09:35 am
ایک بات پوچھوں؟ مارو گے تو نہیں؟

ایک بات پوچھوں؟ مارو گے تو نہیں؟

09:35 am

آج کشمیر کے عوام یہ سوالات اٹھانے پر مجبور ہیں کہ ’’اگر کلاشنکوف لے کر ایل او سی کو کراس کریں تو تم دہشت گرد کہتے ہو، کلاشنکوف کے بغیر ایل او سی پر جائیں تو بے وقوف کہتے ہو، تم سے کشمیر کو آزاد کروانے کی بات کریں تو کہتے ہو کہ کشمیریوں کی جنگ ہے، کشمیری اپنی جنگ خود لڑنے کے لئے میدان میں آئیں تو کہتے ہو یہ بھارتی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ تم سے ایک بات پوچھوں مارو گے تو نہیں؟ کہیں تم میر جعفر اور میرصادق تو نہیں؟ ان سوالات کا جواب کسی صاحب اقتدار کے پاس ہے تو وہ ضرور دے ۔ وہ جو جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کی مشہور زمانہ تقریر تھی۔ اس تقریر سے کیا کشمیر میں کرفیو ختم ہوگیا؟ کیا بدمعاش نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کر دیا؟ کیا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی مظالم میں رتی بھر برابر بھی کمی آئی؟ اگر نہیں تو پھر جنرل اسمبلی کی اس تقریر کو کسی بڑے مرتبان میں ڈال کر اس کا اچار بنالیا جائے اور تقریر کا وہ اچار وفاقی اور صوبائی وزراء کی فوج ظفر موج میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ ان کے ہاضمے درست ہوسکیں۔
 
’’تقریر‘‘ کا ڈھول پیٹنے والے حکمران کیا  اس بات سے بے خبر ہیں کہ گزشتہ آٹھ دنوں سے  کنٹرول لائن سے صرف سات، آٹھ کلومیٹر دور آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوان، بچے اور بوڑھے دھرنا دیئے بیٹھے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایجنڈے کی بعض شقوں سے مجھے بھی اختلاف ہے، سخت اختلاف ، لیکن اس کے باوجود کشمیر کو بھارتی غلامی سے آزادی کروانے کے لئے ان کی قربانیوں اور تڑپ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ چناری کے مقام پر دھرنا دیئے بیٹھے ہزاروں نوجوان نہ تو پاگل ہیں اور نہ ہی جذباتی بلکہ وہ تو اپنی جانوں کو ہتھلیوں پر لئے دنیا کی منافقت کو بے نقاب کرنے کی کوششیں کررہے ہیں، پاگل تو وہ ہیں جو جنرل اسمبلی میں ایک تقریرکا ڈھول جذباتی انداز میں پیٹ پیٹ کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید اس ایک تقریر کی بدولت کشمیر آزاد ہو جائے گا؟ ان  کو کوئی بتائے کہ یہ بھیک نہیں  آزادی ہے اور ’’آزادی‘‘ کبھی مطالبات تقریروں، تحریروں، نعروں اور دیواروں کی چاکنگ سے نہیں ملا کرتی۔ آزادی حاصل کرنے کے لئے آگ اور خون کے دریا عبور کرنا پڑتے ہیں ۔
آزاد کشمیر کے باسیوں کی رشتہ داریاں مقبوضہ کشمیر والوں کے ساتھ قائم ہیں، ایک بھائی اگر ادھر ہے تو دوسرا اُدھر، بھتیجا اگر ادھر ہے تو چچا اُدھر، بیٹا اگر ادھر ہے تو ماں دوسری طرف رہتی ہے ۔ اس لئے اسلام آباد والوں کی طرح وہ پرسکون کیسے رہ سکتے ہیں؟ اسلام آباد میں بیٹھ کر چناری میں دھرنا دیئے بیٹھے ہوئوں کو یہ مشورہ دینا بڑا آسان ہے کہ  ایل او سی کو روندے کی کوشش کی گئی تو بھارتی فوج، ہجو م پر گولیاں چلا دے گی، بالکل چلا دے گی ، اگر اس کا اسلام آباد والوں کو ادراک ہے تو چناری والوں  کو بھی اس کا خوب ادراک ہے، لیکن پھر کیا کیا جائے؟
بھارتی گولیوں کے خوف سے رضائیاں اوڑھ کر سو جائیں؟ ہاتھوں میں چوڑیاں اور پائوں میں گھنگرو باندھ کی ڈھول کر تھاپ پر رقص کیا جائے؟
آپ نے عالمی برادری کی منتیں کرکے دیکھ لیں… جنرل اسمبلی میں دھواں دار تقریر کرکے بھی واہ واہ کروالی، دنیا بھر کے سفارت خانوں کو بھی متحرک کرکے دیکھ لیا ، اینٹ کا جواب پتھر سے د ینے کی باتیں بھی کرلیں۔ پاکستان کے گلی کوچوں میں جلوس اور مظاہرے بھی کئے، حتیٰ کہ لندن اور امریکہ میں بھی کشمیری عوام کے حق اور بھارت کی مخالفت میں مظاہرے ہوئے ، لیکن اس سب کے باوجود بھی اگر دو ماہ سے زائد مدت ہونے کو ہے، کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے، کشمیری عوام پر بے گناہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں، کشمیر کی مائیں، بہن ، بیٹیاں مدد کے لئے پاک فوج کو پکار رہی ہیں تو پھر کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔
اگر اسلام آباد کے حکمران کچھ نہیں کریں گے تو پھر آزاد کشمیر کے بچے، بوڑھے اور جوان اور کچھ نہ کرسکے تو ایل او سی پر آزادی کے نعرے لگا کر بھارت کی گولیوں کو سینوں پر تو جھیل ہی لیں گے۔ ایسی زندگی سے موت بہتر کہ جس زندگی میں مائیں مدد کی منتظر رہیں، بہنیں مدد کے لئے پکارتی رہیں اور ’’بیٹے‘‘ عیش و عشرت میں مصروف رہیں۔ بھائی گلچھرے اڑاتے رہیں، یہ ہے وہ سوچ کہ جس سو چ کے تحت آزاد کشمیر کے ہزاروں جوان ایل او سی سے چند کلومیٹر دور چناری کے مقام پر گزشتہ8 دنوں سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں   ، یقینا اس طرح سے ایل او سی کو روند ے کی کوئی بھی کوشش خون کی ندیاں بہانے کا موجد بنے گی۔
لیکن ملین ڈالرز کا پھر سوال وہی ہے کہ آخر کیا کیا جائے کہ خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر کشمیر آزاد ہو جائے؟ میں یہ نہیں کہتا کہ ’’جہاد و قتال‘‘ کی مقدس عبادت کے فریضے کو سرانجام دینے کی  کوشش کی جائے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جہاد و قتال کی بات لکھنے سے صرف قادیانی ملعونوں ہی نہیں بلکہ غامدیوں کی بھی ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر اسلام آباد کے حکمران جہاد نہیں کرنا چاہتے نہ کریں، کم از کم وہ ’’پتھر‘‘ تو وہیں کہیں پھینک دیں کہ جو انہوں نے بھارتی ’’اینٹ‘‘ کا جواب دینے کے لئے جمع کررکھے ہیں ہم جیسے طالبعلموں کا کام تو غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہے چاہے وہ حکومت وقت کی غلطی ہو یا چناری میں دھرنا دیئے بیٹھے کشمیری نوجوانوں کی ، کیونکہ میرا تاثر یہ ہے کہ حکومت ہو یا چناری میں دھرنا دینے والی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ، دونوں ’’جہاد‘‘ کے بغیر کشمیر فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
میں قادیانیوں اور غامدی کے فکری بیماروں کو نکال کر حکومت کے ترجمانوں اور جے کے ایل ایف کے قائدین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ موجودہ آزاد کشمیر کو بھارت کے خون آلود منہ سے چھیننے کیلئے جلسے کیے گئے تھے، جلوس نکالے گئے تھے یا پھر مذاکرات کیے گئے تھے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اکتوبر2019 ء میں یہ کیسے ممکن ہے کہ مقبوضہ کشمیر تقریروں، تحریروں، نعروں، ایل او سی پر دیئے جانے والے دھرنوں یا اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے خالی خولی دعوئوں کے زور پر آزاد ہو جائے گا۔جس طرح ستر سال قبل جہاد کی طاقت سے خطہ آزاد کشمیر کو آزادی ملی تھی بالکل اسی طرح مقبوضہ کشمیر کو عملی جہاد ہی کے ذریعے آزاد کروانے کی کوشش کی جائے گی تو کشمیر آزاد ہوکررہے گا۔ (وما توفیقی الا باللہ)


 

تازہ ترین خبریں