09:33 am
جلوۂ بے باک

جلوۂ بے باک

09:33 am

ہرصبح سینکڑوں ای میل اورخطوط ایسے بھی ملتے ہیں جس میں قارئین اکثرخاصے غصے میں جھنجلائے پاکستان کی سلا متی کے بارے میں بڑے پریشان کن سوال کرتے ہیں،فون پربہت دیرتک اس بات کی تکراررہتی ہے کہ تم ہروقت اس زخم خوردہ کاماتم کرتے رہتے ہو۔اس کے لٹ جانے کامنظرپیش کرکے خودتوپتہ نہیں روتے ہوکہ نہیں مگرہمیں رلاتے رہتے ہو۔کیابات ہے کہ چندحروف تسلی کے یاچندامیدبھری باتیں کیوں نہیں کرتے؟یہ محبت بھری شکایات جب ان کومیری طرح مایوسی کے اس لق دق صحرامیں پریشان کرتی ہیں تو یہ جی بھرکرمجھ سے لڑتے جھگڑتے ہیں کہ چلوٹھیک سہی مگراس کاجوحل تم تجویز کررہے ہواس پرعملدرآمدکب ہوگا اور اس  پرکوئی کان بھی دھرے گاکہ نہیں؟میں ان کے یہ تمام مطالبے سن کرحیرت میں گم ہوجاتاہوں کہ مدتوں جس شان و شوکت اور عظمت رفتہ کے لٹ جانے کامیں ماتم کر رہا ہوں،جن اقدارکی تباہی کاہرروزنوحہ لکھتاہوں اس کے اسباب کی نشاندہی ،اس کااپنی عقل کے مطابق علاج بھی تجویزکرتاہوں کہ اپنی انہی گم گشتہ اقدارکی طرف لوٹ جانے میں ہی ہماری عافیت ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ واپسی کاسفرکیسے ہو؟
ہم توشایدبہت دورنکل آئے ہیں،زمانہ بھی بدل گیاہے۔اس دورکے تقاضے کچھ اورتھیاوراس دورکے مطالبے کچھ اورہیں۔اب سفرکیلئے گھوڑوں اونٹوں کی بجائے سپرسانک جہاز اورتلوارکی بجائے خطرناک قسم کے ایٹمی ہتھیارمیدان میں آگئے ہیں،بغیرپائلٹ کے میزائل برسانے والے ڈرون جہازآگئے ہیں۔یہ ان لوگوں کے جواب ہیں جوکہ ان اقدارکی طرف جانے سے گریزکرتے ہیں لیکن میں اس وقت حیران ہو جاتا ہوں کہ عدل وانصاف قائم کرنے کیلئے ایسے کون سے ایٹمی ہتھیاروں،میزائلوں کی ضرورت ہے؟عدل توایک درخت کے نیچے ننگی زمین پربیٹھ کربھی کیاجاسکتاہے۔انصاف کے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے کسی جدید کمپیوٹر یاکسی ایسے آلے کی بھی  ضرورت نہیں۔عہد،قول اور وعدہ توصدیوں سے قوموں کی دیانت اور غیرت کی پہچان رہاہے اورسچ بولنے کیلئے کسی ایسے سا ئنسی جدیدآلات اورٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہوتی،یہ توانسانوں کے بیدارضمیرکالازمی جزوہوتا ہے۔وہ چاہے کسی مقام یاکسی بھی عہدے پرفائزہوں ان کودھوکے،جھوٹ،دغابازی اورمکاری سے نفرت ہوتی ہے۔وہ توسچ کے نشے میں اس قدرمست ہوتے ہیں کہ دھوکے ، جھوٹ،دغابازی اورمکاری کی ترشی بھی ان کے قریب تک نہیں پھٹکتی۔وہ توسچ کے سحرمیں اس قدرگرفتارہوتے ہیں کہ اس کیلئے  ا پنی جان تک قربان کردیتے ہیں۔ بڑے سے بڑے نقصان اورہزیمت کوبھی خاطرمیں نہیں لاتے۔یہ سب کچھ غربت،تنگدستی اورکسمپرسی کی حالت میں بھی ہوسکتاہے۔کسی ایم آئی ایف یا عالمی  بینک کی مدددرکارنہیں ہوتی۔
جب سے یہ اقدارہمارے ہاں متروک ہوئی ہیں اس وقت سے ذلت اوررسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے۔یہ تووہ اقدارتھیں جن کی وجہ سے اس امت پر رحمتوں اور برکتوں کاسایہ اور دوسری قوموں کے دلوں پرہیبت،رعب اوردبدبہ چھایا ہوا تھا۔دوسری اقوام کے دانشوربھی یہ بات لکھنے پر مجبورہوگئے کہ اسلام میں اگرایک اور عمرؓ ہوتا تو ساری دنیاپراسلام کانظام عدل قائم ہوجاتا۔مغربی دنیاکایہ دانشورایک مشہورعیسائی خانوادے سے تعلق کے باوجوداپنی کتاب ’’سوبڑے آدمی‘‘ میں پہلا  مقام سیدنامحمد ؐ، دوسرامقام سیدنا حضرت عمرؓ  اور تیسرامقام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دینے  پرمجبورہوگیا۔
روم کاسفیرمدینے کی گلیوں میں اس نظام عدل کوقائم کرنے والے بادشاہ کے بارے میں استفسار کررہا تھاتو اس کوبتایاگیاکہ ہمارے ہاں توکوئی بادشاہ نہیں مگر ایک آدمی کوہم نے اپنا منتظم مقررکررکھاہے۔اگراس سے ملنے کی خواہش ہے تووہ سامنے درخت کے نیچے ایک پتھر پرسررکھے سورہاہے۔ ہرقسم کے خطرات سے بے پرواہ چندگھڑیوں کیلئے آرام کرنے والے کے چہرے کی طرف دیکھ کربے اختیارپکاراٹھاکہ یقینااس عادلانہ نظام کی بدولت دنیاکی قیادت وسیادت ان کا حق ہے،حالانکہ یہ تووہی عرب تھے جن کے بارے میں ایران کے بادشاہ نے بڑے تمسخرکے ساتھ کہاتھا کہ’’اے عرب کے جاہل اورگنواربدوئو!کیاتم وہی نہیں ہوکہ جب تم کبھی کوئی شوروغوغاکرتے تھے توہم صرف اپنے چند سرحدی محافظوں کوکہتے کہ تمہارادماغ درست کردیں توتم فوری دبک کراپنے صحرائی خیموں میں چھپ جاتے‘‘ شاعر فردوسی نے اس منظرکواپنے شاہنامہ میں اس طرح محفوظ کیاہے۔
شیرشترخوردن سوسمار     
عرب رابجائے رسیداست وکار
کہ تخت کیہاںراکنندآرزو   
      تفوبرتواے چرخ گرداں تفو
اونٹنی کاددھ پینے اورجنگلی گوہ کاگوشت کھانے والوعربو!تم کوکیاسوجھی کہ تم ایران کے تخت کی آرزو کرنے لگ گئے ہو۔کیامنظرہے یہ اے آسماں،تم پرتفو ہے۔
لیکن کیاکبھی کسی نے یہ سوچاہے کہ ان جاہل، گنواراورصحرانشیں بدوئوں کی حالت کس سائنسی ترقی اورٹیکنالوجی نے بدلی تھی۔ترقی اور ٹیکنالوجی تواس وقت بھی اپنے زمانے کے مطابق اپنے عروج پرتھی۔وہ جواہرام مصرکی پیمائشوں اورتقویمی گرہوں کوکھولتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان اس وقت بھی الجبرا اورسائنس کی معراج پرتھا۔روم اپنی بلندیوں کوچھو رہا تھا۔ایران کے دربارکی شان وشوکت اورتزک واحتشام دیکھنے کے لائق تھا۔بابل اورنینوا کے معلق باغات اورمحلات کے پرشکوہ تذکرے اب تا ریخ کاحصہ بن چکے ہیں۔پھر ایسا کیاتھاکہ میرے رب نے اس دنیاکی قیادت وسیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ دی جن کے گال بھوک کی وجہ سے پچک اور پیٹ کمرکے ساتھ لگ گئے تھے، جن کو تلواروں کے نیام تک میسرنہیں تھی اورپرانے چیتھڑوں سے ان تلواروں کو ڈھانک کررکھتے تھے۔وہ کیاصفات تھیں کہ ان کے ہاتھوں میں صرف سیاسی نہیں بلکہ دنیاکی علمی اور سائنسی قیادت بھی آگئی ۔     ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں