09:30 am
کاش ......؟

کاش ......؟

09:30 am

وزیراعظم عمران خان نے دورہ چین کے دوران ایک تقریر میں حسرت سے کہا کہ کاش میں 500 لوگوں کو جیل میں ڈال سکتا ! جنہوں نے کرپشن کی ہے۔ انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ کاش وہ چینی صدر کی طرح اصلاحات کر سکتے۔ کبھی وہ مہاتیر ماڈل اپنانے کی بات کرتے ہیں اور اکثر تو ریاست مدینہ اپنانے کی بات کرتے ہیں۔ دورے پر جانے سے پہلے انہوں نے ایک لنگر کا بھی افتتاح کیا جہاں غریبوں کو مفت کھانا مہیا کیا جائے گا۔ اس سے قبل وہ شیلٹر ہومز بھی بنا چکے ہیں جہاں بے آسرا لوگوں کو رہائش اور کھانا مفت ملتا ہے۔
 
جبکہ وطن عزیز میں صورتحال دن بدن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ تاجر ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ انویسٹر بہتر اور منافع بخش منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ ہمارے نیب چیئرمین سعودی ماڈل کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سعودی  حکومت نے کرپٹ لوگوں کو ایک ہفتہ قید و بند میں رکھا تھا اگر انہیں صرف تین دن رکھنے کی آزادی مل جائے تو وہ لوٹی دولت واپس لے سکتے ہیں۔ جبکہ آئے روز خبریں گردش کر رہی ہوتی ہیں کہ زرداری اور نوازشریف لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں بس کچھ معاملات سیٹل کرنے باقی ہیں اور دونوں دولت واپس دے کر سیاست سے ریٹائر ہو جائیں گے اور ملک سے باہر چلے جائیں گے اور ساتھ ساتھ ان خبروں کی تردید بھی ہوتی رہتی ہے۔ ہر بڑے کیس میں نامزد ملزمان مہینوں ریمانڈ پر ہیں۔
پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے سے پہلے بارہا یہی کہا کہ ملک کے اربوں ڈالر باہر کے بینکوں میں ہیں جو کہ ہم اقتدار میں آنے کے بعد واپس لے آئیں گے مگر پھر نجانے اقتدار میں آنے کے بعد وہ دولت بھی واپس نہ آسکی بلکہ اس رقم کے عدم وجود کے بارے میں بتا دیا گیا۔ وزیراعظم نے چین جانے سےپہلے ایک تقریر میں یہ بھی کہا کہ ابھی تو تیرہ ماہ ہوئے ہیں اور لوگ گھبرا کر پوچھتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ حالات بہتر ہونے میں وقت لگتا ہے۔ کیا انہیں اندازہ نہیں کہ ہر آنے والا دن غریب کے لئے عذاب لے کر آرہا ہے۔
یہ امر خوش کن ہے کہ ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعدادمیں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے مگر یہ اضافہ اسی وقت سودمند ہوگا جب ٹیکس اداکرنے والوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا تاکہ ٹیکس کی رقم میں بھی اتنی رفتار سے اضافہ ہو جبکہ معروضی حالات تو یہ ہیں کہ کاروبار کا پہیہ بہت سست رفتار ہو چکا ہے۔ مہنگائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ لوگوں کی خریداری کی استطاعت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ نیب ایک دہشت کی علامت بن چکی ہے جبکہ بڑے بڑے کیسوں میں ابھی تک کامیابی نہیں ہو پائی۔ سب بڑے ریمانڈ پر ہیں ان کے خلاف ابھی تک عدالتوں میں کیس بھی دائر نہیں ہو پائے۔
کاش وزیراعظم اس حسرت کا بھی اظہار کرتے کہ کاش میں لوگوں کو روزگار دے سکتا۔ کاش میں مہنگائی کے جن کو زیر کر سکتا کاش میں کاروباری اور سرمایہ کار حضرات کو بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کر سکتا تاکہ ملک میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔ کاش میں وطن عزیز میں خوشحالی لا سکتا۔ کاش میں گڈ گورننس دے سکتا جس کا میں نے وعدہ کیا تھا۔
وزیراعظم کے اخلاص میں کوئی شک نہیں ۔ان کی دیانتداری بھی ہر قسم کے شبہ سے بالاتر ہے لیکن یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ جس نظام کو وہ گلا سڑا کہتے تھے اور اسے بدلنے کا عزم رکھتے تھے پھر اسی نظام کو کیوں ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اگر ریاست نے مدینہ ماڈل پر چلنا ہے تو پھر اسی پر کام کریں ۔یوں حسرت سے کبھی چین، کبھی سعودی ماڈل کا تذکرہ نہ کریں۔ ریاست مدینہ ماڈل تو فلاحی مملکت کا بنیادی سٹرکچر مہیا کرتی ہے۔ اس پر سنجیدگی سے کام تو شروع کریں۔ ملکی سرمایہ کاروں کی عزت نفس بحال کریں ان پر اعتماد کریں انہیں اعتماد میں لیں۔ آرمی چیف نے چند بڑے سرمایہ کاروں سے ملاقات میں انہیں تعاون کا یقین دلایا ہے۔ حکومتی وزراء بھی بس ایک نکاتی ایجنڈے پر کام شروع کریں کہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے ایک خوشگوار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ ملکی پیداوار بڑھے۔ چھوٹے کاروبار ترقی کریں۔ زراعت پر خصوصی توجہ دیں۔ جب تک ملک اقتصادی اور معاشی طور پر مستحکم اور مضبوط نہیں ہوگا سیاسی خودمختاری ہمیشہ مشکل میں رہے گی۔ عمران خان اب بھی عوام میں مقبول ہیں اکثریت ان پر اعتماد کرتی ہے۔ کاش آپ بھی ان پر اعتماد کریں اور ان کے مسائل حل کرنے میں ان کا ساتھ دیں۔
کشمیری ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ یو این میں جس طرح آپ نے نہ صرف کشمیر بلکہ عالم اسلامی کے موقف کو اجاگر کیا ہے یقینا بے مثال ہے۔ مگر ہماری غربت ہمارے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان حالات میں ہمیں اپنی فوج کو بھی جدید ترین اسلحہ سے لیس کرنا ہے۔ ڈالر کی اونچی اڑان نے حقیقی ٹرم میں فوج کا بجٹ کم کر دیا ہے جبکہ بھارت نئے طیارے ، نئی ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ہمیں ایک مستحکم اور مضبوط معیشت درکار ہے تاکہ عوامی اور دفاعی ضروریات احسن طریقے سے پوری کی جا سکیں۔ لوگوں کو روزگار کمانے کے مواقع دیں نہ یہ کہ وہ لنگر سے مفت کھانے کے عادی ہوتے چلے جائیں۔
 

تازہ ترین خبریں