09:32 am
توحید اور آخرت

توحید اور آخرت

09:32 am

قارئین!سورۃالواقعہ ہمارے زیر مطالعہ ہے۔ اس کی 56 آیات ہم پڑھ چکے ہیں۔ اِن آیات میں پہلے اہل جنت کے دو درجات اور پھر اہل جہنم کے احوال کا ذکر ہے۔ قرآن حکیم کا یہ وہ مقام ہے جہاں پر مقربین کا ایک خاص درجہ بیان کیا گیا ہے۔ جنت اور جنت کی نعمتوں کا تفصیل سے ذکر سورۃ الرحمن میں بھی آیا ہے اوراس سورت میں بھی۔ اسی طرح یہاں اہل جہنم کے احوال کا بھی ذکر ہے۔ جنت اور جہنم کے تذکرہ میں جو اصل پیغام ہے اس کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن حکیم در اصلجنت اور جہنم کا بار بار تذکرہ کر کے یہ پیغام دے رہا ہے کہ آخرت میں دو ہی مقامات ہیں:جنت اور جہنم ۔ اس کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ (وانھا لجنۃ ابدا اولنار ابدا) یعنی آخرت میں یا تو جنت ہے ہمیشہ ہمیشہ کی ،یا پھر جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ یہ دو ہی مقامات ہیں، بیچ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔آدمی یا توجنت کا مستحق ہو گا یا پھر جہنم میں جائے گا‘ لہٰذا ہم آخرت کے حوالے سے کوئی رسک نہیں لے سکتے۔ یہ تسلی نہیں دے سکتے کہ جنت میں نہ گئے تو اس سے کم تر درجے کی آسودگی کے کسی اور مقام پر چلے جائیں گے۔ نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ اگر جنت حاصل نہ کر سکے تو نا کامی کی صورت میں خسران عظیم اور نار جہنم کا سامنا کرنا ہو گا اور اس کے ہم ہر گز متحمل نہیں ہو سکتے۔ آیات 1 تا 56 کا مطالعہ ہم پچھلے جمعہ کر چکے ہیں۔ آج ہم آیات 57 تا74 کا مطالعہ کریں گے، ان شاء اللہ۔ ان آیات میں جھنجوڑنے کا انداز ہے۔ مکی سورتوں کا ایک خاص اسلوب ہے کہ مختلف انداز سے انسان کو سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اُسے دعوت فکر دی جاتی ہے کہ اپنے باطن میں جھانکو، زمین وآسمان اور مظاہر قدرت پر غور کرو،تمہیں قرآن کی دعوت دل کی آواز محسوس ہو گی۔ یہاں وہی انداز ہے۔ فرمایا:’’ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے ،تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟‘‘
دیکھو تو ہم ہی نے تمہیں اور کل کائنات کو پیدا کیا ہے۔ خالق تم نہیں، ہم ہیں ۔ ہم نے جب پہلی بار تمہیں  پیدا کیا تو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں۔ پھر تم آخرت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے، ان حقائق کو تسلیم کیوں نہیں کرتے جو تمہیں بتائے جا رہے ہیں۔ بتانے والے کون ہیں؟ نبی کریمﷺکی الصادق اور الامین ہستی۔ تم خود انہیں صادق اور امین مانتے ہو۔ تم تو پستیوں میں پڑے ہو اور شرک اور کفر کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں غرق ہو، لیکن تمہارے مابین ایک روشن دمکتاہوا خورشید ہدایت بھی ہے، جس کو تم نے الصادق اورالامین مانا ہے۔ آپؐ سب سے زیادہ معتبرہستی ہیں۔ پھر آپؐ جو دعوت حق پیش کرتے ہیں ،جو تمہاری فطرت کے عین مطابق ہیں اُسے تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ حالانکہ تمہارا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ حق ہے اور کہنے والا بھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔یہی مضمون سورۃ الطور میں بھی آیا ہے۔ فرمایا: ’’کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں یا خود اپنے خالق ہیں۔ یا زمین و آسمان کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔‘‘ (آیات:36,35 )  تمہارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق پر ایمان لانے کو تیار نہیں۔ تم زبان سے یہ اقرار کرتے ہو کہ اللہ ہی تمہارا اور کائنات کا خالق ہے۔ لیکن اگر واقعی تمہیں اس بات کا یقین ہوتا تو نبی مکرمﷺ کی طرف سے جن حقائق پر ایمان لانے کی دعوت دی جاری ہے، اُن کی تکذیب نہ کرتے، خدائے واحد کی بندگی کی دعوت کو لپک کر قبول کرتے اور آپؐ کی مخالفت ہر گز نہ کرتے۔  آگے پھر دعوت فکر دی جا رہی ہے کہ اپنی خلقت پر غور کرو۔
 ’’دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (رحم میں) ڈالتے ہو، کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔‘‘
 تم یوں تو بڑھ چڑھ کر باتیں بناتے ، رسول کی تکذیب کرتے ، حق کو سوچے سمجھے بغیر بے دریغ جھٹلا تے اور اللہ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہو۔( آج کے دور میں اس قسم کی گستاخیوں کی انتہا یہ ہے کہ ملعون ٹیری جونز جیسا شیطانی ٹولہ قرآن جلا تا اور لوگوں کو ایسا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔)لیکن کیا کبھی تم نے غور نہیں کیا کہ تمہاری اصل حقیقت کیا ہے؟ تمہاری تخلیق گندے پانی کی ایک بوند سے ہوئی ہے،اور پانی کے اُس قطرہ کو جو تم ٹپکاتے ہو، جس سے پھر ایک بچہ پیدا ہوتا ہے، کیا تم اُس کو بناتے اور اس سے بچے کی صورت گری کرتے ہو، یا اللہ ہی اس کی صورت گری کرنے والا ہے۔ باپ اولاد کا خالق نہیں ہے۔اُس کا رول محض اتنا ہے کہ جو ذکر کیا گیا ہے۔ اُس نے تو بس پانی کا ایک قطرہ ٹپکا دیا۔اس کے بعد وہ قطرہ رحم مادر میں کن مراحل سے گزرا، کس طور سے اُس کی صورت گری ہوئی،باپ کو کچھ پتا نہیں ہے۔ نطفہ میں بچہ پیدا کرنے کی اور لازماً انسان ہی کا بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کس نے رکھی؟ نطفہ کو درجہ بدرجہ تخلیق وپروش کے مراحل سے گزار کر ہر بچے کی الگ صورت گری کس نے کی؟ اُس میں مختلف ذہنی وجسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب سے کس نے رکھا ؟کہ وہ ایک خاص شخصیت کا انسان بن کر اُٹھے۔ کیایہ ماں باپ کا کام ہے یا یہ سب کچھ ایک اللہ کی کاریگری ہے ۔ بلاشبہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی صفت تخلیق کا مظہر ہے کہ وہ  ایک  قطرے سے انسان بنا دیتا ہے۔ سائنس دانوں کو یہ بات آج معلوم ہوئی کہ انسان رحم مادر میںکن کن مختلف مراحل سے گزرتا ہے، مگر قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے انسان کی تخلیق کے مراحل کو صاف صاف بیان کر دیا تھا۔ تو ان چیزوں پر غور کرو، تمہیں خالق یاد آئے گا، جس کی شہادت تمہاری فطرت میں موجود ہے۔آگے فرمایا:
’’اور ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے ۔‘‘
اس کا ترجمہ مختلف انداز میں کیا گیا ہے۔ ایک ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے تمہارے درمیان معیّن وقت میں موت کو ٹھہرا رکھا ہے۔ ایک بچہ جو مختلف مراحل سے گزر کر پیدا ہوتا ہے اُس کا خالق بھی اللہ ہے اور اسی نے یہ طے کر دیا ہے کہ ایک وقت اُس پر موت بھی آنی ہے۔ یہ بھی اُسی کا فیصلہ ہے کون کب اور کہاں مرے گا۔ کون ماں کے پیٹ میں ختم ہوگا؟ کون بالکل شیرخوارگی میں  مر جائے گا؟ کون کتنے دن زندہ رہے گا؟اس کافیصلہ اُسی نے کیا ہے۔ زندگی اور موت کا فیصلہ اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ اِس میں تمہارا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔        ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں