09:31 am
تاجروں کے کام کی باتیں

تاجروں کے کام کی باتیں

09:31 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
  اس میں طے یہ کیا کہ ایک ہزار موٹرسائیکل کی قیمت کی مد میں اور ایک ہزار کرایہ کی مد تو یہ طریقہ ناجائز ہے کیونکہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے۔
نیلامی کی بیع: باہمی رضامندی کیساتھ نیلامی کی صورت میں کسی چیز کی خریدوفروخت کرنا جائز ہے مگر اس میں بھی کئی ناجائز صورتیں آ چکی ہیں، آج کل جو صورت بہت عام ہو چکی ہے وہ یہ کہ فقط شے کی قیمت بڑھانے کیلئے بولی لگائی جاتی ہے، خاص اس کام کیلئے آدمی رکھے جاتے ہیں جنہوں نے وہ شے تو خریدنی نہیں ہوتی بس دوسروں کو اس چیز کی زیادہ قیمت دینے پر اُبھارنا ہوتا ہے۔ صدر الشریعہ، بدرالطریقہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمدامجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نجش مکروہ ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، نجش یہ ہے کہ مبیع قیمت بڑھائے اور خود خریدنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے گاہک کو رغبت پیدا ہو اور قیمت سے زیادہ دیکر خرید لے اور یہ حقیقتاً خریدار کو دھوکہ دینا ہے۔
جعلی مہر: بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ صورت بھی بہت رائج ہوتی چلی جا رہی ہے کہ شے تیار ہوتی ہے پاکستان میں مگر اس پر مہر (سٹمپ) لگتی ہے میڈ اِن جاپان یا میڈ اِن کوریا وغیرہ، یہ سیدھا سیدھا جھوٹ اور دھوکہ ہے جوکہ ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانیوالا کام ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنزالایمان: ’’جھوٹوں پر اللہ کی لعنت‘‘۔ (پ3، سورۃ آل عمران،61) دھوکے کے متعلق سرکارِ عالی وقار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ خیال رہے! اس کام میں کئی افراد گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جعلی مہر لگانے والا، اسے بنانے والا، شے پر لگانے والا اور وہ دکاندار جو یہ شے آگے جھوٹ بول کر بیچتا ہے۔ 
جعلی بل: پرچیزنگ آفیسر کا زیادہ بل بنوانا مثلاً 100 کی چیز کا 110 میں بل بنوانا اور اضافی رقم اپنے پاس رکھنا یہ حرام ہے کہ یہ دھوکہ ہے۔ دکاندار کا ایسا بل بنا کر دینا بھی حرام کیونکہ وہ گناہ میں معاونت کر رہا ہے جوکہ حکم قرآنی (’’لَاتَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ‘‘ (پ6، سورۃ المائدہ2) ترجمہ کنزالایمان ’’گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو‘‘) کے صریح خلاف ہے۔ اسی طرح ایکسپورٹ کے کاروبار میں جعلی بل بنا کر یا کسی سے بل خرید کر زیادہ خریداری دکھانا تاکہ حکومت سے زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کیا جائے حرام ہے۔ اس طریقے سے لئے گئے نفع کا کوئی استعمال جائز نہیں بہرصورت حکومت کو واپس کرنا ہی ہو گا۔
مضاربت اور شراکت کی ناجائز صورتیں: مضاربت میں رَاس المال (سرمایہ) کا نقدی کی صورت میں ہونا ضروری ہے، اگر اسکی جگہ دوبوری گندم دیکر کہا کہ اس سے کاروبار کرو تو یہ ناجائز ہے۔ (۲)اسی طرح رَاس المال کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ کتنا ہے، اگر کسی نے تھیلے میں پیسے ڈال کر دیدئیے، اب نہ دینے والے کو پتا کہ کتنا ہے اور نہ لینے والے کو تو یہ جائز نہیں۔ (۳)مضاربت میں یہ شرط لگانا کہ نقصان دونوں کا ہو گا یا صرف مضارب کا ہو گا ناجائز ہے کیونکہ مکمل خسارہ رب المال (انویسٹر) نے برداشت کرنا ہوتا ہے۔ کاروبار میں نفع ہوا ہے تو نفع سے پورا کیا جائیگا ورنہ سرمائے سے پورا کیا جائیگا لہٰذا ایسی کسی شرط کا کوئی اعتبار نہیں، یہ شرطِ فاسد ہے… البتہ اس کی وجہ سے مضاربت فاسد نہیں ہوتی۔ (۴)فریقین کا نفع عدد کے حساب سے مقرر کر لینا کہ ہر مہینے دو ہزار یا سالانہ پچیس ہزار یہ ناجائز ہے کیونکہ نفع فیصد کے حساب سے طے کیا جانا ضروری ہے۔ کوئی کاروبار پہلے ہی سے شروع ہے اب اس میں شرکت کرنا یہ بھی جائز نہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ شرکت بالمال میں دونوں طرف سے نقدی کا ہونا ضروری ہے، اگردونوں طرف سے سامان ہو یا ایک طرف سامان اور ایک طرف سے نقدی تو شرکت جائز نہیں مثلاً ایک شخص کی کریانہ کی دکان ہے جس میں آٹا، دال، چاول وغیرہ بہت سی چیزیں موجود ہیں اور اسکا کام بھی چل رہا ہے اب اس نے شرکت کیلئے کسی سے ایک لاکھ روپے لیکر دکان میں شامل کرلئے یہ ناجائز ہے کیونکہ اسکا ایک لاکھ روپیہ کن کاموں میں لگا اسکا کتنا نفع اور کتنا نقصان ہوا اسکا حساب چلتے ہوئے کام میں رکھنا بہت مشکل ہے۔ محیط برہانی میں ہے، شرکت جب مال کیساتھ ہو تو شرکت عنان اور مفاوضہ جائز نہیں مگر جبکہ دونوں کا مال وہ ثمن ہو جو عقودِ مبادلہ میں متعین نہیں ہوتے جیسے درہم و دینار اور جو چیزیں عقودِ مبادلہ میں متعین ہو جاتی ہیں جیسا کہ سامان تو اس میں شرکت درست نہیں، چاہے یہ سامان دونوں کا رَاس المال ہو یا ان میں سے کسی ایک کا ہو۔ ہاں اگر اس نے ان روپیوں میں کوئی نئی آئٹم لا کر رکھ لی اور اسکا حساب بھی الگ ہی رکھتا ہے تو جائز ہے۔ مجہول کمپنی کا حصہ دار بننا، اسکی صورت یہ ہے کہ مارکیٹ میں بعض کمپنیاں انائونس ہوتی ہیں کہ فلاں کمپنی مارکیٹ میں اپنے شیئر لا رہی ہے، اسکے شیئر بکنا شروع ہو جاتے ہیں حالانکہ اس کمپنی کا وجود ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی اسکے اثاثے وجود میں آئے ہوتے ہیں جبکہ مارکیٹ میں پرچیاں بک رہی ہوتی ہیں، اسکے جواز کی بھی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ خریدوفروخت کی شرائط میں سے ہے کہ جو چیز بیچی جا رہی ہو وہ موجود بھی ہو۔ 


 

تازہ ترین خبریں