرے سامنے مہاتیر محمد کی سوانح عمری پڑی ہے، حوصلہ مندی کی شاندار مثال۔شکریہ ملائیشیا!
٭76 سالہ ناصر زیدی ملک کے ممتاز، معروف شاعر و صحافی کالم نگار ہیں۔ مختلف موضوعات پر تقریباً ایک سو   سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں اِن میں چھ شعری مجموعے شامل ہیں۔ مشہور ادبی رسالہ ’ادب لطیف‘ کے 15 سال ایڈیٹر رہے اب پھر اس 80 سالہ قدیم رسالے کی ادارت سنبھالی ہوئی ہے۔ ناصر زیدی 19 ویں گریڈ میں وزیراعظم ہائوس میں سینئر سپیچ رائٹر (تقریر نویس) رہ چکے ہیں۔ اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان پر طویل عرصہ قبل فالج کا حملہ ہوا۔اس سے دائیں ٹانگ اورپائوں سُن ہوچکے ہیں۔ پھر بھی کام کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے 1100 سے زیادہ صفحات پر ’ادب لطیف‘ کا غالب نمبر نکالا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ وہ سخت مالی مشکلات کے شکار ہیں۔ سپیچ رائٹر خاص مدت کا کنٹریکٹ کا عہدہ ہے اس کی کوئی سرکاری پنشن نہیں۔ نہ ہی سرکاری علاج کی سہولت حاصل ہے۔ فالج کا علاج بہت وقت لیتا ہے۔ بہت مہنگا علاج ہے۔ مالی مجبوری کے تحت ناصر زیدی کا یہ علاج ایک عرصے سے بند ہے۔ ایک مسئلہ کہ سادات کو خیرات، زکوٰۃ یا صدقہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ناصر زیدی کا مسئلہ صرف علاج کا ہے جو سابق سرکاری ملازم یا ویسے بھی عام شہری کے طور پر ان کا حق بنتا ہے۔ مگر بار بار توجہ دلانے کے باوجود سرکار نے اتنی بڑی ادبی شخصیت کے علاج پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اس ملک کا ایک وزیراعظم لندن میں علاج کے نام پر دو ماہ آرام کرتا ہے۔ سرکاری خزانے سے تین کروڑ روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ ایک صدر ذاتی کاروبار کی نگرانی کے لئے دبئی کے ایک ہسپتال کا پورا فلور ریزرو کرا لیتا ہے مگر عوام کے شعور کی تہذیب کرنے والے ادیب، فن کار سرکاری علاج کی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں۔ مجھے اندازہ نہیں، اس تحریر کا سرکار دربار پر کیا اثر ہو گا! تاہم توجہ دلانا میرا فرض بنتا ہے۔ شائد اثر ہو جائے!!
٭اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے عجیب بیانات آ رہے ہیں۔ آزادی مارچ میں شریک ہوں گے، دھرنے میں نہیں بیٹھیں گے۔ عجیب سے اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ لاکھوں کارکنوں کو کہا گیا ہے کہ اپنے بستر، تولئے، پانی کی بوتلیں سوکھی خوراک وغیرہ ساتھ لے کر آئیں۔ جے یو آئی کے ایک رہنما کا بیان آیا کہ دھرنا یا لاک ڈائون نہیں ہو گا، صرف آزادی مارچ ہو گا (مارچ تو صرف چلتے رہنے کا نام ہے۔)جے یو آئی کے ہی دوسرے رہنما کا اعلان آیا کہ یہ بات غلط ہے، سب کچھ ہو گا!! ایسے میں وزیرداخلہ کا اعلان آیا ہے کہ کوئی مائی کا لال حکومت کو نہیں گرا سکتا۔
٭مقبوضہ کشمیر میںبھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید دو کشمیری باشندے شہید متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ لوگ کرفیو توڑ کر باہر نکل آئے تھے۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر پر کرفیو کے 66 دن پورے ہو گئے۔ کچھ اندازہ نہیں کب ہٹے گا۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی چھوٹی بیٹی التجا مفتی نے پھر سخت بیان دیا ہے کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو پنجرے میں بند رکھا جا رہا ہے۔ ایک بار کرفیو اٹھا کر دیکھو، کیا ہوتا ہے؟
a

تازہ ترین خبریں